ملکی سیاست کا شور شرابہ

ملکی سیاست کا شور شرابہ
ملکی سیاست کا شور شرابہ

  

طویل شور شرابے،قیامت خیز ہنگامہ آرائی،اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کی مسلسل لیت ولعل کے بعد گزشتہ دنوں  ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کسی ٹھوس مشترکہ اور متفقہ حکمت عملی،واضح اعلان،اور لائحہ عمل دئیے بغیر اختتام پزیر ہو گئی۔متضادالخیال اور منتشر النظریات  پارٹیوں کے اس اجتماع سے سے ایسے ہی نتائج کی توقع کی جا رہی تھی،کانفرنس کی اہم بات نواز شریف کا چپ کا طویل روزہ توڑنا تھا،اپنے  خطاب میں جو لب کشائی انہوں نے کی وہ بھی غیر متوقع نہیں تھی،انہوں نے طویل عرصہ بعد اپنی خاموشی توڑی بھی تو کوئی ایسی بات نہ کہی جو قوم کے زخموں کیلئے مرہم یا مصائب و مشکلات کا علاج ہو اور پاک فوج پر نام لئے بغیر تنقید کی جو حسب توقع تھی،لیکن اپنے اس خطاب کے ذریعے انہوں نے بھائی شہباز شریف کی مصالحت کیلئے دو سالہ کوششوں کو ایک ہی خطاب سے سبو تاڑ کر دیا۔یہ بات بھی کھل گئی کہ سیاست اور سیاسی طرز عمل کے حوالے سے اختلافات تاحال موجود ہیں،ن لیگ کے وفد کا جب پہلی بار اعلان ہوا  تو مریم نواز کا  نام شامل نہ تھا جس پر نواز شریف نے سخت برہمی کا اظہار کیا،بعد میں مجبوری کے تحت مریم کا نام شامل کیا گیا تو مریم ن لیگی وفد اور شہباز شریف کے بجائے تنہا آئیں اور بلاول کیے ساتھ ہال میں داخل ہوئیں  اور مستقبل قریب میں نواز شریف بیٹی کو بھائی کی جگہ پارٹی کی سربراہی سونپ سکتے ہیں۔

نواز شریف نے اپنے خطاب میں مرکزیت آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کو دی،لگتا ہے نواز شریف مستقبل میں زرداری اور آصف زرداری کو اپنے نجات دھندہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں،ماضی میں بینظیر کیساتھ میثاق جمہوریت کی طرز کے معاہدے کییلئے بھی پر امید ہیں،اور ذہنی طور پر اس کیلئے تیار ہیں، آئندہ الیکشن خواہ وقت مقررہ پر ہوں یا عبوری نواز شریف پیپلز پارٹی کو اقتدار دینے اور پنجاب اپنے ہاتھ میں رکھنے پر بھی آمادگی ظاہر کر چکے ہیں جو پیپلز پارٹی کا دیرینہ مطالبہ تھا،ماضی میں ہونے والے مذاکرات میں پیپلز پارٹی کا یہی مطالبہ رہا کہ حکومت کیخلاف کسی تحریک کی صورت میں پیپلز پارٹی کو کیا ملے گا اگر پنجا ب اور مرکز ن لیگ کو ملنا ہے تو ہم اس تحریک کا حصہ کیوں بنیں؟جس کے نتیجے میں نواز شریف نے پنجاب کی حد تک اکتفا کرنے پر صاد کر لیا ہے۔ نواز شریف کی سیاست ابھی ختم نہیں ہوئی مگر ان کو اگر سیاست کرنا ہے تو وطن واپس ا?نا ہو گا اور موجودہ حالات میں ان کی واپسی ممکن دکھائی نہیں دیتی،بیماری اور علاج سے قطع نظر بھائی شہباز شریف اور بیٹی مریم نواز بھی ان کی واپسی نہیں چاہتے،

شہباز شریف تصادم کے بجائے مفاہمت چاہتے ہیں اور ان کی رائے ہے کہ ابھی ماحول گرم ہے اور ان کی واپسی سے سیاسی نقصان ہو گا،جبکہ مریم نواز اب پارٹی کی سربراہی سنبھال کر محاذ آرائی کی سیاست کی خواہش مند ہیں،نواز شریف کی وطن موجودگی میں ایسا ممکن نہیں ہے، شہباز شریف بھی اس صورتحال سے آگاہ ہیں، شہباز شریف،احسن اقبال،خواجہ آصف کی جی ایچ کیو آمد اور آرمی چیف سے احسن اقبال اور خواجہ آصف یہ اکٹھ گلگت بلتستان کے ایشو پر تھا،مگر اس کے ذریعے سے ن لیگ نے اپنے معاملات سلجھانے کی بھی کوشش کی،مریم نواز نے جی ایچ کیو میں سیاسی ایشوز پر بات کرنے کو بھی ناپسندیدہ قرار دیا اور معاملات پارلیمینٹ میں حل کرنے پر زور دیا،شیخ رشید کے مطابق دو ملاقاتیں ہوئیں ایک تین گھنٹے اور دوسری پانچ گھنٹے،مگر احسن اقبال  دوسری طرف نواز شریف نے آل پارٹیز کانفرنس میں خطاب کے دوران اپنے پرانے بیانیہ پر ہی اصرار  کیا،

انہوں نے عمران خان کو لانے والوں کیخلاف جنگ کا بھی اعلان کیا،انہوں نے نام نہیں لیا مگر عمران خان کو لانے کا ذمہ دار وہ کس کو قرار دیتے ہیں اس بارے میں دنیا جانتی ہے،اس حوالے سے انہوں نے سقوط ڈھاکہ کا بھی ذکر کیا،مگر یہ نہیں بتایا کہ جن کو وہ سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار قرار دیکر جنگ کی بات کرتے ہیں انہوں نے توآخری وقت تک ملک کو متحد رکھنے کی کوشش کی،جانیں قربان کیں مگر سیاسی رہنماؤں کی ریشہ دوانی اور خلفشاری کی وجہ سے ناکام رہے۔ بھارتی میڈیا کا بغلیں بجانا اور شور شرابہ سے  یہ آل پارٹیز کانفرنس کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے کے مصداق اورنشستند گفتند برخواستند سے زیادہ نہیں تھی۔ لیگی رہنماؤں کے حالیہ بیانات اور کہہ مکرنی سے اب یہ کوئی خفیہ راز نہیں رہا کہ ن لیگ کی قیادت میں مستقبل کی سیاست اور قیادت کے حوالے سے اختلافات رونما ہو چکے ہیں،یہ فسانہ ابھی جاری ہے اور بقول شاعر”اور کچھ دم میں ہیں یہ اوراق بکھرنے والے“ اگر نواز شریف فوری وطن واپس نہ آئے تو بقول شیخ رشید ن لیگ میں سے ش لیگ جنم لینے کو ہے، اب صرف ان کا اعلان باقی ہے،اور الیکشن سے قبل ہی ایسا ممکن ہوتا نظر آرہا ہے،اپوزیشن کے مدارالمہام فضل الرحمٰن بھی نالاں دکھائی دئیے،نواز شریف نے پہلے مجبوری میں انہیں قائد بنا کر آگے کیا مگر اب پیپلز پارٹی کو بالا تسلیم کر کے بلاول جیسے 90ء میں میثاق جمہوریت کے بعد وزارت عظمیٰ بینظیر کے حصے میں آئی تھی اس مرتبہ نواز شریف بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعظم تسلیم کر چکے ہیں اور یہ ن لیگ کی سیاسی موت کے مترادف ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم -