مقامی امراض کسی صورت نظر انداز نہیں ہونے چاہئیں،ماہرین 

  مقامی امراض کسی صورت نظر انداز نہیں ہونے چاہئیں،ماہرین 

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کرونا وائرس: پاکستان میں مقامی امراض کسی صورت نظر انداز نہیں ہونے چاہیں، کسی بھی بیماری کے علاج سے پہلے تشخیص ضروری ہے، علاقائی یا مقامی امراض اور کویڈ19و بائی مرض مل کر ملک میں انتہائی نگہداشت میں مریضوں کی تعداد بڑھا سکتے ہیں۔ یہ بات آغا خان کی پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ جمیل علی نے جمعہ کو ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی) جامعہ کراچی کے سیمینار روم میں عوامی آگاہی پروگرام کے تحت ”کویڈ19بخارکے تناظر میں مقامی امراض نظر انداز نہیں ہونے چاہیں“ کے موضوع پراپنے آن لائن لیکچر کے دوران کہی۔ لیکچر کا انعقاد ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیولر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ نے کیا جس کا مقصد متعلقہ صحت کے سنگین مسئلے سے متعلق عوامی آگاہی پیدا کرنا تھا۔ پروفیسر بشریٰ جمیل علی نے کہا کہ بہت سارے اہم انفیکشن علاقائی مرض کی صورت میں یہاں موجود ہیں، ان میں ڈینگی، ٹائی فائیڈ، ملیریا، انفلونزا وغیرہ شامل ہیں، موجودہ وبائی صورتِ حال میں ان امراض کی تشخیص پر بھی غور کیا جانا چاہیے، انھوں نے کہا بیماری کے علاج سے پہلے تشخیص ضروری ہے ورنہ غلط علاج کے مٖضر نتائج ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا ٹائی فائیڈ عرصہئ دراز سے ملک میں موجود ہے، جن مریضوں کو تین دن سے زیادہ تیز بخار ہو تو ان کا ٹائی فائیڈ کا ٹیسٹ کی جاتا ہے، اس مرض کے پھیلاو میں آلودہ پانی کی سپلائی ایک اہم وجہ ہے۔ انھوں نے کہا تیزی بخار اگر104ڈگری پر ہو تو ڈینگی بخار شبہ کیا جا تا ہے جس علامات میں سر درد، متلی، قے وغیرہ شامل ہیں۔ 

مزید :

صفحہ آخر -