کرکٹ جنٹلمین گیم یا گھناونی سازشوں کا کھیل

کرکٹ جنٹلمین گیم یا گھناونی سازشوں کا کھیل

  

جہاں میں اہل ایمان صورت خورشید جیتے ہیں 

اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے

پاکستان کرکٹ کی بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے۔ نیوزی لینڈ کی ”بھاگنے“ کی ہٹ دھرمی کے بعد انگلینڈ کی بیوفائی نے جیسے گھائل کر دیا اور آسٹریلیا کی ”بے رخی“ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ تین گورے ملکوں کی ٹیمیں ہمارے ازلی دشمن بھارت کی ”ہائبرڈ وار“ فیک نیوز کا شکار ہوئیں مگر ہماری کرکٹ کا کباڑہ کر گئیں۔ وزیراعظم عمران خان نے قومی ٹیم سے ملاقات کرکے حوصلہ افزائی کی۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن بھی اپنے کرکٹ بورڈ کے فیصلے سے خوش نہیں مگر ایک تو سچ ہے کہ بھارتی سازشیں ہمیشہ رہتی ہیں اور آئی سی سی میں تین بڑوں کی اجارہ داری بھی۔ اوپر سے کھیل میں ”سیاست“ اور اب مکروہ بھارتی عزائم ہمیں بتا رہے ہیں کہ وہ باز نہیں آئے گا اس لئے پاکستان کو بطور ریاست اپنے تشخص کیلئے ہنگامی اور بھرپور سفارتکاری کرنا ہوگی۔یہ صرف کرکٹ سے کھلواڑ نہیں ہماری ریاست کے لئے چیلنج بھی ہے۔دورہ پاکستان کی منسوخی پر برطانوی صحافی نے انگلش بورڈ کا دوہرا معیار بے نقاب کردیا اور کہا کہ ای سی بی کے دوہرے معیار کی وجہ سے انگلش کرکٹ دوستوں سے محروم ہوجائے گا۔دورہ پاکستان کی منسوخی پر برطانوی صحافی جارج ڈوبیل نے کہا کہ ای سی بی کے دوہرے معیار کی وجہ سے انگلش کرکٹ دوستوں سے محروم ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی سے قبل لندن میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا،  نیوزی لینڈ ویمن ٹیم کو انگلینڈ میں دھمکی ملی مگر اس دھمکی کو رد کردیا گیا۔جارج ڈوبیل کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں میچز کے دوران تماشائی میدان میں آگئے، ایسا کہیں اور ہوتا تو انگلینڈ کیا کرتا؟ اگر لندن میں زندگی جاری رہ سکتی ہے تو لاہور میں کیوں نہیں۔انہوں نے کہا کہ ای سی بی کے رویے نے کرکٹ میں قوموں کے درمیان فاصلے بڑھائے ہیں، کرکٹ ویب سائٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برطانوی دفتر خارجہ نے ٹریول ایڈوائس نہیں بدلی، سیکیورٹی مشیر نے بھی کچھ نہیں کہا، سفارتخانہ بھی مطمئن تھا مگر دورہ منسوخ ہوا۔سیکیورٹی ای سی بی کے فیصلے کی وجہ نہیں تھی انہوں نے کہا پاکستان نے سخت ترین حالات میں انگلینڈ کا دورہ کیااور کم تر ہوٹل میں رہیجبکہ سابق انگلش کرکٹر ڈیوڈ گاور بھی پاکستان کے حق میں میدان میں آگئے۔ ایک بیان میں ڈیوڈ گاور نے کہا کہ مجھے انگلینڈ کے فیصلے میں کوئی منطق نظر نہیں آرہی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صرف 4 یا 5 دن گزارنے تھے یہ کوئی سخت ببل نہیں تھا۔سابق انگلش کرکٹر نے کہا کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے جو جواز دیے وہ صرف خیالی ہیں۔ڈیوڈ گاور نے کہا کہ معاملہ آسانی سے حل ہوسکتا تھا، مختصر دورے کے لئے 14 کرکٹرز تیار کرنا مشکل نہیں تھا۔انہوں نے کہاکہ جب انگلش ٹیم کووڈ کا شکار ہوئی تو فوری نئی ٹیم کھڑی کردی گئی تھیجبکہ  نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان ٹام لیتھم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دورے کا اختتام فطری طور پر مایوس کن ہے، یہ پاکستان میں بسنے والوں کے لیے مایوس کن ہے جہاں برسوں میں ہوم میچز کم ملے ہیں، تاہم دورہ ختم ہونے کے بعد بھی پاکستانی حکام نے ہمارا بہت خیال رکھا۔ایک انٹرویو میں نیوزی لینڈ ٹیم کے کپتان ٹام لیتھم نے کہا کہ مجھے یاد ہے کہ ایک روز پہلے جب میں بابر اعظم کے ساتھ جا رہا تھا تو وہ کس قدر خوش تھے کہ انٹرنیشنل کرکٹ اور ہم وہاں موجود ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بابر اعظم بہت پرجوش تھے، یہ تاریخی لمحہ تھا کہ نیوزی لینڈ ٹیم 18 برسوں بعد وہاں آئی، میں بھی ٹیم کا حصہ بننے پر خوش تھا لیکن سب کچھ بدل گیا۔ٹام لیتھم نے کہا کہ فیصلے کے بعد پاکستانی اتھارٹیز ہمارے لئے بہت اچھی تھیں، ہمیں آرام سے رکھا گیا، ہم پاکستانی اتھارٹیز کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔کیوی کپتان کا کہنا تھا کہ میں بھی ٹھیک ہوں اور ٹیم کے سب کھلاڑی بھی ٹھیک ہیں، دورہ ختم کرنے کے اعلان کے بعد 24 گھنٹوں میں ہم پاکستان سے نکلے، ہم سب نے وقت اکٹھے گزارا جو ہمارے لیے اچھا رہا، لیکن 24 گھنٹے تھکا دینے والے تھے، تاہم سب اچھا رہا، اب سب کھلاڑی اچھی اسپرٹ کے ساتھ گھر جانے کے لیے منتظر ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میچ والے دن سب حیران تھے کہ کیا ہو رہا ہے اور پھر ہمیں بتایا گیا کہ ہم گھر واپس جا رہے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کرکٹ، پلیئرز ایسوسی ایشن اور ہم سب کے لیے کھلاڑیوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ دوسری جانب  نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے دورہ پاکستان ملتوی کرنے پر سابق کرکٹرز نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ اور سابق کھلاڑی معین خان نے کہا ہے کہ دونوں ٹیموں کا دورہ پاکستان ملتوی کرنے کا فیصلہ افسوسناک ہے، عالمی سطح پر بھی اس فیصلے کی مذمت کی گئی ہے۔معین خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور ہمارے عوام نے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کے لیے بہت محنت کی۔ سوئینگ کے سلطان وسیم اکرم نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے جتنی مایوسی آپ کو ہے، اتنی ہی مجھے بھی ہے، اب ہم سب کو مل کر ورلڈکپ کے لیے اعلان کردہ اسکواڈ کی حمایت کرنی ہے۔وسیم اکرم نے کہا ہے کہ جب ٹیم اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی تو سب ٹیمیں ان کے پیچھے بھاگیں گی۔راشد لطیف  نے کہا ہے کہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کو پاکستان کا دورہ کرنا چاہیے تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ میرے خیال سے پی سی بی کو نیوزی لینڈ سے دوبارہ رابطہ کرنا چاہییجبکہ عثمان خواجہ نے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی جانب سے پاکستان کا دورہ ختم کرنے کو دہرا معیار قرار دیدیا۔آسٹریلوی ٹیسٹ کرکٹر عثمان خواجہ نے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے پاکستان کے دورے ختم کرنے کے فیصلے کو دہرا معیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے مقابلے میں بھارت میں حالات جیسے بھی ہوں مگر بھارت میں کرکٹ کھیلنے کو سب تیار ہوتے ہیں، اگر بھارت میں یہ صورتحال ہوتی تو پھر کوئی بھی ایسا نہ کرتا، اس کا مطلب تو یہ ہوا ہے کہ پیسہ بولتا ہے اور میرے خیال میں یہ ہی اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔بائیں ہاتھ کے اوپنر نے پاکستان میں کرکٹ سیریز کھیلنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے محفوظ جگہ ہے، وہاں سکیورٹی کے سخت اور مثالی انتظامات کیے جاتے ہیں، میں نے سب سے یہ سنا ہے کہ لوگ وہاں محفوظ ہیں، میرے نزدیک پاکستان کے ٹورز کو ختم نہیں کرنا چاہیے جبکہ انگلینڈ کی ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ کرنا درست فیصلہ نہیں ہے مشکل وقت میں پاکستان نے انگلینڈ کا دورہ کیا تھا اور اب انگلینڈ کو بھی پروگرام کے مطابق پاکستان آکر ضرور کھیلنا چاہیئے تھا ان خیالات کا اظہار پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ثناء میر نے کیا انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے بعد انگلش ٹیم کے پاکستان نہ آنے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں ہے پاکستان کھیلوں کے لئے پر امن ملک ہے اور غیر ملکی کھلاڑی یہاں پر کھیل کر جاچکے ہیں جنہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ پاکستان میں انہیں کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا اس کے باوجود ان ٹیموں نے پاکستان آکر نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا جس سے کرکٹ کے کھیل کو نقصان ہوگا ثناء میر نے مزید کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو سخت فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ بولنگ کوچ کی حیثیت سے اس سے بہتر نہیں کر سکتا تھا، میرے پاس ٹین ایجر بولرز آئے، سینئر آسٹریلیا جانے سے پہلے ریڈ بال کرکٹ سے الگ ہو گئے تھے، نوجوان بولروں کے ساتھ کام کیا اور اب رزلٹ آنا شروع ہو گئے ہیں، 6 ماہ میں بولرز کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔خصوصی گفتگو میں وقار یونس نے کہا کہ کوچنگ ایک تھینک لیس جاب ہے، جب ٹیم اچھا کرتی ہے تو کریڈٹ بورڈ کو چلا جاتا ہے یا پھر کپتان کو کریڈٹ دے دیتے ہیں لیکن جب بھی کچھ برا ہوتا ہے تو سب کچھ کوچز پر ڈال دیاجاتا ہے۔سابق فاسٹ بولر وقار یونس نے کہا کہ مجھے کرکٹ سے محبت ہے، یہ میرا جذبہ ہے، اس لیے اس سے جڑا رہتا ہوں، چاہے کمنٹری ہو یا کوچنگ، میں مستقبل میں بھی کوچنگ کروں گا، جب جاب نکلتی ہے تو اپلائی کر کے آتا ہوں، میں ادھر ادھر سے نہیں آتا، سی وی دیتا ہوں، درخواست دیتا ہوں اور پھر انٹرویو دے کر آتا ہوں۔وقار یونس کا کہنا ہے کہ مصباح کے اسٹائل سے مجھے نقصان نہیں پہنچا، مصباح دھیمے مزاج کے ایک اچھے انسان ہیں، ان کی پاکستان کرکٹ کے لیے بڑی خدمات ہیں، انہوں نے پاکستان ٹیم کو ٹیسٹ کی نمبر ایک ٹیم بنایا، لیکن کوچنگ کے شعبے میں برانڈ نیو تھے، انہِیں اس کا تھوڑا نقصان ہوا۔وقار یونس نے اپنے عہدے سے الگ ہونے کے بارے میں کہا کہ کرکٹ بورڈ میں چیزیں بدل گئی تھیں اور میرے عہدے کی مدت مکمل نہ ہو سکی، عہدے کی مدت مکمل نہ ہونیکو خوش قسمتی بھی کہا جا سکتا ہے اور بدقسمتی بھی، لیکن مصباح الحق کے فیصلے کے بعد میرا بھی عہدے سے الگ ہونا بنتا تھا، کیونکہ ہم اکٹھے آئے، اکٹھے ہی جانا تھا۔بورڈ میں تبدیلی کے علاوہ کوویڈ کے ایشوز بھی تھے، ویسے بھی کوئی بھی نیا چیئرمین آئے وہ اپنی ٹیم بناتا ہے، اس لیے ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ پاکستان کرکٹ اور ٹیم کے لیے ہمارا مستعفی ہونا ہی بہتر ہے۔ وقار یونس نے کہا کہ تنقید کرنے والے فاسٹ بولرز میرے ساتھ کھیلے ہو ئے ہیں، ان میں سے ایک تو مجھ سے چھوٹا بھی ہے، سابق بولرز کی تنقید بدقسمتی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ کولیگز کا خیال رکھنا چاہیئے، تنقید کریں، لیکن الفاظ کا چناو اچھا ہونا چاہیئے، بزدل کہنا یا جیلسی میں تنقید کرنا، میرے لیے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ میں سب سے یہی کہوں گا کہ تعمیری تنقید کریں، میرے پاس کرنے کے لیے بہت چوائسز ہیں، کمنٹری میں واپس جا سکتا ہوں، ناقد ضرور بنوں گا لیکن ایسا نہیں جیسے ہمارے کچھ فاسٹ بولرز ہیں۔

٭٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -