توہین عدالت کی درخواستیں، سرکاری افسران کو نوٹس، جوابات طلب کرلئے گئے

  توہین عدالت کی درخواستیں، سرکاری افسران کو نوٹس، جوابات طلب کرلئے گئے

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائی کورٹ نے سی ای او ہیلتھ خوشاب کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر جواب طلب کرلیا،مسٹر جسٹس شمس محمود مرزا نے ٹیکنیشن میمونہ حسین کی درخواست پر سماعت کی درخواست گزار مؤقف اختیار کیاکہ اسکو عدالت کے حکم کے باوجود ہاؤس رینٹ نہیں دیا جا رہا درخواستگزارکے مطابق عدالت کے 11مئی 2020 کی پاسداری نہیں کی جا رہی درخواستگزارنے عدالت سے استدعا کی کہ سی ای او ہیلتھ خوشاب کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائے عدالت نے سی ای او خوشاب واجد علی شاہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے دوسری سماعت میں لاہور ہائی کورٹ نے سیکرٹری کمیونیکشن اینڈ ورکس پنجاب کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پرنوٹس جاری کردیئے،مسٹر جسٹس شمس محمود مرزا نے فیصل آباد کے ٹھیکیدار واحد ملک کی درخواست پر سماعت کی۔درخوستگزار نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے فیصل آباد  میں پولیس رہائش گاہوں بنانے کا کام بروقت مکمل کر لیا اسکو دیا گیا چیک کیش نہ ہوا۔درخواستگزار۔کے مطابق عدالت نے اسکی درخواست دادرسی کے لیے سیکرٹری کمیونیکشن اینڈ ورکس پنجاب کو بھجوا دی تاہم عدالت کے 30جون 2020 پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔درخواستگزار نے استدعا کی کہ عدالت سیکرٹری کمیونیکشن اینڈ ورکس پنجاب کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائے عدالت نے سیکرٹری کپٹن ریٹائرڈ اسد اللہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیاتیسری درخواست پر سماعت میں لاہور ہائی کورٹ نے  توہین عدالت کی درخواست پر ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے کو نوٹس جاری کر کے جواب مانگ لیا،مسٹر جسٹس شمس محمود مرزا نے راوی بلاک علامہ اقبال کے رہائشی محمد لطیف چوہدری کی درخواست پر سماعت کی درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ اسکو رقم جمع کروانے کے باوجود کمپلیشن سرٹیفکیٹ جاری نہ کیا گیا عدالت نے اسکی درخواست دادرسی کے لیے ڈی جی ایل ڈی اے کو بھجوا دی درخواستگزار۔کے مطابق عدالت کے حکم کے برعکس اسکو جرمانہ کر دیا گیا عدالت کے 15جون 2020 کی تعمیل نہیں کی جا رہی۔درخواستگزار۔نے استدعا کی کہ عدالت ڈی جی ایل ڈی اے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائے عدالت نے ڈی جی عزیز احمد تاڑر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا

نوٹس جاری 

مزید :

صفحہ آخر -