کرپٹ افسران و اہلکاروں کے احتساب کا عمل بھی جاری  ہے، سہیل سکھیرا

 کرپٹ افسران و اہلکاروں کے احتساب کا عمل بھی جاری  ہے، سہیل سکھیرا

  

لا ہو ر (کر ائم رپو رٹر)  انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی کے تحت نالائق، کام چور اور کرپٹ افسران و اہلکاروں کے احتساب کا عمل بھی جاری ہے اور اسی سلسلے میں ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب سہیل اختر سکھیرا نے عوامی شکایات اور کرپشن کے الزامات پر2 ڈی ایس پیز سمیت18 سب انسپکٹرز، ہیڈ کانسٹیبلز، کانسٹیبلز اور ٹریفک وارڈنز کو ٹریفک ہیڈ کوارٹر کلوز کر دیا   ڈی آئی جی ٹریفک سہیل سکھیرا نے کہاہے کہ آئی جی پنجاب کے احکامات کے مطابق لائسنسنگ کے اجراء کے عمل کو مکمل شفاف اور شہریوں کیلئے مزید آسان بنایا جارہا ہے انہوں نے مزیدکہاکہ کرپشن سمیت دیگر بے ضابطگیاں ثابت ہونے گزشتہ چند روز میں مجموعی طور پر اٹھارہ افسران واہلکاروں کو ٹریفک ہیڈ کوارٹرز کلوز کیا گیا  جن میں ڈسٹرکٹ ٹریفک آفیسر بہاولنگر ڈی ایس پی، حسن دانیال بشیر اور ڈسٹرکٹ ٹریفک آفیسر ڈی جی خان عمران رشیدشامل ہیں جبکہ ریڈر ٹو سی ٹی او ملتان عمر اشتیاق، ٹریفک وارڈن لائسنسنگ برانچ ملتان عبدالرؤف، انچارج لائسنس برانچ سٹی ٹریفک پولیس ملتان مہیر اخلاق احمد،انچارج لائسنس برانچ بہاولنگر محمد اجمل، ٹریفک وارڈن ملتان تجمل احمد اور ٹریفک وارڈن بہاولنگر وسیم طاہرکو معطل کرکے کلوز لائن کردیا گیا  اسی طرح تین روز قبل رحیم یار خان ٹریفک پولیس سے سب انسپکٹر شکیل احمد، سب انسپکٹرحافظ نور الدین،ہیڈ کانسٹیبل محمد طارق، ہیڈ کانسٹیبل عبدالرزاق پارس، کانسٹیبل امتیاز احمد رحیم، کانسٹیبل عبدالرحمان، کانسٹیبل عبدالعزیز راہی،کانسٹیبل احسان علی،کانسٹیبل ایاز احمد اور کانسٹیبل سلیم احمد کو بھی معطل کرکے کلوز لائن کیا جاچکا ۔کلوز اور معطل ہونے والے افسران واہلکاروں کے خلاف ایس ایس پی ٹریفک ہیڈ کوارٹرز ڈاکٹر بشریٰ کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا  جو انکے خلاف مزید باضابطہ انکوائری کریں گی۔

ڈی آئی جی ٹریفک سہیل اختر سکھیرا نے ویجی لینس ٹیموں کو ہدایت کی کہ کرپشن کے خاتمے اور شہریوں کیلئے لائسنسنگ کا اجراء آسان بنانے کیلئے وہ مختلف اضلاع کی لائسنسنگ برانچوں میں اچانک انسپکشنز جاری رکھیں اور اپنی انکوائری رپورٹس اور سفارشات ساتھ ساتھ ٹریفک ہیڈکوارٹرز بھجواتی رہیں تاکہ قوانین اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کے مرتکب افسران واہلکاروں کے خلاف محکمانہ کاروائیاں جاری رہیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ شہریوں کیلئے کرپٹ افسریا اہلکار کیلئے محکمہ پولیس میں کوئی جگہ نہیں اور ایسی کالی بھیڑوں کو نکال باہر کیا جائے گا۔ انہوں نے چیف ٹریفک افسران کو ہدایت کہ وہ بھی اپنے اضلاع میں ٹریفک لائسنسنگ برانچوں کے سرپرائز وزٹس میں تیزی لائیں اور روٹیشن پالیسی سمیت جاری کردہ تمام ایس او پیز پر عمل درآمد کو ہر صورت یقینی بنائیں۔

مزید :

صفحہ آخر -