جعلی کرونا سرٹیفکیٹس،گروہ کا جوڈیشل ریمانڈ، جیل بھجوانے کاحکم

جعلی کرونا سرٹیفکیٹس،گروہ کا جوڈیشل ریمانڈ، جیل بھجوانے کاحکم

  

 ملتان (  خصو صی رپورٹر  ) جوڈیشل مجسٹریٹ ملتان نے نشتر ہسپتال اور میڈیکل اکیڈمی میں جعلی کورونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے اجرا اور فراڈ کرنے والے گروہ کے چھ (بقیہ نمبر51صفحہ7پر)

ارکان کا جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے جوڈیشل ریمانڈ منظور کرتے ہوئے جیل بھجوانے کا حکم دیا ہے۔ اس موقع پر ملزمان کی جانب سے کونسل محمد ارسلان خان نے دلائل پیش کیے۔ یاد رہے کہ اس مقدمہ میں ملوث متعدد ملزمان نے سیشن کورٹ سے عبوری ضمانتیں حاصل کررکھی ہیں۔قبل ازیں فاضل عدالت میں پولیس تھانہ ایف آئی اے سائبر کرائم سیل کے مطابق ڈاکٹر تیمور آصف نے شکایت درج کرائی کہ محکمہ صحت کے کئی اہلکار مبینہ ملی بھگت سے کورونا ویکسینیشن لگائے بغیر سرٹیفکیٹ جاری کررہے ہیں جو قومی خزانے اور قومی ساخ کو شدید نقصان پہنچانے کا ذریعہ بنے ہیں ان کے خلاف کاروائی کی جائے جس پر ایف آئی اے نے نشتر اسپتال اور  میڈیکل اکیڈمی میں جعلی کورونا ویکسین سرٹیفکیٹ کے اندراج اور فراڈ کے گروہ کی گرفتاری کی۔ ملازمین کی جانب سے شہریوں سے مبینہ طور پر بھاری رشوت وصول کرکے کورونا ویکسین کا مبینہ جعلی اندراج  اور NIMS پورٹل پر ڈیٹا اپلوڈ کیا جاتا تھا۔ سکینڈل میں ملوث چھ ملزمان جونئیر کلرک محمد اشرف، پوٹر اٹینڈنٹ محمد عبداللہ، میل چارج نرس نوید انجم، گارڈ محمد وسیم، غلام فرید اور شہزاد اقبال کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ اس مقدمہ میں فی میل چارج نرس شمائلہ عاشق،ہیڈ نرس شازیہ،  نرس شہزینہ، اسسٹنٹ عرفان، کمپیوٹر آپریٹرز زاہد اور عدنان محبوب، ڈیٹا انٹری آپریٹرز صدف اور کرن، کلرک محسن اور حنیف، وارڈ  اٹینڈنٹ اسامہ شامل ہیں جو نشتر ہسپتال میں تعینات ہیں۔ ملزمان کے موبائل فون اور ڈیٹا اندراج کے شواہد برآمد ہوئے ہیں۔ تمام ڈیجیٹل میڈیا بھی قبضہ میں لیا گیا ہے ملزمان سے مزید تفتیش اور برآمدگی ہونی نہیں ہے اس لیے جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے تاہم عدالت نے ایف آئی اے استدعا مسترد کردی ہے۔

ضمانتیں 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -