مہنگائی سے چولہا ٹھنڈا، غربت کے خاتمئے کی دعویدار حکومت غریب مارنے پر تل گئی، شہری 

  مہنگائی سے چولہا ٹھنڈا، غربت کے خاتمئے کی دعویدار حکومت غریب مارنے پر تل ...

  

لاہور(افضل افتخار)ملک میں مہنگائی نے ہر طبقہ کا جینا محال کردیا، عوام نے حکومت سے امیدیں وابستہ کی تھیں کہ مہنگائی کا خاتمہ ہوگا مگر دن بدن بڑھتی ہوئی مہنگائی نے مزید پریشان کردیا اور اب جینا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار روز نامہ پاکستان کے سروے میں شہریوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔شہری ندیم، سلمان، اعظم،سہیل،جنید اور جمشید نے کہا کہ جس تیزی سے ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے اس سے تو اب لگتا ہے کہ غربت نہیں بلکہ غریب ہی ختم ہوجائیں گے کوئی بھی حکمران عوام کو ریلیف نہیں دے سکا۔عوام کی بڑی تعدا د نے عمران خان کو اس لئے ووٹ دیا تھا کہ وہ اقتدار میں آکر غربت ختم کرے گا مگر اس حکومت نے بھی ہمارے لئے کچھ نہیں کیا۔چینی اور آٹا تو پہلے ہی بہت مہنگا اور ناپیدہوچکا ہے جبکہ اب دالوں اور دیگر ضروریہ اشیاء بھی بہت زیادہ مہنگی کردی گئی ہیں اورکوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے۔ حکومت بھی مافیا کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ مہنگائی نے غریب افراد کی تو کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ثمینہ، نبیلہ،آمنہ،شکیلہ، صائمہ، سحرش،نبیہ،مائرہ،سائرہ اور بابرہ نے کہا کہ حکومت مہنگائی روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے اور دن بدن جس تیزی سے مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے اس پر بہت افسوس ہوتا ہے۔عمران خان وزیر اعظم بننے سے قبل تو بہت دعوے کرتے تھے کہ میں اقتدار میں آکر سب سے پہلے مہنگائی ختم کروں گااور عو ام کو ریلیف دوں گا مگر بس سب دعوے ہی ثابت ہوئے ہیں۔کچن چلانا بہت مشکل ہوگیا ہے گوشت تو اب دور کی بات ہے سبزیاں اور دالیں بھی ہماری خرید سے باہر ہوگئیں ہیں۔اسد،شکیل،عمران، آصف، عمر،حیدر، علی اور کامران نے کہا کہ حکومت مہنگائی پر کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوجائے گی مشکل وقت ہے امید ہے کہ جلد ہی دور ہوجائے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیر اعظم عمران خان غریب عوام کا دل میں بہت درد رکھتے ہیں، حکومت کوبھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔عادل،اسلم،محبوب،نبیل خان، بابر زبیر،عامر خرم،ذیشان، کاشف احمد،زنیر اور حمید اور سرور نے کہا کہ ملک میں بہت زیادہ مہنگائی ہے اور اس کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔دن بدن جس تیز ی سے مہنگائی بڑھ رہی ہے اس سے غریب عوام کو بہت زیادہ نقصان ہورہا ہے۔

شہری 

مزید :

صفحہ آخر -