محکمہ انسانی حقوق کی دو سالہ کارکردگی قابل ستائش ہے،اعجاز عالم

  محکمہ انسانی حقوق کی دو سالہ کارکردگی قابل ستائش ہے،اعجاز عالم

  

 لاہور(لیڈی رپورٹر)صوبائی وزیر انسانی حقوق واقلیتی امور اعجاز عالم آگسٹین نے کہا کہ بلا شبہ صوبہ پنجاب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں سب سے پہلے پنجاب ہیومن رائٹس پالیسی 2018 کا اجراء کیا گیا اور ضلعی کمیٹیز صوبائی ہیومن رائٹس ٹاسک فورس کیلئے ابتدائی ادارے کا کام بھی کر رہی ہیں جبکہ ان کمیٹیز نے Covid-19 کے دوران بہترین خدمات سر انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ کی دو سالہ کارکردگی قابل ستائش ہے مگر ہم سب کو ایک بہترین ٹیم ورک کے طور پر آگے بڑھتے ہوئے مزید محنت کرنا ہوگی تاکہ صوبہ بھر میں انسانی حقوق کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے گزشتہ روز انسانی حقوق کے کیمپ آفس میں ایک محکمانہ اجلاس کی صدارت کے دوران کیا جبکہ اجلاس میں سیکرٹری انسانی حقوق ندیم الرحمان،ڈائریکٹر محمد یوسف سمیت محکمہ کے تمام افسران نے شرکت کی۔سیکرٹر ی ندیم الرحمان نے صوبائی وزیر کو دوران بریفنگ بتایا کہ گزشتہ دو سالوں میں وزیراعظم پاکستان کی جان سے سٹیزن پورٹل میں 55ہزار درخواستیں موصول ہوئیں،جن پر منا سب احکامات کے بعد متعلقہ ذمہ دار افسران اور محکمہ جات کو بھجوادیا گیا ہے جبکہ اس سسٹم کی پیشہ وارانہ تنصیب کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کرسچن میرج ایکٹ 1872ء کے تحت غیر قانونی شادیوں کی روک تھام اور نادرا میں رجسٹریشن کا عمل مزید شفاف بنایا جا رہا ہے جبکہ اس میں ترمیم کیلئے قوانین کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے اور مزید مشاورت بھی جاری ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب سکھ آنند کارج شادی کے رولز تیار کر لیئے گئے ہیں اور ان پر مشاورت کا عمل جاری ہے تاہم ان رولز کے تحت سکھ برادری با آسانی نادرا کے ساتھ اپنی شادیوں کو رجسٹرڈ کرواسکیں گے۔ڈائریکٹر محمد یوسف نے اجلاس کو بتایا کہ انسانی حقوق پالیسی کے تحت چائلڈ رائٹس،وومن رائٹس،مذہبی اقلیتوں کے حقوق،معذور افراد کے حقوق،سینئر شہریوں کے حقوق،خواجہ سراؤں وغیرہ کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایاجا رہا ہے جبکہ مجوزہ قانون سازی پر مشاورت کا خصوصی عمل جاری ہے۔بچوں کے حقوق کیلئے ایکشن پلان پر کام جا ری ہے۔محکمہ انسانی حقو ق کی جانب سے صوبہ بھر کے مختلف اداروں کو ٹریننگ کا سلسلہ جاری ہے، جس میں اگست 2018سے ابتک 101,758آفیشلز کو ٹریننگ دی جا چکی ہے جبکہ ان میں 50فیصد خواتین بھی شامل ہیں اور ان میں تعلیمی اداروں سے منسلک لوگ بالخصوص جیل میں قیدیوں کو بھی ٹریننگ دی جا چکی ہے۔اس کے علاوہ محکمہ نے پنجاب بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ کی آگاہی کے لیئے مختلف سیمینارز،ورکشاپ،مختلف نمائشی تقریبات جبکہ مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے بے شمار اقدامات کیئے ہیں۔صوبائی وزیر نے سیکرٹری ندیم الرحمان کو تاکید کی کہ محکمہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیئے جائیں کیونکہ انسانی حقوق کی حفاظت یقینی بنانے کے لئے دن رات کوششیں کرنا ہوں گی کیونکہ یہ ایک ایسا حساس معاملہ ہے جسکا سامنا ہر روز کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے تمام افسران کو بھی تاکید کی کہ انسانیت کی خدمت بلا شبہ ایک ایسا عمل ہے جسکے لئے اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو ہی چنتا ہے لہٰذا آپ سب اس نیک کام کے لئے ہر پل کوشاں رہیں اور جدھر بھی کوئی مشکل پیش آئے فوری میرے نوٹس میں لائیں تاکہ لوگوں کے حقوق کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ درپیش نہ آسکے۔  

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -