اسد رﺅف کا پاکستان میں امپائرنگ کے معیار پر تشویش کا اظہار، قومی ٹیم کے ریویو لینے کے طریقے پر بھی اعتراض اٹھا دیا مگر کیوں؟

اسد رﺅف کا پاکستان میں امپائرنگ کے معیار پر تشویش کا اظہار، قومی ٹیم کے ...
اسد رﺅف کا پاکستان میں امپائرنگ کے معیار پر تشویش کا اظہار، قومی ٹیم کے ریویو لینے کے طریقے پر بھی اعتراض اٹھا دیا مگر کیوں؟
کیپشن:    سورس:   Twitter

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ایلیٹ پینل کا حصہ رہنے والے سابق پاکستانی امپائرز اسد رﺅف اور ندیم غوری نے پاکستان میں امپائرنگ کے معیار پر تشویش کا اظہار کر دیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق نجی خبر رساں ادارے کو دئیے گئے انٹرویو میں اسد رﺅف نے کہا کہ کوالٹی کرکٹ کیلئے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سمیت تمام ایونٹس میں معیاری امپائرنگ پر توجہ دینا پڑے گی کیونکہ امپائر کا ایک غلط فیصلہ پورے ایونٹ کو خراب کرسکتا ہے۔

اسد رﺅف نے پاکستانی ٹیم کی ڈی آر ایس کے معاملے میں مہارت کو بھی ناکافی قرار دیا اور کہا کہ کپتان صرف باﺅلرز کے کہنے پر ریویو لے تو نتائج اچھے نہیں ملیں گے، باﺅلر تو وکٹ کیلئے جذباتی ہوتا ہے، آسٹریلیا نے ڈی آر ایس کا بہتر استعمال جاننے کیلئے سائمن ٹوفل سے مدد لی، پاکستانی ٹیم کو بھی ایسا کرنا چاہیے۔

اسد رﺅف نے واضح کیا کہ انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) کے دوران بھارتی بورڈ نے یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے مجھ پر پابندی لگائی حالانکہ میرے خلاف کوئی شواہد نہیں تھے، ویزا اور سیکیورٹی ایشوز کی وجہ سے ممبئی نہیں گیا، اگر کرکٹ بورڈ ساتھ دیتا تو میرے خلاف فیصلہ نہ آتا۔ 

دوسری جانب ندیم غوری نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافے سے امپائرنگ آسان ہوگئی اور اب اگر کرکٹ کا پس منظر رکھنے والے لوگ امپائرنگ کے شعبے میں آئیں گے تو جلد کامیاب ہوں گے،میں 19،20 سال کرکٹ کھیل کر امپائرنگ میں آیا تو میرے اعتماد میں اضافہ ہوا، انہوں نے بھی خود پر لگائی جانے والی پابندی کو غیر منصفانہ قرار دیا۔

مزید :

کھیل -