ٹیکس ریٹرن 

ٹیکس ریٹرن 
ٹیکس ریٹرن 

  

معزز ٹیکس گزار، مالی سال 2021 کا ٹیکس گوشوارہ پہلی فرصت میں جمع کروائیں۔ گوشوارہ جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر 2021 ہے اور اس میں مزید توسیع ہرگز نہ ہو گی۔ ایف بی آر کی طرف سے موصول ہونے والے اس پیغام کی حکم عدولی بھلا کون کر سکتا ہے۔ 

خاکسار کے بچے ڈینگی بخار میں مبتلا رہے۔ ان کی پریشانی ایسی کہ نہ پوچھئے، 105 بخار، جسم درد، پیراسیٹامول اور بخار کی وجہ سے منہ کا ذائقہ کڑوا، کھانا پینا انتہائی کم، نہ ہونے کے برابر۔ اللہ جزا عطا فرمائے۔ پروفیسر ہارون حامد سربراہ امراض اطفال میو اسپتال لاہور کو جنھوں نے چند سال پہلے ڈینگی کی وبا میں سری لنکن ٹیم کے ساتھ زبردست کام کیا۔ جس کا عینی شاہد یہ ناچیز خود ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آج کل بظاہر مصروف دیکھائی دے کر کچھ نہ کرنے والے طفیلیئے ڈینگی کنٹرول کے سربراہ بنے مریضوں کا دھڑن تختہ کرنے کے ساتھ ساتھ، ہمارے سینے پر مونگ دل رہے ہیں۔ خیر بات چلی تھی بچوں کے بخار بارے۔ پروفیسر ہارون نے بچوں کو پیراسیٹامول، پانی، جوسز، اچھی خوراک، مکمل آرام کے ساتھ صدقہ و خیرات کی تلقین کی۔ روزانہ سی بی سی کروانے کا مشورہ دیا۔ ایک بچے کے پلیٹلیٹس 24 گھنٹے میں 150000 سے 106000 ہو گئے۔ اگلے 48 گھنٹے بعد پلیٹلیٹس 21000 رہ گئے۔ مجھے بڑی ٹینشن ہوئی۔ پروفیسر صاحب نے تسلی دی۔ آپ پریشان نہ ہوں۔ جدید تحقیق کے مطابق اگر خدانخواستہ پلیٹلیٹس 5000 ہو جائیں پھر بھی پلیٹلٹس لگوانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں پیٹ کا ایک الٹرا ساؤنڈ کروا لیں کہ کہیں خون کی باریک نالیوں جن کو میڈیکل کی زبان میں کیپیلریز کہتے ہیں۔ ان سے خون رس کر پیٹ میں اکھٹا نہ ہو جائے۔ یہ ڈینگی بخار کی سب سے خطرناک علامت ہے۔ اس طرح کے مریض کو اسپتال داخل کر کے علاج کرنا پڑتا ہے۔ 

اللہ کا شکر ہے۔ اس کی نوبت نہ آئی۔ میرے مشکل کے ساتھی، صحافت کے سرخیل میرے بہنوئی برادرم عامر خاکوانی نے فون کر کے مجھے بچوں کو اکسیر ڈینگی شربت پپیتہ پلانے کا قیمتی مشورہ دیا جو ڈاکٹر آصف جاہ کے کلینک گلی نمبر 13، 449 جہانزیب بلاک علامہ اقبال ٹاؤن لاہور دستیاب تھا۔ وہ شربت شروع کیا۔ شکرالحمدللہ بخار اتر گیا مگر بخار جاتے جاتے ایک کام اور کر گیا۔ بچوں کے پورے جسم بالخصوص دونوں پاؤں کے تلووں پر شدید خارش شروع ہو گئی۔ دو تین دن بعد خارش کم ہوئی۔ ایک بچے کو ابھی تک خارش سے آرام نہیں آیا۔ بچے کاساری ساری رات اور دن جاگ کر گزارنا کتنا تکلیف دہ عمل، یہ وہی بتا سکتا ہے، جس کے ساتھ بیتتی ہے، منحوس ماری اس خارش کے علاج میں کارگر اینٹی الرجی شربت بھی کام نہیں آتے۔ پروفیسر ہارون اور چند اور ڈاکٹر دوستوں کے بقول، خارش ڈینگی کے ختم ہو کر واپس جانے کا اعلان ہے۔ راقم اس اعلان کے بعد بطور فائلر، ذمہ دار پاکستانی شہری کا ثبوت دیتے، ایک دو دن میں اپنے ٹیکس وکیل کے توسط سے ایف بی آر کو ریٹرن ضرور جمع کروا دے گا اور یہ بات بھی درست ہے کہ ہر پاکستانی کو ٹیکس ریٹرن جمع کروانا چاہئے۔ یہ ہمارے ملک کی خوشحالی، خوش بختی کی علامت ہے۔ 

سوال یہ ہے کہ پیارے دیس میں تنخواہ دار طبقہ ازل سے ٹیکس جمع کروا رہا، اس کو بدلے میں کیا مل رہا ہے؟ اور جو ٹیکس چور ہیں، ان کے گرد گھیرا تنگ کرنا تو دور کی بات، ان کے کان میں سرگوشی کرنے والا کوئی نہیں کہ جناب آپ دکان کھول کر لاکھوں کی سیل کرتے ہیں، لاکھوں کی تلی ہوئی مچھلی، گوشت فاسٹ فوڈ اور نجانے کیا کیا فروخت کرتے ہیں، کبھی آپ نے بھی ٹیکس دیا۔ ہم جیسے ٹیکس دینے والوں کو، ٹیکسی، بس، ریل،جہاز، ہوٹل، اشیائے خوردونوش، پیٹرول، بجلی، گیس کے آسمان سے باتیں کرتے بلوں میں چھوٹ نہیں، صاف پینے کا پانی تک بازار سے خریدتے ہیں۔ بیمار ہونے کی صورت میں سرکاری اسپتالوں کی ناگفتہ بہ حالت، مریضوں کے رش، آپریشن کی لمبی تاریخوں، لیبارٹریوں کی غلط رپورٹوں اور سرکاری اسپتالوں کے وظیفہ خور سینئر پروفیسروں کے پیچھے پیچھے بھاگنے کی اذیت سے بچنے کے لئے بہ امر مجبوری پرائیوٹ اسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اور تو اور ڈینگی پورے جوبن سے اپنے پھن پھیلائے خطرہ کی گھنٹی بجا رہا۔ وہ بھی کیا زمانہ تھا، جب 14 اگست سمیت عید والے دن بھی ڈینگی سرویلنس ٹیمیں گھر گھر ڈینگی لاروے کی تلاش میں ادھ موئی ہو جاتی تھیں۔ اب تو نہ وہ ٹیمیں رہیں، نہ ان کی گاڑیاں، نہ ان کے طوفانی دورے اور نہ ہی ہر گھر میں سیزن سے پہلے سپرے کرنے کی روایت۔ ڈینگی پھیلاؤ کی روک تھام کی فرضی رپورٹیں تیار کرنا تو کوئی محکمہ صحت سے سیکھے، محسوس ہو رہا ہے کورونا کی وبا میں ڈینگی کو برے طریقے سے نظر انداز کرتے طویل رخصت پر بھیج دیا گیا۔ تاریخ ساز انہونی یہ کہ بارش کے پانی کو جمع کرنے کے لئے بنائے گئے ٹینک اور خدا کی پناہ! بڑی بڑی مساجد میں وضو کا پانی جو مختلف قسم کے وائرس، بیکٹیریا اور فنگس کی آماجگاہ، اس آلودہ پانی کو بغیر کلورینیشن، پی ایچ اے باغوں میں موجود پودوں پر چھڑکاؤ کے لئے استعمال کرے گا۔ 

خاکسار نے وضو کے آلودہ پانی کو دوبارہ استعمال کرنے کی اس راکٹ سائنس بارے ماہر ماحولیات اور بیرون ملک بیٹھے دوستوں سے استفسار کیا، وہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ پریشان کن امر یہ کہ پیٹ کے پجاری ان پاکستانی آئن سٹائنوں کی وجہ سے کورونا، ڈینگی پھیلے گا، عوام خون کے آنسو روئیں گے اور اس میں کوئی شک نہیں، لوگوں کی آہیں قبر تک ان کا پیچھا کریں گی۔ کوئی واحد آدمی بھی فکر کر کے اپنی عاقبت سنوارنے والا نہیں۔ 

ہم جیسے لکھاری جو ہر سال ٹیکس ریٹرن جمع کراتے ہیں، اصلاح کے لئے مثبت تنقید، نیک نامی کے لئے نصیحت کریں، تو اہل اقتدار کا پارہ بلند ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ مزے کی بات، یہ شب خون، یہ بھونڈے اور نرالے منصوبے ہماری ہی ٹیکس ریٹرن ہی سے بنائے جا رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ٹھنڈے دماغ سے سوچ سمجھ کر عملی اقدام کرنے والے ہمیں میسر نہیں۔ کوئی سوچنے والا نہیں۔ ہم نے بیماریوں سے کیسے بچنا ہے۔ان کا سدباب کیسے کرنا ہے۔ایسے وکھرے منصوبہ جات سے پرہیز کرنا ہے جو عوام کے کروڑوں روپے ضائع کرنے پر کل کلاں نیب کے درشن کرائے۔ کاش پیارے دیس میں ارباب اختیار ٹوئیٹر پر اکتفا کرنے کے بجائے عوامی فلاح کے لئے مخلصی اور عرق ریزی سے لکھے گئے کالموں میں دئیے گئے بیش قیمت مشورں پر عمل کرنا شروع کر دیں تو نیا پاکستان بننے کی منزل زیادہ دور نہیں لگے گی۔ 

مزید :

رائے -کالم -