ویانا:پاکستان کی جانب سے "زندگی کے لیے جوہری توانائی" کے موضوع پرتقریب کا اہتمام

ویانا:پاکستان کی جانب سے "زندگی کے لیے جوہری توانائی" کے موضوع پرتقریب کا ...
ویانا:پاکستان کی جانب سے

  

ویانا(اکرم باجوہ) پاکستان نے ویانا میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی 65 ویں جنرل کانفرنس کے دوران "زندگی کے لیے جوہری توانائی" کے موضوع پر ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا۔

 اس تقریب کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ پاکستان نے مختلف شعبوں مثلا power بجلی کی پیداوار ، زراعت ، صنعت ، صحت اور ماحولیاتی تحفظ میں پرامن مقاصد کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی کو کس طرح استعمال کیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل آئی اے ای اے مسٹر رافیل ماریانو گروسی نے بطور مہمان خصوصی تقریب کا افتتاح کیا جس میں آئی اے ای اے کی جنرل کانفرنس کے بین الاقوامی وفود ، سفارت کاروں اور آئی اے ای اے سیکرٹریٹ کے ممبران نے شرکت کی۔

 تقریب کے آغاز پر پاکستان کی طرف سے جوہری تکنیک کے استعمال سے تیار کردہ اعلی پیداوار والے کاٹن پلانٹ کا ایک محفوظ نمونہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) کے چیئرمین نے DG IAEA کو پیش کیا۔  اسے مستقل طور پر آسٹریا کے سیبرسڈورف میں آئی اے ای اے کی جوہری ایپلی کیشنز لیبارٹریوں میں نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔ تقریب کے آغاز میں اپنے ریمارکس میں ڈائریکٹر جنرل گروسی نے کہا کہ پاکستان کے کارنامے جوہری ٹیکنالوجیز کے پرامن استعمال سے پائیدار ترقی کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے باہمی فائدہ مند شراکت کو مزید بڑھانے میں پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن جناب محمد نعیم جو کہ IAEA کی 65 ویں جنرل کانفرنس میں پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں نے تقریب میں کہا کہ ایٹمی پاکستان کے لیے سستی پائیدار اور صاف توانائی کا ایک اہم ذریعہ فراہم کرتا ہے جس میں نہ صرف توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات تھیں بلکہ  موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے لیے بھی انتہائی کمزور ہے۔

 اس موقع پر اپنے ریمارکس میں پاکستان کے مستقل نمائندے آفتاب احمد کھوکھر نے کہا کہ ایٹمی ٹیکنالوجیز نے نہ صرف بجلی کی پیداوار بلکہ زراعت کے شعبے میں اعلی پیداوار اور انتہائی موسمی مزاحمتی اقسام کی ترقی کے ذریعے پاکستان کی معیشت میں بہت بڑا حصہ ڈالا ہے۔  مختلف فصلوں کے متعلق انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان آئی اے ای اے کے زیراہتمام دیگر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ اپنا تجربہ اور مہارت بانٹنے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان کے ماہرین بشمول ڈاکٹر امتیاز احمد ، جناب عبد الرحمن ، ڈاکٹر زین خورشید اور جناب کاشف ریاض خان نے تقریب میں پاکستان کے پرامن ایٹمی پروگرام کے مختلف پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی اور حاضرین کے سوالات کے جوابات دیئے۔

مزید :

بین الاقوامی -