چین میں بچہ پیدا کرنے پر ماﺅں کو 25لاکھ روپے انعام ملنے لگا 

چین میں بچہ پیدا کرنے پر ماﺅں کو 25لاکھ روپے انعام ملنے لگا 
چین میں بچہ پیدا کرنے پر ماﺅں کو 25لاکھ روپے انعام ملنے لگا 

  

بیجنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن )چین کے ایک گاوں میں ماوں کو بچہ جنم دینے پراڑھائی سال تک ماہانہ 3300 یو آن یا 510 امریکی ڈالر کے برابر رقم دی جائے گی۔ مجموعی طورپر یہ رقم 15 ہزار امریکی ڈالر پا پچیس لاکھ پاکستانی روپے سے زیادہ رقم بنتی ہے۔یہ گاوں گوانگ ڑونگ صوبے میں واقع ہے جو اگست میں چین میں تین بچوں کی پالیسی کو قانونی حیثیت دینے کے بعد سے خاندانوں کو بچوں کی پیدائش پر رقم دینے والا پہلا گاوں ہوگا۔چانگ جیانگ ڈیلی نے رپورٹ کیا ہے کہ ستمبر کے اوائل سے ہی چانگ ڑانگ کے ہوانگ ڑونگ گاو¿ں نے ایک نئی مقامی خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسی کو فروغ دینا شروع کیا جس کے تحت جوڑے اپنے بچے ڈھائی سال کی عمر تک پہنچنے تک مالی فوائد حاصل کریں گے۔

چینی اخبار’گلوبل ٹائمز‘ کے مطابق یکم ستمبر کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کے والدین ہر ماہ ڈھائی سے تین سال تک کے ہر بچے کے لیے تین ہزار سے 33سو یوآن وصول کریں گے۔ چینی کرنسی میں یہ رقم 99ہزار یوآن یا 15ہزار امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔اخبار نے مزید کہا کہ وہ مائیں جو گاوں سے باہر کام کرتی ہیں یا جو اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاتی وہ مذکورہ مالی امداد کے اہل نہیں ہیں۔

مقامی عہدیداروں نے بتایا کہ گاوں کے بہت سے نوجوان جوڑے جو ایک سے زائد بچے پیدا کرنے سے گریزاں تھے اب دوبارہ غور کر رہے ہیں کیونکہ ابتدائی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گاوں کے تقریبا 20 خاندانوں نے نئی پالیسی پر عمل درآمد کے بعد مزید بچے پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شمال مغربی چین کے گانسو صوبے میں پہلے ، دوسرے یا تیسرے بچے پیدائش پر جوڑوں کے لیے 40ہزار یوآن تک گھر کی خریداری کی سبسڈی کا اعلان کیا تھا۔جولائی میں جنوب مغربی چین کے صوبے سیچوان میں پانزیہوا نے اعلان کیا کہ دوسرے یا تیسرے بچے والے مقامی خاندانوں کے لیے ماہانہ 500 یوآن نقد امداد دی جائے جب تک کہ بچے تین سال کے نہ ہو جائیں۔

مزید :

بین الاقوامی -