ایس ا و پیز پر عملدرآمد لازمی، بچوں کی صحت پر سمجھوتہ نہیں کرینگے: سعید غنی 

    ایس ا و پیز پر عملدرآمد لازمی، بچوں کی صحت پر سمجھوتہ نہیں کرینگے: سعید ...

  

 کراچی (سٹاف رپورٹر)وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ بھر میں پری پرائمری، پرائمری اور مڈل کلاسیں 28 ستمبر سے کھل جائیں گی، تمام نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے جاری کردہ ایس او پیز کی پابند ہوگی اور جو اس کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا اس کے خلاف کوووڈ قانون کے تحت سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ والدین اپنے چھوٹے بچوں کو بار بار ایس او پیز پر عمل درآمد کے لئے پابند کرتے رہیں جبکہ تعلیمی اداروں میں ہر کلاس کے آغاز سے قبل 2 سے 3 منٹ تک ایس او پیز کے حوالے سے طلبہ و طالبات کو آگاہی فراہم کی جائے۔ اگر کوئی والدین یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے بچوں کو موجودہ صورتحال میں انہیں اسکول نہیں بھیجنا چاہیے تو ان پر کوئی دباؤ میں ہے اور کسی اسکول پر بھی یہ دباؤ نہیں ہے کہ وہ اگر یہ سمجھتا ہے کہ اس وقت کو اسکول نہیں کھول سکتا تو وہ نہ کھولے۔ ایم کیو ایم  اس وقت بھی الطاف حسین کے نفرت انگیز، مارنے ڈرانے اور اردو زبان والوں کو دیگر زبانوں والوں سے لڑانے کی سیاست پر عمل پیرا ہے اور آج خالد مقبول، عامر خان، اظہار الحق سمیت دیگر تمام الطاف حسین ہی کا لبادہ اوڑھے اور اس کی نفرت انگیز سیاست کو پروان چڑھانے میں مصروف ہیں۔ صوبہ سندھ میں گیس اور اس کے باعث بجلی کے بدترین بحران کی ذمہ دار موجودہ نااہل، نالائق حکمران ہیں اور ان کے باعث آج کراچی جیسے شہر میں 14 سے 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیر بنا دی ہے۔ پیپلز پارٹی جلد ہی ایم کیو ایم کی گذشتہ روز کی ریلی یا جلسی کے جواب میں کراچی میں ایک عظیم الشان ریلی یا جلسہ کا انعقاد کرے گی اور انہیں ٹنکی گراؤنڈ والے جلسہ کے بعد کی شرمندگی کا ایک بار پھر احساس دلائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر رکن سندھ اسمبلی پیر مجیب الحق اور وزیر اعلیٰ کے کوآڈینیٹرشہزاد میمن بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ میں نے متعدد بار تعلیمی اداروں کو کھولنے کے حوالے سے واضح بیان دئیے ہیں تاہم ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اس میں آج بھی کوئی ابہام دیکھنے کو مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کو اس طرح واضح کردوں کہ 28 ستمبر سے تمام تعلیمی ادارے جس میں نرسری سے پری پرائمری تک کی تمام کلاسز، مڈل کلاسز س میں کلاس 6 سے 8، سیکنڈری کلاسز جس میں کلاس 9 تا 10 اور تمام کالجز اور جامعات کی کلاسز میں تدریس کا آغاز ہوجائے گا اور 100 فیصد تعلیمی سرگرمیاں کھول دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صرف فیز 2 جس میں کلاس 6 تا 8 تھی اس کو ایک ہفتہ کے لئے موخر کیا تھا اور اب یہ سب کلاسیں 28 ستمبر سے کھل جائیں گی۔ سعید غنی نے کہا کہ گذشتہ 10 روز سے میں خود اور ہمارے تمام محکمہ تعلیم کے افسران روزانہ کی بنیاد پر سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے دورے کررہے ہیں اور ہم جن جن تعلیمی اداروں میں ایس او پیز کا فقدان نظر آرہا ہے ان کو ایس او پیز پر عمل درآمد کے لئے ہدایات دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جن تعلیمی اداروں کو سیل کیا ان کی دو وجوہات تھی ایک تو ایسے تعلیمی ادارے جہاں کوووڈ کا کوئی کیس آیا ہو اور دوسرا ان تعلمی اداروں کو جنہوں نے واضح احکامات کے باوجود چھوٹی کلاسز کے بچوں کو اسکولوں میں بلایا ہوا تھا اور ان تعلیمی اداروں کو اب ڈی سیل بھی کردیا گیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ 28 ستمبر کے بعد تمام تعلیمی ادارے بشمول سرکاری و نجی سب کو سخت ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور اگر اس میں کہی کوتاہی ہوئی تو ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ان کے خلاف کوووڈ کے مرتب شدہ قانون کے تحت بھاری جرمانے، اسکول کی رجسٹریشن کی معطلی اور ایف آئی آر کا ن اندراج بھی کیا جائے گا۔

مزید :

صفحہ اول -