ایم ایس ایم دھرنا کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کیا جائے،حسنین مصطفائی

ایم ایس ایم دھرنا کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کیا جائے،حسنین مصطفائی

  

لاہور(نمائندہ خصوصی) ملک گیر طلبہ تنظیموں نے مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے (پی ایم سی) اسلام آبادکے سامنے  دھرنے کے شرکاء کی مطالبات کی تائید وحمایت کا اعلان کرتے ہوئے حکومت کومتنبہ کیا ہے کہ حکومت پرامن شرکاء دھرنے کے خلاف طاقت سے گریز کرتے ہوئے انکے مطالبات فوری تسلیم کرے تاکہ طلبہ برادری میں پایا جانے والا اضطراب ختم ہوسکے۔ان خیالات کا اظہار انجمن طلبہ اسلام کے مرکزی سیکریڑی جنرل محمد حسنین مصطفائی۔آئی ایس او کے مرکزی صدرعارف حسین علی جان، پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر ملک موسی کھوکھر،مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے مرکزی سیکریڑی جنرل فرحان عزیز،مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی سیکریڑی جنرل یاسر عباسی،سرائیکی سٹوڈنٹس موومنٹ کے مرکزی صدر کاشف خاں کچھی،ایم ایس ایف(ق) کے مرکزی صدر سہیل چیمہ جمعیت طلبہ اسلام (ف)کے نائب صدر رانا محمدعثمان،متحدہ طلبہ محاذ کے نائب صدر عامر عدیل اور دیگر نے کیا۔مختلف طلبہ تنظیموں کے قائدین نے کہا پاکستان میڈیکل کمیشن داخلہ ٹیسٹ کا انعقاد ملک بھر میں ایک ہی دن کیا جائے۔ملک بھر میں md/catکاٹیسٹ کا دوبارہ لیا جائے۔پاکستان میڈیکل کمیشن کو دولاکھ سے زائد طلبہ وطالبات کے مستقبل سے کھیلنے کی اجازات نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا شرکاء دھرنا کو کوئی اکیلا نہ سمجھے ملک بھر کی طلبہ تنظیمیں اور طلبہ برادری انکے ساتھ ہے۔پرامن دھرنے کے شرکاء کے مطالبات نہ مانے گئے تو ہم بھی اپنے کارکنان کو سٹرکوں پر آنے اور دھرنے میں شرکت کی کال دیں گے۔انہوں نے مزید کہا حکومت طلباء برادری کو درپیش مسائل حل کرنے کے لئے فوری اقدامات کرے۔ فیسوں میں اضافہ تعلیم دشمنی ہے۔ غریب اور امیر طلباء کو یکساں تعلیمی سہولتوں کے ساتھ ایک ہی نصاب ملک بھر میں پڑھانا ہو گا۔ ایچی سن کالج اور ٹاٹ سکول کا فرق ختم کیا جائے۔ طلباء کی نظریاتی و سیاسی تربیت کے لئے طلباء یونینز کی بحالی ضروری ہے۔لسانی بنیادوں پر طلبہ کو تقسیم کیا جارہا ہے۔حکومت طلباء کے جمہوری حقوق کا احترام کرتے ہوئے طلباء یونینز کے انتخابات کا اعلان کرے۔ نصاب تعلیم اور نظام تعلیم کو نظریاتی اور اسلامی بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ملک میں طبقاتی نظام تعلیم کو ختم کرکے غریب اور امیر طلباء کیلئے یکساں تعلیمی سہولتوں کے ساتھ پورے پاکستان میں لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔موجودہ تمام مسائل کا حل طلبہ یونین کی بحالی میں مضمرہے، طلبہ مسائل کے حل کیلئے حکومت کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کررہی، طلبہ برادری کو ایک بار پھر باہر نکلنے پر مجبور نہ کیا جائے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -