وہ یورپی ملک جہاں اذان پر پابندی کیخلاف مقدمہ مسلمانوں نے جیت لیا، بڑی خوشخبری

وہ یورپی ملک جہاں اذان پر پابندی کیخلاف مقدمہ مسلمانوں نے جیت لیا، بڑی ...
وہ یورپی ملک جہاں اذان پر پابندی کیخلاف مقدمہ مسلمانوں نے جیت لیا، بڑی خوشخبری
کیپشن:    سورس:   creative commons license

  

برلن(مانیٹرنگ ڈیسک) جرمنی میں 5سال کی پابندی کے بعد ایک بار پھر بالآخر اذان کی آواز گونجنے لگی۔ الجزیرہ کے مطابق جرمنی کی ریاست نارتھ رینی ویسٹ فیلیامیں واقع قصبے اوئر ایرکنشوک میں 5سال قبل ایک میاں بیوی نے قصبے کی مسجد کے سپیکر سے اذان بند کروانے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا تھا جس پر فیصلہ آنے تک اذان پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ قصبے کی ترک نژاد کمیونٹی نے اس میاں بیوی کے خلاف 5سال طویل قانونی جنگ لڑی اور بالآخر گزشتہ روز مسلمانوں کے حق میں فیصلہ سنا دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس میاں بیوی کا گھر مسجد سے 900میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور ان کا عدالت میں کہنا تھا کہ سپیکر کے ذریعے اذان دینا مذہب کی آزادی سے تجاوز ہے اور اس سے دوسروں کے آرام میں خلل پڑتا ہے۔ تاہم عدالت کی جج اینیٹ کلینشینگر نے ان کا موقف یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ”ہر معاشرے کو یہ قبول کرنا چاہیے کہ بسااوقات دوسروں کو علم ہو کہ ان کے ساتھ رہنے والے دوسرے مذہب کے لوگ اپنی عبادت کر رہے ہیں۔ جب تک کسی کو جبراً مذہبی رسومات اور عبادت کی طرف نہیں لایا جاتا، کوئی بھی عمل مذہبی آزادی سے تجاوز قرار نہیں پاتا۔ چنانچہ مدعا علیہان کی شکایت کا یہاں کوئی جواز نہیں بنتا۔“ رپورٹ کے عدالت نے ان ریمارکس کے ساتھ مسلمانوں کو مسجد کے لاﺅڈ سپیکر سے اذان دینے کی اجازت دے دی۔

مزید :

بین الاقوامی -