ملاکنڈ ٹیکس فری زون،ٹیکس نفاذ کی کسی صورت اجازت نہیں دینگے:سید محمد علی شاہ باچہ

ملاکنڈ ٹیکس فری زون،ٹیکس نفاذ کی کسی صورت اجازت نہیں دینگے:سید محمد علی شاہ ...

  

سخاکوٹ(نمائندہ پاکستان) سابق ممبر صوبائی اسمبلی اور پی پی پی کے صوبائی سینئر نائب صدر سید محمد علی شاہ باچہ نے کہا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن ٹیکس فری زون ہے او ر اس میں ٹیکس نفاذ کی کسی صورت اجازت نہیں دینگے۔ پی ٹی آئی کے گذشتہ دور حکومت میں ملاکنڈ ڈویژن کو 2023تک ٹیکس فری زون کی حیثیت برقرار رکھنے کا معاہدہ ہو اتھا لیکن اب معاہدے سے ہٹ کر یہاں ٹیکس لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام پہلے ہی دہشت گردی، سیلاب، زلزلہ اوربے روزگاری سے شدید متاثر ہو کر پسماندگی کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت ملاکنڈ کے متاثرہ عوام پر ٹیکس اور دن بدن مہنگائی کا بوجھ ڈال رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونین کونسل ورتیر دوبندئی میں پی ٹی آئی اور عوامی نشنل پارٹی کے سرکردہ خاندانوں کی پی پی پی میں شمولیت کے موقع پر ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماع سے سابق ممبر ضلع کونسل حاجی اکرم خان، عبد اللہ، ظاہر شاہ، فرید خان اور حاجی نثار محمد سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ اس دوران پاکستان تحریک انصاف اور عوامی نشنل پارٹی کے سرکردہ خاندانوں کے سربراہان عبد اللہ، عطاء اللہ، عبد الولی، احسان اللہ، معاذ خان، عبد علی شاہ، جمیل خان، شاہد خان، ملک حضرت احمد، خلیل خان، رویت، واسر خان، سجاد خان، فاروق خان، نسیم خان، انعام اللہ، سمین اللہ، زاہدخان، شوکت، غفران، عنایت خان، معاذ خان، فیصل خان، عثمان خان، یاسین خان، بہرام سید، شاہ زمان، مشتاق خان، بہادر خان، جمشید، الطاف خان، طاہر محمد، شوکت، انات خان، وحید اللہ،عمراخان،سمیع اللہ، عادل خان، جہانگیر خان، ندیم خان،سردار حسین، یاسین، شاہد خان، جمیل خان، شاد عمر خان، محمد علی، احسان اللہ، عالمگیر خان اور اسلم شاہ وغیرہ نے ساتھیوں اور خاندان سمیت پی پی پی میں شمولیت کا اعلان اور سید محمد علی شاہ باچہ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔سید محمد علی شاہ باچہ نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کو 2023تک ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے اس لئے اگر حکومت نے ٹیکس نفاذ میں زبردستی کی تو پورے ڈویژن کے عوام سڑکوں پر نکل کر احتجاج پر مجبور ہو جائینگے جس میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر ہو گی اس لئے حکومت ٹیکس سے متعلق کسی بھی اقدام سے گریز کریں اور اپنے معاہدے کی پاسداری کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بد آمنی کی وجہ سے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں لیکن بد قسمتی سے چھتری پراُتر نے والے حکمرانوں کو غریب عوام کے دکھ درد کا احساس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر تعمیر کرنے کے اعلانات کرنے والوں نے عوام کو مسائل و مشکلات کے دلد ل میں دھکیل دیا ہے اور روزگار اور گھر دینے کی بجائے لاکھوں خاندانوں کو بے گھر اور لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کردیا گیا ہے۔ سید محمدعلی شاہ باچہ نے کہا کہ ملاکنڈ لیویز کے 237اہلکاروں کو ایک دستخط پرجبری ریٹائرڈ کیا گیا جس کی ہم مذمت اور انہیں قانونی حقوق دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سابق ممبر صوبائی اسمبلی نے محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم میں عوامی مسائل پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پورا سال سکول بندش کے باوجود گیارہ سو میں سے گیارہ سو نمبرز حاصل کرنا غیر متوقع نتائج ہیں جس کے خلاف طلباء و طالبات بھی سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور حالیہ نتائج سے پورے دنیا میں پاکستان کی بد نامی ہورہی ہے کیونکہ موجودہ سلیکٹڈ حکمرانوں نے عوام سے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اصلاحات اور ایمرجنسی کے وعدے کئے تھے لیکن محکمہ صحت میں موجودہ مسائل اور محکمہ تعلیم کے حالیہ نتائج نے حکومت کے وعدوں اور اعلانات کے سب پول کھول دئیے ہیں۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -