حضرت بہاء الدین زکریا کاعرس،ا ختتام پذیر، ملکی استحکام، امت مسلمہ کیلئے خصوصی دعائیں 

    حضرت بہاء الدین زکریا کاعرس،ا ختتام پذیر، ملکی استحکام، امت مسلمہ کیلئے ...

  

 ملتان(سٹی رپورٹر) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہندوستان اور کشمیر کے مسلمان کرب میں متبلا ہیں۔ بی جے پی کی سرکار کی ہندوتوا سوچ سے ہندوستان کے مسلمان محفوظ نہیں ہیں۔ افغانستان میں امن کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ یا اللہ اسے بخیر خوبی پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔یہ اللہ کا کرم ہے کہ کرونا کی وجہ سے پاکستان میں اس قدر نقصانات نہیں ہوئے جس طرح پوری دنیا میں ہوئے ہیں۔ اور یہ اللہ کا (بقیہ نمبر43صفحہ 7پر)

کرم ہے کہ کرونا کے باوجود عرس میں زائرین کی بہت بڑی تعداد شریک ہوئی ہے۔ جن کی صحت یابی اور باخیریت واپسی کیلئے دعا گو ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حضرت بہاء الدین زکریا ؒ کے سالانہ عرس آخری روز قومی زکریا کانفرنس کی اختتامی نشست میں دعا کے دوران کیا۔وفاقی پارلیمانی سیکرٹر ی مخدومزادہ زین حسین قریشی‘ بریگیڈیئر مقصود قریشی‘ پیر سیف قریشی‘ پاک پتن شریف کے دیوان عثمان فرید‘دیوان حامد مسعود‘ کوٹ مٹھن شریف کے خواجہ عامر کوریجہ‘ سندر شریف کے سجادہ نشین حبیب عرفانی‘ رکن قومی اسمبلی ملک عامر ڈوگر‘ صوبائی وزراء ڈاکٹر اختر ملک‘ صاحبزادہ پیر سعید الحسن قادری‘ ڈپٹی کمشنر ملتان عامر خٹک اور سی پی او ملتان حسن رضا خان بھی اس موقع پر موجود تھے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں حضرت بہاء الدین زکریا ؒ کے عرس کی اختتامی نشست میں اتنی بڑی تعداد میں مشائخ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ اولیاء اللہ کے آستانوں سے ہمیشہ امن‘ محبت اور بھائی چارے کا پیغام عام کیا جاتا ہے۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ خانقاہی نظام سے کبھی بھی فرقہ واریت کو ہوا نہیں دی جاتی رہی۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اور ہندوستان کے مسلمان اس وقت جس کرب میں مبتلا ہیں۔جس کی بنیادی وجہ ہندوستان کے قوانین میں تبدیلی اور امتیازی سلوک ہے جن بدولت کشمیریوں پر نہ صرف تشدد کیا جارہا ہے بلکہ اب انہیں اذیت دینے کیلئے نئے نئے حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔ انہوں دعا کی اے اللہ ہندوستان اور کشمیر کے مسلمانوں کو آزادی عطاء فرما۔ اور دنیا بھر میں جہاں جہاں مسلمان آزادی کی جہدوجہد کررہے ہیں انہیں کامیابی سے ہمکنار فرما۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا افغانستان طویل عرصے سے امن وامان کا شکار ہے میں دعا کرتا ہوں اللہ افغانستان میں بھی امن قائم فرما۔ انہوں نے کہا عرس کی تقریبات باخیرت اختتام پذیر ہوئی ہیں اور گزشتہ کئی سالوں کے مقابلے میں اس سال بہت زیادہ زائرین اپنی عقیدت اور محبت سے غوث کے در پر آئے ہیں۔ میں دور دراز سے آنے والوں کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ اختتامی نشست میں دربار شریف کا احاطہ اور سٹیج مکمل طور پر عقیدت مندوں سے بھرا ہوا ہے۔ اور دربار کے باہر بھی اتنی ہی تعداد میں لوگ موجود ہیں۔ یہ صرف غوث کا کرم اور لوگو ں کی محبت ہے۔ کرونا کی آفت کی وجہ سے اس بابرکت محفل کے انعقاد میں کچھ ابہام پایا جاتا تھا۔ لیکن جس طرح اللہ کے کرم سے ہمارا ملک محفوظ رہا ہے اور کرونا میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ اسی طرح اللہ کے کرم سے یہاں زائرین بہت بڑی تعداد میں پہنچیں ہیں۔ انہوں نے دعا کی اے باری تعالیٰ پوری دنیا خصوصاً پاکستان کو کورونا وائرس سے محفوظ فرما۔ انہوں نے کہا کہ مجھے گزشتہ تین روز کے دوران پوری دنیا اور خاص طور پر آج صبح سے دعا کیلئے چٹیں موصول ہوئی ہیں۔ یا اللہ تو دلوں کے راز جانتا ہے سب کی مرادیں پوری فرما۔ بیماروں کو شفا ء دے۔ قرض داروں اور تنگدستوں کی تنگدستی دور فرما۔ انہوں نے کہا کہ یا اللہ درگاہ  کے اسٹیج سے یکجہتی کا پیغام عام کر اور یا اللہ پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کے عزائم خاک میں ملا دے۔انہوں نے دعا کی یا اللہ خانقاہی نظام کی بھی حفاظت فرما۔ قبل ازیں جماعت اہلسنت کے مرکزی امیر علامہ مظہر سعید کاظمی نے کہا کہ غوث کی نگری میں جو بھی آتا ہے وہ خالی نہیں جاتا۔ ہمیں اپنے اسلاف کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے۔ نماز پنجگانہ کی مکمل پابندی کرنی چاہئے۔ اور سود کی لعنت سے نجات حاصل کرنی چاہئے۔ اللہ کے ہاں توبہ کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ لیکن اگر ہم سچی توبہ کریں تو تمام مسائل و مشکلات سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے مخدوم شاہ محمود قریشی کی خدمات کو سراہا۔ اور کہا کہ میرے والد غزالی زماں حضرت احمد سعید کاظمی ؒ 1935سے 1985 تک مسلسل عرس مبار ک کی تقریبات میں شریک ہوتے رہے اور میرے والد کے آخری سال میں مخدوم سجاد حسین قریشی ؒ نے اسی اسٹیج پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ آج غزالی زماں کو اس عرس میں شرکت کرتے ہوئے 50سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ یہ غوث کا فیض ہے کہ 1985سے آج تک گزشتہ 35سال سے مجھے بھی حاضری کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔ اس حاضری کا شرف صرف ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جنہیں غوث پاک بلاتے ہیں۔ انہوں نے مخدوم شاہ محمود قریشی کی درازی عمر کیلئے دعا بھی کی۔سجادہ نشین سندر شریف حضرت پیر سید حبیب عرفانی نے کہا کہ ہمیں اولیاء اللہ کی تعلیمات پر عمل کرناچاہئے اور ان آستانوں پر فیض حاصل کرنا چاہئے۔ صوبائی وزیر اوقاف صاحبزادہ پیر سید سعید الحسن شاہ قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں ادھر اُدھر دیکھنے کی بجائے اولیاء اللہ سے لگاؤ لگانا چاہئے۔ محکمہ اوقاف مزارات کے تقدس اور یہاں آنے والے زائرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے میرا روحانی تعلق ہے۔ یہ صالحین کی اولاد ہیں۔ اور ہم غوث کے دربار پر صرف فیض حاصل کرنے آتے ہیں۔ عرس کی تقریب سے اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر مفتی غلام مصطفی رضوی‘جماعت اہلسنت کے رہنما علامہ قاضی بشیر احمد گولڑوی‘ علامہ قاری خادم حسین سعیدی‘پروفیسر احسان احمد قادری‘منسوب الہی نے خطاب جبکہ زکریا اکیڈمی کے سیکرٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر صدیق خان قادری نے نظامت کے فرائض سرانجام دیئے۔ قاری عبدالغفار نقشبندی نے تلاوت‘ حافظ بلال احمد اویسی نے ختم شریف پڑھا۔سابق صدر ڈسٹرکٹ بار وسیم ممتاز ایڈووکیٹ‘حمید نواز عاصم‘ احمد نواز عصیمی‘ غلام شبیر قادری‘ بختیار عصیمی‘ نعمان بختیار‘عاصم گولڑو ی‘ ثقلین حیدر گولڑوی اور دیگر نعت خوانوں نے نذرانہ عقید ت پیش کیا۔ اختتامی نشست میں وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی حاجی جاوید اختر انصاری‘ صوبائی پارلیمانی سیکرٹری ندیم قریشی‘ مہندر پال سنگھ‘ ملک واصف مظہر را ں‘میاں جمیل احمد‘ میاں آصف نقشبندی‘ علامہ محمد فاروق خان سعیدی‘ نور خان بھابھہ‘ سردار ارشد خان قندرانی‘ اعجاز حسین جنجوعہ‘ خالد جاوید وڑائچ‘ رانا عبدالجبار‘ بابر شاہ‘ راؤ امجد‘ شہباز قریشی‘ مخدوم شعیب اکمل ہاشمی‘ سبطین رضا لودھی‘ اکمل اویسی پیر زادہ‘ شاہد مظفر‘ ملک ظہور مہے‘ ڈاکٹر الطاف قریشی‘ ڈاکٹر آصف قریشی‘طاہر علی قریشی ایڈووکیٹ‘ خواجہ سلیما ن صدیقی‘ مہر اظہر عباس چاون‘ سندھ سے رکن صوبائی اسمبلی شہریار شر‘سردار زادہ غلام عباس چاچڑ‘ میاں عابد حسین اندھر‘ انجینئر محمد گلزیب‘ڈاکٹر شہوار اویسی‘ پیر مقبول ہاشمی‘ شیخ اعجاز علی مہروی‘ پیر سید عابد حسین گیلانی‘ پیر ضمیر حسین جیلانی‘ مہر ضمیر سنڈھل  بھی اس موقع پر موجود تھے۔دعا کے بعد درود و سلام پڑھا گیا۔ جبکہ درگاہ حضرت بہا ء الدین زکریا ؒ کے سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی‘ مخدومزادہ زین حسین قریشی نے دیگر شرکاء کے ہمراہ دربار پر حاضری دی اور دعا کروائی۔ بعد ازاں دربار حضرت شاہ رکن عالم ؒ پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔

عرس

مزید :

ملتان صفحہ آخر -