طلال چوہدری پر تشدد کا معاملہ،حکومت نے نون لیگی ایم این اے عائشہ رجب بلوچ کو تحفظ فراہم کرنے کا اعلان کردیا 

طلال چوہدری پر تشدد کا معاملہ،حکومت نے نون لیگی ایم این اے عائشہ رجب بلوچ کو ...
طلال چوہدری پر تشدد کا معاملہ،حکومت نے نون لیگی ایم این اے عائشہ رجب بلوچ کو تحفظ فراہم کرنے کا اعلان کردیا 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر مملکت طلال چوہدری پر ہونے والے تشدد کی گھتیاں تاحال سلجھ نہیں سکیں اور واقعہ کے فوری بعد کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر اعام پر آنے کے بعد بھی پولیس اب تک کسی ملزم   کو گرفتار نہیں کر سکی ،ایسے میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل بھی میدان میں آگئے ہیں اور حکومت کی جانب سے خاتون رکن اسمبلی عائشہ رجب بلوچ کو تحفظ فراہم کرنے کا اعلان کردیا ہے،دوسری طرف پولیس نے رکن قومی اسمبلی عائشہ رجب بلوچ کے گھر کے باہر پولیس سیکیورٹی بڑھا دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ٹویٹس کرتے ہوئے ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ طلال چوہدری کا معزز خاتون ایم این اے کو ہراس کرنے کا واقعہ افسوس ناک ہے،حکومت اس پر ایکشن لے گی اور عائشہ صاحبہ کی اس غنڈہ گردی سے ہر صورت حفاظت کرے گی،فیصل آباد پولیس کو اس پر فوری ایکشن لینا چاہئیے اور معزز رکن اسمبلی کہ گھر پر پولیس سیکورٹی تعینات کریں اور قانونی کاروائی کریں۔انہوں نے اپنے دوسرے ٹویٹ میں کہا کہ یہ واقعہ مسلم لیگ ن کا اصل چہرہ عوام کے سامنے لاتا ہے، طلال چوہدری مریم صفدر صاحبہ کے قریبی اور قابل اعتماد ساتھی ہیں،طلال کی یہ حرکت مریم صفدر اور تمام مسلم لیگ ن کے لئیے قابل شرم حرکت ہے، ماضی میں بھی خواجہ آصف ہوں یا طلال چوہدری ، خواتین بارے یہ نازیبا کلمات کہتے رہے ہیں۔

اس سےقبل ڈاکٹر  شہباز گل نےٹویٹ کرتےہوئےکہاتھا کہ لاہور پولیس کو طلال چوہدری کو سیکیورٹی دینی چاہئیے،صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشدسے درخواست ہے کہ طلال کے علاج معالجے کا خصوصی خیال کیا جائے جبکہ سی سی پی او  لاہور کو ذاتی دلچسپی لے کر واقعے کی ایف آئی آر درج کروانی چاہئیے اور جس کا گناہ ہے اسے سزا دینی چاہئیے۔

یاد رہے کہ سابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو تین روز قبل فیصل آباد میں رات گئے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد وہ  لاہور کےنجی ہسپتال میں زیر علاج ہیں ،ایک موقف ہے کہ لیگی خاتون رہنما کیساتھ مبینہ افیئر کی وجہ سے  انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ طلال چوہدری کے بھائی کا کہناتھاکہ کینال روڈ پر چار افراد نے رات کی تاریکی میں انہیں تشد د کا نشانہ بنایا ، 23 ستمبر کی رات کو طلال چودھری نے پولیس کو  بتایا کہ عبداللہ گارڈن میں ان کیساتھ ڈکیتی ہوئی اور کال کرکے مدد مانگی ، کچھ ہی دیر بعد خاتون رکن کی بھی پولیس کو کال آگئی اور لوکیشن کا بتاتے ہوئے موقف اپنایا کہ کچھ لوگ انہیں حراساں کررہے ہیں۔

مزید :

قومی -