وزیر اعظم عمران خان کو کیا ہوگیا ہے؟

وزیر اعظم عمران خان کو کیا ہوگیا ہے؟
وزیر اعظم عمران خان کو کیا ہوگیا ہے؟

  

خدا معلوم وزیر اعظم عمران خان کو کیا ہوگیا ہے کہ جو کچھ وہ بطور اپوزیشن لیڈر لمبی لمبی تقاریر میں کہا کرتے تھے اور جن پر یقین کرتے ہوئے لوگوں نے ان کو ووٹ دیئے تھے، اب وہی کچھ خود کرتے نظر آتے ہیں۔ ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہوا نہ مغربی ممالک سے لوگ یہاں کام کی تلاش میں آئے، مہنگائی سے عوام کی جان چھوٹی نہ لوگوں نے بخوشی ٹیکس ادا کرنا شروع کئے ہیں اور جناب عمران خان فرماتے ہیں کہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ پنجاب میں کتنے آئی جی اور چیف سیکرٹری تبدیل ہوئے تھے۔ ان سے کوئی پوچھے کہ اگر ان کے معاملے میں لوگ سب کچھ بھول جائیں گے تو ان سے پہلے جو حکومت میں تھے ان کی کوتاہیوں کو کیونکر نہ بھولے ہوں گے؟ 

اس میں شک نہیں ہے کہ حکومت کی تمام تر نالائقیوں کے باوجود ریاست کے امور کی انجام دہی جاری و ساری ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ نون لیگ کی حکومت میں اس قدر سہل انداز میں ریاستی امور طے نہ پائے جا رہے ہوں جس قدر آسانی سے اب ہیں مگر اس کے باوجود عوام اور وزیر اعظم عمران خان میں فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ لوگوں کو اس بات میں وزن محسوس ہونے لگا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی حیثیت اسلام آباد کے میئر سے زیادہ نہیں ہے۔ یوں تو ہماری اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ان کی کوتاہیوں پر بھی گالیاں عوامی نمائندوں کو ہی پڑیں مگر ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ موجودہ حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر سے سلیکٹڈ کا طعنہ سننا پڑا اور اب عوام جھولیاں اٹھا اٹھا کر ان کے جانے کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔ ماضی کی حکومتوں کو تو اختیارات کی وہ آزادی انجوائے نہیں کرنے دی گئی جو کہ کسی بھی جمہوری ملک میں ایک منتخب حکومت کا حق ہوتا ہے اور اگر کوئی وزیر اعظم ایسا کرتا ہے تو اس کے نوٹیفیکیشن کو ’ریجکٹڈ‘ قراردیا جاتا ہے تو کبھی عوام کے منتخب نمائندے کو پھانسی گھاٹ لے جا کر پھانسی دے دی جاتی ہے۔موجودہ وزیر اعظم کے بارے میں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اگرچہ ایسا کچھ تو ہوتا دکھائی نہیں دیتا،مگر عوام کی نظر میں آئے روز جس طرح ان کی مقبولیت گرتی جا رہی ہے اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ عوام کا پی ٹی آئی سے رابطہ ختم ہوتا چلا جائے گا اور وہ کسی متبادل کی تلاش میں نکل کھڑے ہوں گے۔ 

 ملک کو درپیش صورت حال عوام پر اچھی طرح آشکار ہو چکی ہے مگر اس کے باوجود وہ کچھ کرنے اور حالات کو بدلنے پر قدرت نہیں  رکھتے۔ ایک خیال یہ تھا کہ عمران خان نے بائیس برس تک عوام کے حقوق کے لئے جدوجہد کی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ پاکستان کی مڈل کلاس کے لوگوں کے کیا مسائل ہوتے ہیں، اس لئے اگر ان کو اقتدار میں لایا گیا تو ملک صحیح ڈگر پر چل پڑے گا مگر آج جب کہ عمران خان کی حکومت کو تین سال مکمل ہو چکے ہیں اور عوام کی مایوسی میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے اور اب انہیں سمجھ نہیں آتی ہے کہ وہ اس حکومت سے کس طرح جان چھڑوائیں۔ 

مضحکہ خیز بات تو یہ ہے کہ ایک کرکٹر وزیر اعظم کے دور میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے ساتھ دنیا کی نامور ٹیموں نے کھیلنے سے انکار کرنا شروع کردیا ہے۔ ہمارے وزیر داخلہ اس پر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش تو کر رہے ہیں مگر اس کے باوجود کہ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے اور اس سے اچھے کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی کوتاہیوں، خامیوں اور خرابیوں کو بھارت کے کھاتے میں ڈال کر اسی طرح سے جان چھڑواتے رہیں گے؟ کیا ہماری اپنی بھی کوئی ذمہ داری بنتی ہے یا نہیں!

وزیر اعظم عمران خان کے حوالے سے جو کچھ بین الاقوامی میڈیا میں کہا جارہا ہے، پی ٹی آئی کے مخالفین تو اول دن سے یہی کچھ کہہ رہے تھے مگر کوئی ان کو سننے کو تیار نہ تھا بلکہ چشم فلک نے تو یہاں تک دیکھا کہ پی ٹی آئی، اس کی قیادت اور بعد میں اس کی حکومت کے خلاف بات کرنے والوں کی زباں بندی کردی گئی، ان کو اخبارات اور ٹی وی چینلوں سے ہٹا دیا گیا اور آج تک وہ راندہ درگاہ ہیں جبکہ وزیر اعظم  عمران خان بتارہے ہیں کہ ان کے دور میں میڈیا کو جس قدر آزادی حاصل رہی ہے، وہ اس سے پہلے میڈیا کو کبھی نصیب نہیں ہوئی ہے۔ اب اقوام متحدہ کے اجلاس کو ہی لے لیجئے جہاں پاکستان کے وزیر خارجہ اور بھارتی وزیر اعظم تو جا سکتے ہیں مگر ہمارے وزیر اعظم کو جنرل اسمبلی سے ورچوئل خطاب کرنا پڑتا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟ عوام اس سوال کا جواب جاننا چاہتے ہیں۔

دکھ تو اس بات کا ہے کہ جس آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بجائے وزیر اعظم عمران خان خودکشی کو ترجیح دینے کی بات کر تے تھے آج اسی آئی ایم ایف کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا کئے ہوئے ہیں اور اپنے ووٹروں سپورٹروں کو خودکشی پر مجبور کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ عوام نہیں چاہتے کہ وزیر اعظم عمران خان اسٹیبلشمنٹ سے ویسی لڑائی لڑیں جیسی نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے لڑی تھی لیکن وہ ان سے اس بات کی توقع تو رکھتے ہیں کہ آئی ایم ایف کی شرائط کو ماننے سے انکار کرکے ملک میں جاری مہنگائی کے طوفان پر قابو پایا جائے، سٹیٹ بینک آف پاکستان سمیت دیگر اداروں پر بیٹھے ہوئے آئی ایم ایف کے نمائندوں کو نکال باہر کیا جائے تو عوام دشمن پالیسیاں بنا رہے ہیں۔ کیا وزیر اعظم عمران خان سے ایسی توقع لگانا ناجائز بات ہے؟کوئی ہے جو بتائے؟؟؟

مزید :

رائے -کالم -