ساکن پانیوں کا استعمال کرنے والے زیادہ لمبی عمر نہیں پاتے

ساکن پانیوں کا استعمال کرنے والے زیادہ لمبی عمر نہیں پاتے
ساکن پانیوں کا استعمال کرنے والے زیادہ لمبی عمر نہیں پاتے

  

تحریر: ملک اشفاق

 قسط:25

 -1 ساکن پانی

 ایسے پانی ساکن اور غیر متحرک ہوتے ہیں۔ ان پر سال میں ہونے والی تمام بارشیں برستیں ہیں اور ہر موسم کا سورج ان پر چمکتا رہتا ہے۔ ایسے پانی ساکن ہونے کی وجہ سے بارشوں کے پانیوں سے گدلے ہو جاتے ہیں اور سورج کی مضر صحت شعاعیں ان پانیوں پر ایک بار پیدا کرکے انہیں مہلک بنا دیتی ہیں۔

 ایسے پانیوں کے تالابوں میں تعفن بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ ایسے پانی پہلے پہل بے رنگ ہوتے ہیں لیکن وقت گزرنے کےساتھ ساتھ ان میں آبی مخلوق بھی پیدا ہو جاتی ہے اور اس پانی کا رنگ ہلکا سبز ہو جاتا ہے۔ موسم سرما میں یہ پانی ٹھنڈے ہو جاتے ہیں اس لیے ایسے پانی استعمال کرنے والے لوگوں کو بلغمی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔ ایسی بیماریوں میں سانس کی تکلیف، پیٹ کی خرابی اور بخار وغیرہ ہوتا ہے موسم گرما میں ہیضہ اور پیٹ درد کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ ایسے پانی استعمال کرنے والے عموماً کمزور رہتے ہیں۔ نوجوانوں کو دمہ اور پھیپھڑوں کی بیماریاں ہو جاتی ہیں جبکہ بوڑھوں کو تیز بخار ہوتا ہے۔ عورت کو لیکوریا کی شکایت رہتی ہے۔ حاملہ عورتوں کو زچگی میں مشکل ہوتی ہے اور ایسی عورتوں کے بچے کمزور ہوتے ہیں۔ ایسے پانیوں کا استعمال کرنے والے زیادہ لمبی عمر نہیں پاتے اور ان پر بڑھاپا وقت سے پہلے طاری ہو جاتا ہے۔

-2 چشموں کے پانی

 ایسے پانی جو چٹانی چشموں سے نکلتے ہیں۔ یہ پانی بہت زیادہ بھاری ہوتے ہیں کیونکہ چٹانوں میں سونے، چاندی، تانبے اورلوہے کی دھاتوں کی آمیزش کے علاوہ گندھک اور دوسرے کیمیائی مادوں کی وجہ سے ان پانیوں پر زبردست قسم کا بھاری پن آ جاتا ہے۔ ایسے پانی زود ہضم تو ہوتے ہیں لیکن اپنے بھاری پن کی وجہ سے کچھ لوگوں کےلئے مفید نہیں ہوتے۔ ایسے پانی جو بلند چٹانوں سے مٹی یا ریت پر گرتے ہیں تو ریت یا مٹی ان کا بھاری پن کھینچ لیتی ہے اور تمام دھاتی اور کیمیائی اثرات کو زائل کر دیتی ہے جس کی وجہ سے یہ پانی انتہائی شفاف، شیریں اور تمام قسم کے بھاری پن سے پاک ہوتے ہیں۔ ایسے پانیوں پر سورج کی شعاعیں مہلک اثرات نہیں ڈالتیں۔

 ایسے پانی بے رنگ، بے ذائقہ اور شفاف ہوتے ہیں اور جو لوگ ایسے پانی کو پیتے ہیں انہیں کئی قسم کی بیماریوں سے فائدہ ہوتا ہے۔

 ایسے چشمے جو سورج کے رخ پر ہوتے ہیں ان پر سورج کی کرنیں اثر انداز ہو کر شفائی قوت پیدا کر دیتی ہیں جبکہ موسم سرما میں سورج کی شعاعیں کمزور ہونے کی وجہ سے یہ پانی تھوڑے سے کثیف ہو جاتے ہیں۔

 دراصل یہ پانی قدرتی طور پر چشموں سے ابلتے ہیں اور قدرتی مراحل سے گزر کر صاف ہو جاتے ہیں اس طرح یہ پانی صحت کےلئے مفید ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کو استعمال کرنے والے لوگ لمبی عمر پاتے ہیں۔ انہیں صفراءکی بیماری، دمہ اور پیٹ کی بیماریاں لاحق نہیں ہوتیں۔ عورتیں نرم مزاج ہوتی ہیں اور زچگی میں انہیں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔

ایسے پانی استعمال کرنے والے نوجوان ذہین اور ان کے جسم مضبوط ہوتے ہیں جبکہ وہ شدید بیماریوں سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔

-3 بارش کے پانی

 ایسے پانی بہت ہلکے اور شیریں ہوتے ہیں کیونکہ سورج بارش کے پانی کو دریاﺅں، سمندروں اور تمام تر جگہوں سے بخارات کی صورت میں ہواﺅں سے اوپر اٹھالیتا ہے ایسے پانی بہت ہلکے ہوتے ہیں کیونکہ ان سے تمام مادے خارج ہو جاتے ہیں۔

 بارش کے ایسے پانی اگر تالابوں میں زیادہ دیر تک ساکن رہیں تو بدبو دار ہو جاتے ہیں۔

 لیکن موسم بہار میں ہونے والی بارشوں کے پانی زیادہ بہتر ہوتے ہیں اور جلدی متعفن نہیں ہوتے۔

 یہ پانی ہلکے اور شریں ہونے کی وجہ سے صحت کےلئے بہت مفید ہوتے ہیں ایسے پانی استعمال کرنے والوں کے اندر فطری شفائی قوت زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔

 ایسے پانی اگر متعفن ہو جائیں تو ہر عمر کے لوگوں کو بیمار کر دیتے ہیں۔ خاص کر گلے کی بیماریاں ان پانیوں کے پینے کی وجہ سے آتی ہیں اس لیے ایسے پانی کو ابال کر ٹھنڈا کرکے پینا بہت مفید ہے اور اس سے کوئی بیماری بھی لاحق نہ ہوگی۔( جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -