اسلام آبادہائیکورٹ نے ایس ای سی پی کو ارسلان ظفر کیخلاف کارروائی سے روک دیا

اسلام آبادہائیکورٹ نے ایس ای سی پی کو ارسلان ظفر کیخلاف کارروائی سے روک دیا
اسلام آبادہائیکورٹ نے ایس ای سی پی کو ارسلان ظفر کیخلاف کارروائی سے روک دیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے ایس ای سی پی کو ارسلان ظفر کیخلاف کاررروائی سے روک دیا۔عدالت نے ارسلان ظفر کو شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرانے کاحکم دیتے ہوئے سماعت12 اکتو بر تک ملتوی کردی ۔

نجی ٹی وی کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ڈائریکٹر ایس ای سی پی ارسلان ظفر پر ڈیٹا چوری الزامات کی انکوائری کے کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیاکہ پہلے بتائیں کمپنی کس کی ہے؟ ، وکیل ایس ای سی پی نے کہاکہ یہ کمپنی عاصم سلیم باجوہ کی ہے، چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ عاصم سلیم باجوہ کی کمپنی ہے تو انکوائری شروع کردی، ایس ای سی پی نے آج تک اپنا کام کبھی کیا نہیں اور ایک کیس میں انکوائری شروع کی گئی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ پوری دنیا میں قانون ہے کہ پبلک انٹرسٹ کیلئے چیزوں کو شیئر کیا جاتا ہے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ انکوائری کرنے کیلئے کس نے کہا ؟ ،کس کی معلومات لیک کی گئی جو معاملہ حساس بن گیا ؟۔

عدالت نے کہاکہ ایس ای سی پی کا کنڈکٹ اس درخواست کو سماعت کیلئے مقرر کرنے کیلئے کافی ہے،ایس ای سی پی کے کنڈکٹ سے واضح ہوگیا ادارہ آزادانہ کام نہیں کررہا،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ یہ عدالت بھی ایک کمپنی کورٹ ہے، ایس ای سی پی نے آج تک اعتراض نہیں کیا، عدالت نے کہاکہ شیئرہولڈنگ معلومات پبلک کرنا کیسے حساس بن گیا ؟ایس ای سی پی اپنے کنڈیکٹ سے معاملے کو مشکوک بنارہی ہے۔

وکیل ایس ای سی پی نے کہاکہ کانفیڈنشل رپورٹ لیک ہوئی تو ملازمین کو شوکاز نوٹس کیے،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ عدالت کو بتائیں اس کیس میں خاص کیا ہے، کمپنی تو ڈیٹا ویب سائٹ پر ڈالتی ہے، وکیل ایس ای سی پی نے کہاکہ عاصم سلیم باجوہ کی کمپنیوں کی شیئر ہولڈنگ تفصیلات شیئر کی گئیں،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ ریگولیٹر کی جانب سے معلومات پبلک کی جاتی ہیں، اس سے ہی احتساب ہوتا ہے،یقین ہے وزیراعظم کو اس تمام معاملے سے باخبر رکھا گیا ہوگا۔

وکیل ایس ای سی پی نے ارسلان ظفر کیخلاف بنائی گئی انکوائری رپورٹ عدالت کو پڑھ کر سنائی ، چیف جسٹس ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ اس کیس میں کمپلیننٹ کون ہے ؟ ،چیف جسٹس نے کہاکہ ایس ای سی پی صرف اس کیس میں کیوں دلچسپی لے رہی ہے،جو چیز ایشو تھی نہیں اس کو ایشو کیوں بنایا ؟ ۔

چیف جسٹس ا طہر من اللہ نے کہاکہ ابھی آپ نے بہت کچھ بتانا ہے، یہ پبلک انٹرسٹ کی چیزیں ہیں، پبلک ڈومین کی چیزیں ہیں اس کو لیک ہوئی کہنا نہیں چاہیے، عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی جواب طلب کرلیا،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ عدالت کو بتائیں، پبلک ڈومین کی چیزیں کیسے لیک ہوجاتی ہے، وکیل ایس سی پی نے کہاکہ درخواست گزار شوکازنوٹس کا جواب تو جمع کرائے،عدالت نے ایس ای سی پی کو ارسلان ظفر کیخلاف کاررروائی سے روک دیا۔عدالت نے ارسلان ظفر کو شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرانے کاحکم دیتے ہوئے سماعت12 اکتو بر تک ملتوی کردی ۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -