امریکہ میں مودی مخالف احتجاجی مظاہرے جاری،کملا ہیرس سے ملاقات کے بعد بھارتی میڈیا کی بھی شید تنقید

امریکہ میں مودی مخالف احتجاجی مظاہرے جاری،کملا ہیرس سے ملاقات کے بعد بھارتی ...

  

 نیو یارک، واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)  بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی امریکی صدر سے ملاقات کے موقع پر وائٹ ہاؤس کے باہر مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے بھا رت کی ریاست مشرقی پنجاب کو آزادی دینے کا مطالبہ کیا اور نعرے بھی لگائے۔ سکھ تنظیموں کے افرا د کی بڑی تعداد نے وائٹ ہاؤس کے سامنے خالصتان کا پرچم بھی لہرا دیا۔ وا ئٹ ہاؤس کے باہر مظاہرہ کرنیوالوں نے ”مودی بھارتی دہشتگردی کا اصل چہرہ ہے“ کے نعرے لگائے۔ ادھر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ امریکہ کیخلاف احتجاج کیلئے بڑی تعداد میں بھارتی نژاد امریکی واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے سامنے لافیٹ اسکوائر پارک میں جمع ہوئے۔ مظاہرین نے مودی کیخلاف نعرے لگائے اور انہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ”بھارت کو فسطائیت سے بچاؤ“ جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر ظلم و ستم، نئے زرعی قوانین اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی بربریت پرمودی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ادھر جنیوا میں تحریک کشمیر یورپ نے نریند ر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے بزرگ کشمیر ی حریت قائد سید علی گیلانی کی جبری تدفین کیخلاف اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ہیڈکوارٹر کے سامنے ایک انوکھا احتجاج کیا۔تحریک کشمیر یورپ کے کارکن کفن پہن کر اور ہا تھوں میں سید علی گیلانی کی تصاو یر لے کر زمین پر لیٹ گئے اور’’اقوام متحدہ جاگ جاؤ“ اور”مقبوضہ جموں وکشمیر میں قتل عام بند کرو“ جیسے نعرے لگائے۔ دوسری طرف امریکہ میں بھا رتی وزیراعظم نریندر مودی کی امریکی نائب صدر کملا ہیرس سے ملاقات کے بعد بھارتی میڈیاپر بھی مودی پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔امریکی نائب صدر سے ملاقات کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اس حوالے سے 9 ٹوئٹ کیے جبکہ کملا ہیرس نے ایک بھی ٹوئٹ نہیں کیا۔بھارت کے ایک مبصر نے کہا کوئی مہمان بن کر جائے تو اسے دھکا تو نہیں دیا جاتا مگر کملا ہیرس اور امریکی انتظامیہ مودی سرکار کو پسند نہیں کرتے، کملا ہیرس مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی منسوخی پر بھی تنقید کرچکی ہیں۔

مودی مخالف احتجاج

مزید :

صفحہ اول -