برطانوی وزیراعظم بھی تنگ دستی کا شکار، ان کی زندگی کیسی گزررہی ہے اور دراصل وجہ کیا بنی؟ جان کر آپ کی بھی حیرت کی انتہاءنہ رہے 

برطانوی وزیراعظم بھی تنگ دستی کا شکار، ان کی زندگی کیسی گزررہی ہے اور دراصل ...
برطانوی وزیراعظم بھی تنگ دستی کا شکار، ان کی زندگی کیسی گزررہی ہے اور دراصل وجہ کیا بنی؟ جان کر آپ کی بھی حیرت کی انتہاءنہ رہے 
کیپشن:    سورس:   creative commons license

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی آمدنی، تنگ دستی اور نجی دوستوں کے ساتھ ملاقات اور کھانے پر اٹھنے والے اخراجات کے متعلق ایک ایسی خبر سامنے آ گئی ہیں کہ ہمارے جیسے ملک کے شہری سن کر ورطہ¿ حیرت میں مبتلا ہو جائیں گے۔ برطانوی اخبار میل آن لائن نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ وزیراعظم بننے کے بعد بورس جانسن کی آمدنی میں دو تہائی سے زیادہ کمی واقع ہو گئی ہے اور وہ ہمہ وقت تنگ دستی کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔ اپنی مضافاتی رہائش گاہ اور 10ڈاﺅننگ سٹریٹ میں جب وہ اپنے دوستوں اور فیملی کے لوگوں کو بلاتے ہیں تو ان کے کھانے کا بل خود وزیراعظم کو دینا پڑتا ہے چنانچہ وہ بہت سستا کھانا آرڈر کرتے ہیں اور گاہے مہمانوں سے کہتے ہیں کہ ”پورا کھانا ختم کیجیے کیونکہ مجھے اس کا بل ادا کرنا ہے۔“

معروف صحافی اینڈریو پرائس نے میل آن لائن کے لیے لکھے گئے اپنے آرٹیکل میں بتایا ہے کہ ”میں نے بھی وزیراعظم کی میزبانی کا مشاہدہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے جو کھانا ہمیں کھلایا تھا وہ کچھ خاص نہیں تھا۔ اصل سانحہ یہ ہے کہ وزیراعظم بورس جانسن نجی مہمانوں کو اچھا کھانا کھلانا افورڈ ہی نہیں کرسکتے۔ میں آئندہ وزیراعظم کا کوئی دعوت نامہ قبول نہیں کروں گا کیونکہ میرے خیال میں یہ غیرمنصفانہ ہے کہ انہیں ہمیں اپنی جیب سے کھلانا پڑتا ہے اور اس کے بدلے انہیں کوئی رقم نہیں ملتی۔ “ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم بورس جانسن کی مالی حالت ناگفتہ بہ ہونے کی دو وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ پہلی ان کا وزیراعظم بننا اور دوسری وجہ ان کی دوسری بیوی سے طلاق ہونا ہے۔ وزیراعظم بننے کے بعد ان کی آمدنی بہت زیادہ کم ہو گئی اور دوسری اہلیہ میرینا وہیلر کے ساتھ طلاق کے تصفیے میں انہیں بہت سی رقم سے ہاتھ دھونا پڑ گئے اور وہ کنگال ہو کر رہ گئے تھے۔ 

وزیراعظم جانسن کے ایک دوست کا کہنا ہے کہ ”اس کے بعد سے وزیراعظم جانسن اکثر مالی تنگدستی کا رونا روتے رہتے ہیں۔ایک ایسا آدمی جو ہمیشہ سے فیاض اور کھلے دل کا مالک رہا ہو، اس کے لیے اس طرح کی مالی حالت میں ایڈجسٹ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ پہلے وہ مختلف اخباروں کے لیے کالم لکھتے تھے اور ان سے اچھی خاصی آمدنی ہو جاتی تھی۔ اب وزیراعظم کی حیثیت میں وہ کالم بھی نہیں لکھ سکتے اور ان کی بطور وزیراعظم تنخواہ بھی دیگر ممالک کے سربراہوں کی نسبت بہت کم ہے۔ جرمن چانسلر کی تنخواہ 3لاکھ 20ہزارپاﺅنڈ ہے جبکہ بورس جانسن کو صرف ڈیڑھ لاکھ پاﺅنڈ تنخواہ ملتی ہے۔ “ وزیراعظم کے اس دوست کا کہنا تھا کہ ”ہم بورس جانسن کو دلاسہ دیتے ہیں کہ گھبراﺅ مت، جب تم ڈاﺅننگ سٹریٹ سے نکلو گے تو ٹونی بلیئراور ڈیوڈ کیمرون کی طرح بہت رقم کماﺅ گے۔“

مزید :

برطانیہ -