فارن افیئر آفس کے باہر ڈاکٹر  پر  پنجاب پولیس کے اہلکاروں کا تشدد لیکن یہ اب کہاں ہیں؟ وزیراعظم کے معاون خصوصی نے دعویٰ کردیا

فارن افیئر آفس کے باہر ڈاکٹر  پر  پنجاب پولیس کے اہلکاروں کا تشدد لیکن یہ اب ...
فارن افیئر آفس کے باہر ڈاکٹر  پر  پنجاب پولیس کے اہلکاروں کا تشدد لیکن یہ اب کہاں ہیں؟ وزیراعظم کے معاون خصوصی نے دعویٰ کردیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) فارن افیئر آفس کے باہر  سیکیورٹی کے لیے تعینات دو پولیس اہلکاروں نے پی آئی سی میں تعینات ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، پولیس اہلکار گالم گلوچ بھی کرتے رہے تاہم ویڈیو سامنے آنے پر متعلقہ حکام نے نوٹس لیا اور ڈاکٹر شہباز گل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک اہلکار کو گرفتار کرلیاگیا جبکہ دوسرا تاحال فرار ہے ، یاد رہے کہ پنجاب پولیس سے موٹروے کیس کا مرکزی ملزم بھی تاحال فرار ہے جو پکڑا نہیں جاسکا۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر نعمان پر تشدد کی ویڈیو سامنے آئی تو سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے نوٹس لیا اور ایس پی سیکیورٹی اور ایس پی ہیڈ کوارٹر کو انکوائری کا حکم دیا جس میں ہیڈ کانسٹیبل گلفام اور کانسٹیبل اسلام قصور وار قرارپائے ، دونوں کیخلاف تھانہ شادمان میں مقدمہ درج کرلیاگیا جبکہ جی این این کے مطابق دونوں اہلکاروں کو حراست میں لے لیاگیا ۔ ان اہلکاروں نے بیریئر کے پاس موجود ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنا یا، اس کا گریبان پکڑا اور غلیظ زبان بھی استعمال کی ۔ 

سامنے آنیوالی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ایک شخص کو گریبان سے پکڑ رکھا ہے جو بتاتا ہے کہ میں پی آئی سی میں ڈاکٹر ہوں، یہ کیا کررہے ہیں ؟اسی اثنا میں ایک اور شخص ویڈیو بنانا شروع کردیتا ہے جس کے بعد پولیس اہلکار اس سے موبائل چھیننے کی کوشش کرتے ہیں اور لڑائی جھگڑا شروع ہوجاتاہے ، اس کی آواز میں غلیظ گفتگو اور ویڈیو ڈیلیٹ کر ، ویڈیو ڈیلیٹ کر جیسے الفاظ سنے جاسکتے ہیں۔

یہ ویڈیو شیئرکرتے ہوئے صارف نے سوال اٹھایا کہ لاہور میں وزارت خارجہ کے کیمپ آفس کے قریب، سوال یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر کی غلطی تھی توویڈیو ڈیلیٹ کروانے کے لیے  اس کے بھائی پر کیوں حملہ کیا گیا؟ کب تک بدمعاشی چلے گی بھائی تمہاری؟ آپ کو عوام  کو تشدد کا نشانہ بنانے کی بجائے ان کی حفاظت کرنا کب آئے گی ؟یہ ویڈیو ہر حال میں وائرل ہونی چاہیے ۔ 

اس ویڈیو کے جواب میں وزیراعظم کے معاون ڈاکٹر شہبازگل نے لکھا کہ "ان دونوں پولیس ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کر کے کانسٹیبل گلفام کو گرفتار کر لیا گیا اور کانسٹیبل اسلام ابھی مفرور ہے"۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -