یورپی یونین کا افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کے کردار کا اعتراف

یورپی یونین کا افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کے کردار کا اعتراف

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) یورپی یونین نے افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کے اہم کردار کا اعتراف کیاہے او ر عالمی برادری پر زرو دیاہے کہ بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر سمیت ہر جگہ پر انسانی حقوق کا احترام کیا جائے، پاکستانی ساز وسامان کی پہلی منزل یورپی یونین ہے، یورپی یونین پاکستان اور بھارت کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو باہمی طور پر حل کرنے کیلئے کوششیں جاری رکھیں،یورپی یونین اور پاکستان انسداد دہشت گردی کے کئی منصوبوں میں بھی قریبی تعاون کر رہے ہیں، ہم پاکستانی سکیورٹی عملے کو آلات کے علاوہ تربیت بھی فراہم کر رہے ہیں۔ سرکاری نشریاتی ادارے کیساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں پاکستان میں یورپی یونین کی سفیر ایند رولا کیمینارانے کہا پاکستان نے افغا نستان سے یورپی یونین کے باشندوں کے محفوظ انخلاء میں اہم کردار ادا کیا، گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یورپی یونین کے نمائندوں اور ملکوں کی شخصیات نے پاکستانی حکام کیسا تھ متعدد ملاقاتیں کی ہیں جن میں زیادہ تر افغانستان میں پیدا ہونیوالی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اینڈرولا کیمینارا نے پاکستان کے اس اعلان کو سراہا کہ کابل میں حکومت جامع ہونی چاہئے جس میں خواتین کو بھی نمائندگی دی جانی چاہئے۔ یورپی اتحاد خطے میں ہونیوالی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر کے مسئلے پر کہا یورپی یونین نے ہمیشہ کہا ہم دونوں ممالک کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ مسئلے کو باہمی طور پر حل کرنے کیلئے کوششیں جاری رکھیں۔ ہمیں یہ دیکھ کر انتہائی حوصلہ ملا کہ گزشتہ برسوں کی نسبت لائن آف کنٹرول پر بہت کم خلاف ورزیاں ہوئیں یہ تنازع کے حل کیلئے فریقین میں مزید ہم آہنگی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ ہم کسی بھی جگہ پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کیخلاف ہیں۔ یورپی یونین کی سفیر نے کہا پاکستان کیساتھ تعلقات کثیرجہتی ہیں اور ہم موسمیاتی تبدیلی سمیت دیگر متعدد معاملات پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کو دیئے گئے جی ایس پی پلس درجے کی وجہ سے یورپی یونین پاکستانی مصنوعات کیلئے اولین اہمیت کا حامل مقام ہے۔2019 ء میں پاکستان نے یورپی یونین کی منڈی کو ساڑھے سات ارب یورو کی مصنوعات برآمد کیں۔یورپی یونین چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے شعبے میں بھی پاکستان کی معاونت کر رہی ہے تاکہ برآمدات میں ان کا حصہ بڑھے۔ ہم نے حال ہی میں ایس ایم ایز کیلئے یورپی یونین پاکستان بزنس فورم قائم کیا تاکہ انہیں یورپ میں اپنے ہم منصبوں کیساتھ رابطے میں سہولت ہو، جبکہ جی ایس پی پلس درجے کی وجہ سے  یورپی یونین میں اس کی مصنوعات پر کوئی درآمدی ڈیوٹی نہیں لگائی گئی۔ جی ایس پی پلس درجے کے طور پر پاکستان اقوام متحدہ کے 27ویں کنونشن کی اصلاحات پر کاربند ہے، جبکہ پاکستان نے ان میں سے کئی کنونشنز پر دستخط کر رکھے ہیں۔ جی ایس پی پلس درجے کا آئندہ جائزہ رواں سال کے آخر تک متوقع ہے۔یورپی یونین نے انتخابی امور پر پاکستان سے بھرپور تعاون کیا اور اس نے گزشتہ تین انتخابات میں انتخابی مبصرین بھیجے، یورپی یونین کے مبصرین کی بعض تجاویز پر پاکستان نے عملدرآمد کیا، تاہم اب بھی بعض معاملات زیرالتواء ہیں۔یورپی یونین نے بلوچستان میں واٹرمینجمنٹ کیلئے چار کروڑ یورو کے پروگرام پر دستخط کئے ہیں۔ یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان سٹریٹجک تعاون منصوبے پر دستخط کے بعد ثقافتی وفود کے تبادلے، تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور علم کے تبادلے جیسے شعبے شامل کئے گئے ہیں۔ دو سال قبل پاکستان کو ماسٹر اور پی ایچ ڈی کیلئے ایک و سکالرشپ دیئے گئے۔ پاکستان ERASMUS سکالرشپ حاصل کرنیوالا دنیا کا تیسرا کامیاب ترین ملک ہے اور پاکستان بھر سے کئی یونیورسٹیاں نئے نصاب اور تربیت کے آغاز کیلئے ERASMUS پلس پروگرام میں شامل ہو رہی ہیں۔پاکستان کے اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو تدریس کے نئے شعبوں میں تربیت کیلئے فنڈز فراہم کئے جا رہے ہیں۔ یورپی یونین اور پاکستان انسداد دہشت گردی کے کئی منصوبوں میں بھی قریبی تعاون، پاکستانی سکیورٹی عملے کو آلات کے علاوہ تربیت بھی فراہم کر رہے ہیں۔

یورپی یونین

مزید :

صفحہ اول -