طالبان کا شناختی کارڈ،پاسپورٹ میں تبدیلی کا اعلان، امریکہ کی عالمی تنظیموں کو طالبان،حقانی نیٹ ورک سے لین دین کی اجازت

طالبان کا شناختی کارڈ،پاسپورٹ میں تبدیلی کا اعلان، امریکہ کی عالمی تنظیموں ...

  

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)طالبان نے افغانستان کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ میں تبدیلی کا اعلان کردیاجبکہ  عبوری وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے طالبان جنگجو ؤں اور کمانڈرز کی شہریوں سے بدتمیزی پر سرزنش کرتے ہوئے کہا ہے بدتمیزیاں برداشت نہیں کی جائیں گی،افغانستان میں عام معافی کے اعلان کے تحت کسی مجاہد کو کسی سے انتقام لینے کا حق نہیں، صوبہ ہرات میں طالبان فورس نے چار اغواء کاروں کو فائرنگ کے تبادلہ میں ہلاک کردیا اور بعدازاں ان کی لاشیں شہر کے مرکزی چوراہے پر کرین سے لٹکا دیں جبکہ مغوی باپ بیٹے کو بحفاظت بازیاب کرلیاتاہم فائرنگ کے تبادلے میں ایک طالب اور ایک شہری سمیت دو افراد زخمی ہوگئے۔دوسری طرف دارالحکومت میں افغانستان کے  بیرون ملک پڑے زرمبادلہ کے ذخائر بحال کرنے کیلئے کابل میں مظاہرہ کیا گیا۔افغانستان کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق طالبان کے ترجمان اور نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہدنے کہاکہ افغانستان میں گزشتہ حکومت کے جاری کردہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ اپنی معیاد تک کار آمد ہیں،مستقبل میں جو نئے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ جاری کیے جائینگے ان پر’اسلامی امارت‘ لکھا جائیگا،اس وقت افغانستان کے پاسپورٹ پر ’اسلامی جمہوریہ افغانستان‘ تحریر ہے، طالبان کی جانب سے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد شناختی کارڈ اور پاسپورٹ دفاتر بند پڑے ہیں۔دوسری طرف طالبان کے بانی ملا عمر کے بیٹے اور عبوری وزیر دفاع ملا یعقوب نے اپنے آڈیو پیغام میں کچھ کمانڈرز اور جنگجوؤں کی بدتمیزی پر ان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا ہے شہریوں سے بدتمیزیاں برداشت نہیں کی جائیں گی، افغانستان میں عام معافی کے اعلان کے تحت کسی مجاہد کو کسی سے انتقام لینے کا حق نہیں، کچھ شر پسند، بدنام سابق فوجیوں کو طالبان یونٹوں میں شامل ہونے کی اجازت دی گئی تھی جنہوں نے بعض اوقات پرتشدد زیادتیوں کا ارتکاب کیا۔طالبان رہنماء نے اپنے ساتھیوں کو ایسے لوگوں کو اپنی صفوں سے دور رکھنے کی ہدایت کی اور کہا ہم اپنی صفوں میں ایسے لوگ نہیں چاہتے۔ملا یعقوب نے طالبان جنگجوؤں کے مختلف وزارتوں میں تصویریں لینے اور ویڈ یو بنانے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا یہ قابل اعتراض فعل ہے کیونکہ لوگ اپنا موبائل فون نکال کر اہم اور حساس وزارتوں میں بغیر کسی وجہ کے تصاویر لے رہے ہیں، یوں گھومنا اور ویڈیوز بنانا دنیا اور آخرت میں مددگار ثابت نہیں ہوگا۔ادھرمقامی و غیرملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کے معروف شہر ہرات میں گزشتہ روزچار مبینہ اغواء کاروں نے باپ بیٹے کو اغواء کرلیا جس پر طالبان فورس نے کارروائی کرتے ہوئے اغواء کاروں کے ٹھکانے پر دھاوا بول دیا، جس پر اغواء کاروں اور طالبان فورس کے اہلکاروں کے مابین فائر نگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں چاروں اغواء کار ہلاک کردیئے گئے جبکہ فائرنگ کی زدمیں آکر ایک طالب اور ایک شہری بھی زخمی ہوگئے۔حکام کے مطابق دونوں مغوی باپ بیٹے کو اغوء کارو ں کے چنگل سے بحفاظت چھڑالیا گیا۔میڈیا نے مقامی افراد کے حوالے سے رپورٹ دی کہ بعدازاں طالبان نے ایک اغواء کار کی لاش شہر کے مرکزی چوراہے میں کرین سے لٹکا دی اور مقامی لوگوں سے کہا چار اغواء کاروں نے باپ بیٹے کو اغواء کرلیا تھا جنہیں یہ سزادی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق باقی تین اغواء کاروں کی لاشیں بھی ممکنہ طورپر دیگر چوراہوں میں لٹکادی گئیں تاہم فوری طورپر مزید معلومات حاصل نہیں ہوسکیں۔دریں اثناء بیرون ملک افغانستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بحال کرنے کیلئے کابل میں مظاہرہ کیا گیا،  مظاہر ین کا کہنا تھا افغانستان میں ہر گزرتے دن کیساتھ معاشی مسائل سر اٹھا رہے ہیں،مظاہرین نے امریکہ اور بین الاقوامی اداروں سے امداد اور بیرون ملک افغانستان کے زرمبا دلہ کے ذخائر بحال کرنے کا مطالبہ کیا،خیال رہے امریکہ نے طالبان کے کنٹرول کے بعد افغانستان کے اپنے ملک میں موجود اثاثوں کو منجمد کردیا تھا، جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ نے بھی افغانستان کیلئے فنڈز کا اجرا ء کرنے سے انکار کررکھاہے۔ادھر افغانستان کی وزارت داخلہ نے سکریپ کی بیرون ملک منتقلی پر پابندی لگادی۔امریکی فوج افغانستان سے انخلا ء کے دوران کروڑوں ڈالرز مالیت کا فوجی سازو سامان چھوڑ کر گئی ہے اور کئی فوجی گاڑیاں اور دیگر سامان ناکارہ بنایا ہے جن پر سکریپ کا کام کرنیوالوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔تاہم اب افغان حکومت نے سکریپ کی منتقلی پر پابندی عائد کرتے ہوئے افغان وزارت داخلہ نے بیان جاری کیا ہے جس میں مرکزی و صوبائی پولیس سربراہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سکریپ کی سمگلنگ کی سختی سے روک تھام یقینی بنائیں،وزارت کا کہنا ہے سکریپ کی سمگلنگ کی روک تھام سے ملک میں کاروبار اور تجارت کو فروغ ملے گا لہٰذا اس حوالے سے سخت کارروائی کی جائے، پولیس افسران سمگلنگ میں ملوث افراد کو عدالتوں میں پیش کریں۔

طالبان اعلان

واشنگٹن،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) امریکہ نے عالمی تنظیموں کو طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے لین دین کی اجازت دیدی ہے جبکہ نجی ٹی وی کے مطابق امریکہ  افغانستان میں امداد کے بہاؤ کی مزید راہ ہموار کرنے کیلئے دو لائسنس بھی جاری کر رہا ہے، کیونکہ امریکہ کو خدشہ ہے اس کی طالبان پر عائد پابندیاں افغانستان میں انسانی بحران کو بڑھا سکتی ہیں،امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ایک لائسنس امریکی حکومت، این جی اوز اور اقوام متحدہ سمیت مخصوص عالمی تنظیموں کو طالبان یا حقانی نیٹ ورک کیساتھ لین دین میں ملوث ہونے کی اجازت دیتا ہے،دوسرا لائسنس عالمی تنظیموں کو طالبان حکومت کیساتھ خوراک، ادویات اور طبی آلات کی برآمد سے متعلق کچھ لین دین کی اجازت دیتا ہے۔دوسری طرف  امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے افغانستان میں فضائی حملوں کیلئے طالبان کو بتانا ضروری نہیں۔واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو میں جان کربی نے کہا طالبان سے فی الحال فضائی حدود سے متعلق بات کرنے کی ضرورت نہ ہی افغانستان میں فضائی حملوں کیلئے طالبان کو بتانا ضرور ی، انسداد دہشتگردی کیخلاف کارروائیوں کیلئے تمام اہم حکام سے رابطہ ہے، آگے بھی کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئیگی، فضائی حملوں کیلئے استعمال ہونیوالی صلا حیتوں پر یقین رکھتے ہیں اور معاون رابطوں کیلئے مخصوص اصولوں کی ضرورت نہیں۔ادھر یورپی یونین کی جانب سے موجود ہ مرحلے میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کے اہم کردار کا اعتراف کیاہے او رکہا ہے کہ کابل میں حکومت جامع ہونی چاہئے جس میں خواتین کو بھی نمائندگی دی جانی چاہئے، یورپی یونین نے اس برس کے آغاز سے اب تک افغانستان کو امداد کی مد میں پانچ کروڑ ستر لاکھ یورو فراہم کئے ہیں، یورپی اتحاد نے اس رقم کو چارگنا کرنے کا اعلان کیا اور گزشتہ ہفتے جنگ سے تباہ حال ملک کیلئے اضافی دس کروڑ یورو کا اعلان کیا گیا، ہم ملک میں کسی بھی انسانی بحران سے بچنے کیلئے افغانستان کو امداد فراہم کرتے رہیں گے۔ سرکاری نشریاتی ادارے ک

مزید :

صفحہ اول -