خیبر پختونخوا میں صنعتی ترقی اولین ترجیح ہے: شوکت یوسفزئی 

  خیبر پختونخوا میں صنعتی ترقی اولین ترجیح ہے: شوکت یوسفزئی 

  

  پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے وزیر محنت و ثقافت شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں صنعتی ترقی کے لیے راہ ہموار ہو رہی ہے افغانستان میں امن کے قیام سے سنٹرل ایشیا کا دروازہ کھلے گا گیس اور بجلی کی مقامی پیداوار میں اضافہ سے سب سے زیادہ فائدہ صنعتی شعبے کو ہوگا۔مزدوروں کے حقوق کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔سی پیک فیز ٹو میں داخل ہو چکا ہے جس سے رشکئی اکنامک زون کے کام میں تیزی آئی ہے، پاک افغان بارڈر مینجمنٹ میں بہتری آنے سے بارڈر ایریاز میں تجارتی منڈیوں پر کام جاری ہے، خیبرپختونخوا کا سیاحتی پہلو دنیا کے سامنے لے کر آنے میں کامیاب ہوئے ہیں جس سے سیاحت کے شعبے میں ترقی کی راہیں کھلی ہیں۔ صنعتوں کو مزید ترقی دے رہے ہیں تاکہ ورکرز کو ان کی مہارت کے عین مطابق خیبر پختونخوا میں ہی کام کے بہترین مواقع میسر ہوں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے متحدہ لیبر فیڈریشن کے وفد کے ساتھ ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وزیراعلیٰ محمود خان کی قیادت میں صوبائی حکومت قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنے اور ورکرز کے لیے سہولیات میں بہتری اور میرٹ پر فراہمی کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ورکرز کی نمائندگی اور حقوق کا خاص خیال رکھا جائے گا، محکمہ محنت ورکرز کے حقوق کا تحفظ اور قانون کی پاسداری ہر صورت یقینی بنائے گی ملاقات میں ورکرز ویلفیئر بورڈ میں ورکرز کی نمائندگی، لیبر کالونی کے مسائل، سہولیات اور محکمہ محنت کی جانب سے ورکرز کے لیے کیے گئے اقدامات پر گفتگو کی گئی۔وزیر محنت نے کہا کہ ورکرز کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں محکمہ محنت بلا تفریق اور میرٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی خدمت کرتی رہے گی۔ اس سلسلے میں محکمہ محنت نے ورکررز اور مختلف شعبوں میں کام کرنے والے اداروں کے ساتھ روابط میں اضافہ کیا ہے تاکہ مسائل کا صحیح ادراک ہو اور مستقبل کے لئے صحیح منصوبہ بندی کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد محکمہ محنت کے دائرہ کار اور استعداد کار میں مزید بہتری لا رہے ہیں اس سلسلے میں دس سالہ منصوبہ بندی پر کام ہو رہا ہے۔شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ترقی کا پہیہ ورکرز کی مہارت اور محنت سے چلتا ہے جدید تقاضوں کے عین مطابق ورکرز کی مہارت میں اضافہ کرنے کے لئے منصوبہ بندی ہو رہی ہے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بھی گفت و شنید جاری ہے۔

  

مزید :

صفحہ اول -