اپوزیشن استعفے دے ضمنی الیکشن کرادینگے، نواز شریف سیاست سے باہر ہو چکے، وہ چاہتے ہیں کھیلو ں نہ کھیلنے دوں، انکی تقریر کا مقصد حکومت اور فوج کو لڑانا ہے: عمران خان 

اپوزیشن استعفے دے ضمنی الیکشن کرادینگے، نواز شریف سیاست سے باہر ہو چکے، وہ ...

  

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کی تقریر بھارت کے بیان کی عکاس اورحکومت اور فوج میں دراڑیں ڈالنے کی سازش تھی۔ وزیراعظم نے یہ بات نجی ٹی وی چانلز کے ڈائریکٹرز  نیوزسے ملاقات کے دوران کہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ نواز شریف کو تقریر کی اجازت اس لیے دی  کہاآزادی  اظہار کا شور مچ جاتا۔ نواز شریف کھیل سے باہر ہو چکے ہیں۔ اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ نہ کھیلوں گا اور نہ کھیلنے دوں گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کرپٹ نہیں، اس لیے فوج سارے فیصلوں کی حمایت کرتی ہے۔ اپوزیشن سے خطرہ نہیں، کچھ وزیر اپنے خلاف ہی گول کر دیتے ہیں۔ ہر جماعت میں اختلاف رائے ہوتا رہتا ہے۔ سیاسی جماعتوں میں نظم وضبط بنانا ممکن نہیں ہے۔وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر اپنے دوٹوک موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ میں کرپشن پر کسی کو این آر او نہیں دوں گا۔ اگر اپوزیشن کے استعفے آئے تو ان نشستوں پر  ضمنی الیکشن کرا دیں گے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ میرا وڑن ایسا پاکستان ہے جس کے ہاتھ میں کشکول نہ ہو۔ یوٹرن ہمیشہ ایک مقصد کے لیے ہوتا ہے۔(ن) لیگ ہو یا (ش) لیگ یہ لوگ صرف خاندانی سیاست کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان کو اس لیے ساتھ رکھتے ہیں کیونکہ ان کے پاس لوگ نہیں ہیں۔ میں نے پاکستان میں سب سے زیادہ سٹریٹ پاور استعمال کی۔وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ میں مانتا ہوں کہ میری حکومت میں میڈیا سے رابطوں کا فقدان ہے۔ دوران گفتگو انہوں نے ایک مرتبہ پھر نواز شریف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ مایوس ہو چکے ہیں۔ وہ فوج اور حکومت کے درمیان تاریخی ہم آہنگی کو توڑنا چاہتے ہیں۔ اپوزیشن کا ایجنڈا حکومت اور فوج کے درمیان لڑائی کرانا ہے۔  آرمی چیف کی پارلیمانی لیڈروں سے سے ملاقات میرے علم میں تھی  اور آرمی چیف کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بارے میں  بھی میں جانتا تھا   دیگر ایشوز پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شوگر مافیا سے نمٹ رہے ہیں۔ ادویات کی قیمتیں بڑھائی تاکہ ان کی مارکیٹ میں دستیابی ہو سکے اور موجود ہوں۔ 18ویں ترمیم میں زرعی شعبہ صوبوں کو دے دیا گیا جو نہیں دینا تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ اچھی بات یہ ہے کہ چین کو پاکستان کی اتنی ضرورت ہے، جتنی پاکستان کو چین کی۔ پاکستان خوش قسمت ملک ہے کہ چین ہمارا دوست ملک ہے زیرِ اعظم  عمران خان نے کہا ہے  کہ عوام اور خصوصاً معاشرے کے کمزور طبقوں کو صحت کی معیاری سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے،غریب افراد کو صحت کی سہولیات کی فراہمی اختیاری نہیں بلکہ لازمی ہے۔ وزیرِ اعظم  کی زیر صدارت صوبہ پنجاب اور  خیبرپختونخوا میں قومی صحت کارڈ پروگرام کے تحت مستحقین افراد کو صحت کی معیاری سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں   وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ موجودہ دورِ حکومت میں صحت سہولت پروگرام کا دائرہ کار صوبہ پنجاب کے تمام چھتیس اضلاع تک بڑھایا جا چکا ہے۔ اب تک تقریبا 51لاکھ خاندان اس پروگرام کے تحت رجسٹرڈ کیے جا چکے ہیں۔ پروگرام کے تحت ہر خاندان کو سات لاکھ بیس ہزار روپے تک کی صحت کی سہولیات کا کور فراہم کیا جا رہا ہے۔  ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 2020میں اب تک 80389افراد اس سہولت سے استفادہ کر چکے ہیں۔ رجسٹریشن کے حوالے سے بتایا گیا کہ گذشتہ ڈیڑھ ماہ میں ایک لاکھ بیس ہزار خاندانوں کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے جبکہ اب تک 235ہسپتالوں کو پینل میں شامل کیا جا چکا ہے۔   وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ پروگرام سے مستفید ہونے والے افراد کی جانب سے فراہم کیے جانے والے فیڈ بیک کے مطابق 97.5فیصد افراد نے اس پروگرام پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا گیاہے۔   اجلاس میں  صوبہ خیبر پختونخواہ میں قومی صحت کارڈ کی یونیورسل کوریج کے حوالے سے پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔  وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام اور خصوصاً معاشرے کے کمزور طبقوں کو صحت کی معیاری سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ غریب افراد کو صحت کی سہولیات کی فراہمی اختیاری نہیں بلکہ لازمی ہے۔   وزیرِ اعظم نے وزیرِ صحت پنجاب کو ہدایت کی کہ صوبہ خیبرپختونخوا کی طرز پر ابتدائی طور پر صوبہ پنجاب کے  دو بڑے شہروں میں یونیورسل کوریج کا اجراء  کرنے پر غور کیا جائے۔  وزیراعظم عمران خان سے صوبائی وزیر برائے تعلیم بلوچستان سردار یار محمد رند نے ملاقات کی جس میں صوبہ بلوچستان کی مجموعی صورتحال، سیلاب سے متاثرہ علاقوں، بشمول نصیر آباد میں بحالی کے اقدامات، میگا ترقیاتی منصوبوں، سکلیجی ڈیم پر پیشرفت اور پارٹی کے حوالے سے امور پر گفتگو کی گئی۔وزیر اعظم سے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ملاقات کی جس میں عوامی مفادات کے تحفظ کے حوالے سے زیر غور قانون سازی، مختلف اقدامات پر گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر عمران خان کا کہنا تھا عوامی مفاد کیلئے دیگر پارلیمانی پارٹیوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔قبل ازیں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے ملاقات کی، جس میں مختلف اہم پارلیمانی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے انتخاب اور قانون سازی سے متعلق امور بھی زیر غور آئے۔وزیراعظم  عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو ٹیلیفون کرکے امن عمل کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ اور بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس ٹیلی فونک گفتگو میں طالبان اور افغان حکومت کے مذاکرات پر بھی بات چیت کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مثبت کوششوں سے امریکا طالبان امن معاہدہ اور انٹرا افغان مذاکرات کا آغاز ہوا۔وزیراعظم عمران خان نے دوحہ میں انٹرا افغان مذاکرات پر فریقین کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے جنگ بندی اور تشدد میں کمی کیلئے افغان جماعتوں کے کردار کی اہمیت پر زوردیا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ تمام افغان سٹیک ہولڈرز کو اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ افغان قیادت کو خود ایک جامع سیاسی معاہدے کے لئے مل کر کام کرنا چاہیے۔انہوں نے افغان صدر کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان افغان عوام کے بہتر مستقبل کے لیے کیے گئے فیصلوں کی مکمل حمایت کرے گا۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -