جنرل اسمبلی سے وزیراعظم کا خطاب

جنرل اسمبلی سے وزیراعظم کا خطاب

  

وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76ویں سالانہ اجلاس سے اپنے ورچوئل خطاب میں واضح کیا ہے کہ اگر عالمی برادری نے افغانستان کو پس پشت ڈالا تو مستقبل میں نہ صرف سنگین نوعیت کے انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کے اثرات افغانستان کے پڑوسی ممالک پر بھی مرتب ہوں گے،بلکہ ایک غیر مستحکم اور بحران سے دوچار افغانستان ایک بار پھر بین الاقوامی دہشت گردوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ بن جائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ لازم ہے کہ موجودہ حکومت کو مستحکم کیا جائے۔ عالمی برادری اس کے ذمہ داروں کے ساتھ بات چیت کرے، ان کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ خدشات کا ازالہ ہو۔ ایسا ہو گیا تو یہ سب کی کامیابی ہو گی، افغانستان کو امداد کی ضرورت ہے۔ یہ ان کے لئے بہت نازک وقت ہے، اسے ضائع نہیں کیا جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ ہی اس حوالے سے عالمی برادری کو متحرک کرکے (مثبت) کردار ادا کر سکتی ہے۔

وزیراعظم نے اپنے پچیس منٹ کے خطاب میں مسئلہ کشمیر، بھارت کی اندرونی صورت حال، اسلاموفوبیا، کورونا وائرس، کرپشن اور ماحولیاتی تبدیلی پر بھی بات کی لیکن ان کی تقریر کا بڑا حصہ افغانستان اور بھارت کے حوالے سے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں اسلامک فوبیا کی سب سے خوفناک اور بھیانک شکل بھارت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ وہاں اسلامی تاریخ اور ورثے کو مٹانے کی کوششیں زوروں پر ہیں۔ موجودہ بھارتی حکومت نے پانچ اگست 2019ء کو اپنے زیر انتظام کشمیر کے خلاف کئی اقدامات کئے، وہاں موجود 9لاکھ بھارتی افواج کے ذریعے خوف و ہراس کی لہر رکنے میں نہیں آ رہی۔ وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی آزادانہ مرضی کے اظہار ہی سے ممکن ہے۔ انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے ممتاز کشمیری رہنما سید علی گیلانی کی میت کی بے حرمتی کا ذکر بھی کیا، اور ان کے اعزہ کو اسلامی روایات کے مطابق ان کی تدفین کرنے سے روکنے پر بھارتی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر اور بھارتی انتہا پسندی کی طرف دنیا کی توجہ تو مبذول کرا دی ہے اور کشمیری عوام کا مقدمہ پُرزور انداز میں دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے، لیکن جب تک بعض عالمی طاقتوں کی مصلحتیں آڑے آتی رہیں گی، کسی اقدام کی توقع رکھنا عبث ہوگا۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل ہی اپنی قراردادوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اقدام سازی کر سکتی ہے، لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ویٹو کی طاقت رکھنے والے ممالک کے درمیان اتفاق رائے نہ ہو جائے۔ ایک زمانے میں سوویت یونین کا ویٹو بھارت کو تحفظ دے رہا تھا اور سیکیورٹی کونسل کے کسی بھی اقدام کے راستے میں رکاوت بن گیا تھا، آج صورتِ حال تبدیل ہو چکی ہے۔ سوویت یونین کا جانشین روس اس روش پر گامزن نہیں ہے لیکن امریکہ کے بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کی وجہ سے کوئی عملی قدم اٹھانا ممکن نظر نہیں آ رہا۔ وزیراعظم عمران خان نے جس شدت سے مسئلہ کشمیر اٹھایا ہے، اس نے اہلِ پاکستان کو بھی اور اہلِ کشمیر کو بھی نفسیاتی توانائی تو فراہم کی ہے، ان کا حوصلہ بڑھایا ہے لیکن منزل ابھی دور ہے، اس کے لئے عالمی طاقتوں کو ہموار کرنا ضروری ہے کہ ان کے اتفاق رائے ہی سے بھارت پر دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو اپنے دوست ممالک کے ساتھ مل کر کوششوں کو تیز تر کرنا ہوگا، امید کی جانی چاہیے کہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا، جب کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہو گا اور بھارت کی مسلمان آبادی پر عرصہ ء حیات تنگ کرنے والوں کے خلاف خود بھارت کے انصاف اور قانون پسند حلقے اٹھ کھڑے ہوں گے۔

افغانستان کے حوالے سے وزیراعظم نے جو کچھ کہا، وہ بھی پوری دنیا کی توجہ چاہتا ہے۔ اس معاملے میں کوئی کوتاہی ناقابل تصور نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد وہاں زمامِ اقتدار سنبھالنے والے طالبان کے ساتھ تعلقات کار بہتر بنانا ہر اس ملک اور ہر اس شخص کی ذمہ داری ہے جو امن عالم کا خواہاں ہے اور دہشت گردی کا سدباب چاہتا ہے۔ اگر افغانستان کی حکومت کو تسلیم نہ کیا گیا، اس کے ساتھ بات چیت کا دروازہ کھول کر مسائل کی نشاندہی کرنے اور ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو پھر افغانستان اپنے پڑوسی ممالک ہی نہیں، دنیا بھر کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔ وہاں بین الاقوامی دہشت گرد پناہ گاہیں تلاش کرکے سب کا سکون برباد کر سکتے ہیں۔امریکہ کا یہ دعویٰ کھوکھلا ثابت ہو سکتا ہے کہ القاعدہ یا خلافت اسلامی کے افغان سرزمین استعمال نہ ہونے کی ضمانت حاصل کر لی گئی ہے۔ ماضی میں الجھنے کی بجائے اس سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اربوں ڈالر جنگ میں جھونکے ہیں، انہیں امن کے استحکام کے لئے تنگ دلی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ افغانستان کی تعمیر نو میں تعاون امن عالم کی ضرورت ہے، اسے اسی تناظر میں دیکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔

مزید :

رائے -اداریہ -