شہباز تتلہ قتل کیس،ملزمان کیخلاف عبوری چالان سیشن کورٹ میں پیش 

شہباز تتلہ قتل کیس،ملزمان کیخلاف عبوری چالان سیشن کورٹ میں پیش 

  

 لاہور (نامہ نگار خصوصی)شہباز تتلہ قتل کیس میں پولیس نے سابق ایس ایس پی مفخر عدیل اور دیگر ملزموں کے خلاف عبوری چالان سیشن کورٹ میں پیش کردیا ہے جس میں مفخر عدیل، اسد سرور اور عرفان علی کو ملزم نامزد کیا گیا ہے چالان میں 25 ثبوتوں کا ذکر ہے، سیف سٹی کے کیمروں کی فوٹیج کی سی ڈی کو بھی فائل کا حصہ بنایا گیا ہے چالان کے مطابق مفخر عدیل اور اسدبھٹی نے شہباز تتلہ کو کلمہ چوک سے اغوا کیا ملزمان نے شہبازکو مشروب میں میں نشہ آور چیز پلائی، کچھ دیر بعد شہباز تتلہ بے ہوش ہو گیا چالان مفخر عدیل اور اسد سرور بھٹی شہباز تتلہ کو اٹھا کر سٹور روم میں لے گئے مفخر عدیل نے شہباز تتلہ کے منہ اور ناک پر ٹیپ لگائی پھر وہ شہباز تتلہ کے منہ پر تکیہ رکھ کر بیٹھ گئے جس سیوہ جاں بحق ہو گیا  ملزمان نے شہباز کو نیلے ڈرم میں سر کے بل ڈال دیا  بعدازاں ملزمان نے ڈرم میں تیزاب ڈالا  تیزاب ملزم عرفان نے لا کر دیا  ملزموں نے محلول کو گھر کے گٹر میں ڈال دیا تھا  ملزمان نے ڈرم،تکیہ،کپڑے، تولیہ اور دیگر سامان گجومتہ نالا میں پھینک دیا  چالان میں بتایا گیا کہ سابق ایس ایس پی مفخرعدیل 12فروری کی رات اپنی رہائش گاہ لاہور سے اچانک پراسرار طور پر غائب ہوگئے تھے جبکہ ان کے دوست سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہبازتتلہ سات فروری کو اغوا ہوئے جس کا پولیس تھانہ نصیر آباد میں درج کیا گیا تھا۔پولیس نے دونوں کے مشترکہ دوست اسد بھٹی اور ملازم عرفان کو حراست میں لے کر تفتیش کی تو کیس کی الجھی گھتیاں سلجھتی رہیں اور پھر ایس ایس پی مفخر عدیل کو گرفتار کیا  پولیس تفتیش کے مطابق ملزمان نے سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہباز تتلا کو قتل کیا ہے جس کا بعدازاں دوران تفتیش ملزمان نے اعتراف بھی کیا۔دوسر ی جانب  لاہور ہائیکورٹ نے سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہباز تتلہ قتل کے مقدمے میں سابق ایس ایس پی مفخر عدیل کے شریک ملزم کی درخواست ضمانت پر فریقین کے وکلا کو یکم اکتوبر کو بحث کیلئے طلب کر لیا ہے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اسجد جاوید گھرال نے شریک ملزم اسد سرور بھٹی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

چالان، درخواست ضمانت

مزید :

صفحہ آخر -