سعودی عرب میں جنسی ہراسانی کی سزا کیا ہے ؟ جان کر آپ کے بھی ہوش اڑ جائیں

سعودی عرب میں جنسی ہراسانی کی سزا کیا ہے ؟ جان کر آپ کے بھی ہوش اڑ جائیں
سعودی عرب میں جنسی ہراسانی کی سزا کیا ہے ؟ جان کر آپ کے بھی ہوش اڑ جائیں

  

ریاض(ڈیلی پاکستان آن لائن)سعودی وزارت داخلہ نے دوسروں کو جسمانی یا زبانی طور پرجنسی طور پر ہراساں کرنے والے مشتبہ افراد کے انتباہ کے لیے سزاوں کی فہرست کا اعلان کیا ہے۔

سعودی وزارت داخلہ کے مطابق کسی دوسرے شخص کے ساتھ جسمانی یا زبانی طور پر کیے گئے جنسی مفہوم کے ساتھ کوئی بھی ”لفظ، عمل یا اشارہ“ہراسیت کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ فعل متاثرہ شخص کوہراساں کرنے کے مترادف سمجھا جائے گا اور مستوجب سزا ہوگا۔اس طرح کے جرم کے مرتکب شخص کو 27,000 ڈالر (ایک لاکھ سعودی ریال) تک جرمانے کے علاوہ دو سال تک قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

اگر وہ مجرم اس جرم کا دوبارہ ارتکاب کرتا ہے تو جیل کی سزا پانچ سال تک بڑھ جائے گی اور80,000 ڈالر تک جرمانہ ہوگا۔اگر درج ذیل حالات میں جنسی ہراسیت کے جرم کا ارتکاب کیا جاتا ہے تو پھرمشتبہ ملزم کو یہی د±گنی سزا دی جائے گی۔

اگر متاثرہ نابالغ ہے یا خصوصی ضروریات کا حامل شخص ہے۔

اگر جنسی ہراسیت کا واقعہ کسی حادثے یا تباہی کے دوران میں پیش آیا ہو۔

اگر یہ واقعہ کسی سکول، کام کی جگہ، پناہ گاہ یا کیئر ہوم میں پیش آیا ہو۔

اگرمجرم اور متاثرہ شخص ایک ہی صنف سے تعلق رکھتے ہیں۔

اگرمتاثرہ شخص سورہا ہے یا بے ہوش ہے۔

مزید :

عرب دنیا -