ایک وکھری ٹائپ کی مسافت (2)  

  ایک وکھری ٹائپ کی مسافت (2)  
  ایک وکھری ٹائپ کی مسافت (2)  

  

 فیض احمد فیض کی اسیری کے دوران اُن کے ایک ساتھی نے جیل کے احاطے کو تالہ لگانے والے ملازم سے پوچھا تھا: ”بابا، اِن سلاخوں کے پیچھے ہم تمہیں قید میں نظر آتے ہیں؟“ ”جی ہاں“۔ اِس پہ جواب ملا: ”بابا،،ہمیں تو تم قید میں نظر آتے ہو۔“ ذاتی حوالے سے مجھے اِس کا احساس گورنمنٹ کالج (موجودہ جی سی یو) میں ایم اے میں داخلے کے وقت ہونا شروع ہوا۔ مَیں ہاتھ میں ایڈمشن فارم اور رزلٹ کارڈ تھامے ایسے مرحلے پر انگلش ڈپارٹمنٹ میں پہنچا جب تحریری ٹیسٹ ہو جانے پر امیدواروں کے انٹرویو ہو رہے تھے۔ اِس ’پروا نشتہ‘ رویے کا سبب یہ بچگانہ زعم تھا کہ ہائی فرسٹ ڈویژن کی بنا پر میرا داخلہ تو کہیں بھی ہو سکتا ہے۔ 

 سو، ازلی سستی پہ قابو پا کر مَیں سڑک کے اُس پار پنجاب یونیورسٹی میں فارم جمع کروا آیا جہاں داخلہ تاریخ کی میعاد ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ واپسی پر گورنمنٹ کالج کے برآمدے میں پروفیسر شعیب بن حسن دکھائی دے گئے جن سے سیالکوٹ کے دنوں سے ابا کی جان پہچان تھی۔ پہلے تو میری لاپروائی پہ حیران ہوئے، پھر پوچھنے لگے کہ اگر یہاں داخل ہونے کا بہت شوق ہے تو تمہارے لیے کوشش کروں؟ بطور امیدوار جواب تو اثبات میں ہونا چاہیے تھا مگر خدا جانتا ہے کہ یہ ’بہت شوق‘ والی بات مجھے اچھی نہ لگی۔ منہ سے نکلا ”کوئی خاص شوق نہیں۔“ شعیب مرحوم نے، جو بہت وسیع المطالعہ اور ہنس مکھ آدمی تھے، مجھے غور سے دیکھا اور کہا: ”یار، ہم تو اپنے استادوں سے اِس طرح بات نہیں کرتے تھے۔“ ساتھ ہی بازو سے پکڑا اور فارم سمیت صدر شعبہ کے پاس لے گئے۔

 صدرِ شعبہ پرو فیسر رفیق محمود دو اور سینئر استادوں کے درمیان تشریف فرما تھے۔ رزلٹ کارڈ دیکھ کر کہنے لگے: ”انگلش کے علاوہ اکنامکس میں بھی آپ کے مارکس بہت اچھے ہیں، اکنامکس میں ایڈمشن کیوں نہیں لے لیتے؟“۔ بولنے کا پُرجوش انداز رفیق صاحب کا انتخابی نشان تھا۔ اب کیا بتاتا کہ مجھے میکرو اکنامکس بالکل نہیں آتی اور میری کامیابی محض ریاضیاتی معاشیات کے سر پہ ہوئی۔ صرف اتنا کہہ دیا کہ سر، لٹریچر میں زیادہ دلچسپی ہے۔ انٹرویو میں واحد سنجیدہ سوال پروفیسر عبدالرؤف انجم نے کیا جن کی آواز بہت بھلی اور مشفقانہ تھی۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک ایسا اشارہ بھی دے دیا جس سے جواب دینے میں مدد ملی۔ صدرِ شعبہ نے تائید میں سر ہلایا اور ایک امتحانی پرچہ پکڑا کر کہنے لگے: ”ایڈمشن ٹیسٹ ہو چکا ہے، آپ دونوں میں سے کسی ایک سوال کا جواب لکھ لائیں۔“

 یوں داخلہ مل گیا اور نصابی کارکردگی کے ساتھ ادبی سرگرمیوں کا دائرہ انٹرکالجئیٹ مشاعروں، سوندھی ٹرانسلیشن سوسائٹی کے لیے تراجم اور اُن نظموں اور نثرپاروں کو بھی چھونے لگا جن میں سے بعض کو کالج مطبوعات اور ادبی جرائد میں جگہ ملی۔ بعد ازاں بطور مدرس پہلا باضابطہ تقرر یہیں ہوا۔ تو پھر زمانہء طالب علمی خوشگوار کیوں نہیں تھا؟ لاہور میرا ننہالی شہر ہے اور شہر سے میری مراد ہیں بارہ دروازے اور ایک موری۔ انگریزی کا مضمون مرضی سے چنا۔ نئے دوستوں سے بے تکلفی کا رشتہ بھی استوار ہوا جو آج تک بر قرار ہے۔ پھر بھی چند ماہ بعد دل نے کہا چلو راولپنڈی چلتے ہیں، والدین کے پاس رہیں گے۔ ممکن ہے کہ کسی استاد کی بے رخی یا یہ پالیسی راہ کا پتھر بنی ہو کہ غیر نصابی سرگرمیوں میں اولڈ راوین کو ترجیح ملے گی۔ سچ پوچھیں تو اِس تاثر کی تائید میں بھی کوئی واقعہ یاد نہیں آ رہا۔

 اِس بیچ سال ششم کے لئے ٹیسٹ کی نوبت آ گئی جو یونیورسٹی کا نہیں، ہمارے ڈپارٹمنٹ کا اپنا امتحان تھا۔ مگر ”نہ پوچھ عالمِ برگشتہ طالعی، آتش“۔ یہ عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ چنانچہ جب کچھ شرارتی طالب علموں نے ہڑتال کی اور امتحان کا بائیکاٹ کر دیا تو اب کیا کہوں کہ آپ کا بھائی بھی اُن میں شامل تھا۔ اُدھر انٹر کالجئیٹ مائیگریشن کے لیے تقاضا کہ پروموشن ٹیسٹ پاس کر لینے کا ثبوت فراہم کرو۔ یارِ عزیز وحید رضا سے کہا: ”بھٹی صاحب، ہم تو مارے گئے۔ سنا ہے ہڑتالیوں کے لئے کوئی الگ امتحان ہو گا، لیکن خدا جانے کب؟‘‘ کہنے لگے: ”میرے ساتھ پرو فیسر رفیق محمود کے گھر چلو اور کوئی فالتو بات نہ کرنا۔“ رفیق صاحب نے پو چھا: ”ٹیسٹ دیا تھا؟“ ”یس سر“، منہ سے اضطراری طور پہ نکلا۔ رفیق صاحب نے پیڈ اٹھایا اور پاس ہونے کا سرٹیفکیٹ لکھ دیا۔“ 

 میرے لئے چرچ سے وابستہ کسی تعلیمی ادارے میں ’زیر مونچھ‘ مسکراہٹ سے دوچار ہونے کا اولین موقع جی سی یو سے پسپا ہوتے ہی اگلی صبح گورڈن کالج کے صدر شعبہ اور وائس پرنسپل ڈاکٹر فرانسس زیوئر سے ملاقات ہے۔ اتنا جانتے تھے کہ وہ قدِ آدم سے کہیں اونچے تدریسی قد کاٹھ کے آدمی ہیں۔ لیکن کالج پہنچ کر ایک تو اِس سے ڈھارس بندھی کہ ’پروفیسرز میس‘ کو جانے والے راستہ پہ دو رویہ کاسنی رنگ کے پھول کھلے تھے۔ دوسرے ’میس‘ کے اندر جو جھانکا تو کیا دیکھتے ہیں کہ کالی پتلون اور جیکٹ میں ملبوس ہلکی سی مونچھوں والا ایک لڑکا عوامی انداز میں سگریٹ کو انگلیوں میں دبوچے باقاعدہ چٹکی مارکہ طریقے سے راکھ جھاڑ رہا ہے۔ اچھا ہوا کہ میرے کزن رؤف حسن نے، جو ہمارے ہی ڈپارٹمنٹ میں استاد تھے، تعارف کرا دیا۔ وگرنہ پتا نہیں کیا تماشہ ہوتا۔

 ڈاکٹر زیوئر نے یہ کہہ کر حیرت ظاہر کی کہ ”آپ جی سی سے یہاں آنا چاہتے ہیں!“ ساتھ ہی پوچھا کہ بی اے میں کتنے نمبر تھے۔ مَیں نے بتایا تو اُن کے چہرے پہ ہنسی کو روکنے والی نیم شرارتی مسکراہٹ ابھری اور آپ نے کلاس کو چپ کرانے کے انداز میں ڈائیننگ ٹیبل پہ ہاتھ مار کر چائے پینے والے باقی استادوں کو متوجہ کیا: ”اوئے، ایس منڈے نے اوہ کم کر دتا اے جیہڑا ساڈے کولوں کدی نئیں ہوئیا۔“ پھر اچانک مجھ سے مخاطب ہوئے: ’’مائیگریشن ہوتی رہے گی۔ سجاد شیخ اِس وقت پڑھا رہے ہیں، آپ کلاس میں چلیں۔“ عجیب مشفقانہ بے تکلفی تھی۔ اِس سے بڑھ کر اُن کا طرز تدریس جسے زندہ ناچ گانے کے مقابلے میں ’لائیو ٹیچنگ‘ کہیں گے۔ چند ہی ہفتے گزرے تھے اُنہی کے ایما پہ مجھ سمیت تین طالب علموں کا شعری مجموعہ مرتب ہوا اور اردو کی یہ کتاب شعبہء انگریزی نے شائع کی جو تاریخی واقعہ ہے۔ 

 لندن میں بی بی سی سے میری طویل وابستگی اور رضاکارانہ وطن واپسی ہے تو یہ بھی پسپائی۔ پھر بھی پینلٹی اسٹروک لگانے سے پہلے وضاحت کردوں کہ برطانیہ روانگی کے وقت بیگم صاحبہ نے وعدہ لے لیا تھا کہ کچھ ہو، بیرونِ ملک مستقل رہنے کا کوئی سوال نہیں۔ یوں دس سال گزر نے پر ’بچھڑے ہوئے کعبہ میں صنم آتے ہیں‘ کا مرحلہ آیا تو بیگم کی خوشی دیدنی تھی جبکہ ’ہم اہل ِ صفا، مردودِ حرم‘ بدرجہا بہتر آمدنی اور دنیوی عیش و سکون چھن جانے پر جھینپ رہے تھے، مگر ڈٹے رہے۔ بعض خیرخواہ البتہ آج بھی اِس فیصلے پہ اُتنے ہی حیرت زدہ ہیں جیسے ڈاکٹر زیوئر نے مائیگریشن کا سُن کر کہا تھا کہ آپ جی سی سے یہاں آنا چاہتے ہیں۔ یوں کم کوش طالب علم کی گورڈن کالج کو مراجعت کی طرح اِس کم وسیلہ جوڑے کے لئے یہ پسپائی بھی کشادہ تر گُل زمینوں کا سفر ثابت ہوئی۔ یا کم ازکم بڈھے بڈھی کا خیال یہی ہے۔ (ختم شُد) 

مزید :

رائے -کالم -