عورتیں اوربچے تک اس جگہ کو گالیاں دیتے تھے،یہ جگہ نہیں تھی اللہ مارا جہنم تھا

عورتیں اوربچے تک اس جگہ کو گالیاں دیتے تھے،یہ جگہ نہیں تھی اللہ مارا جہنم تھا
عورتیں اوربچے تک اس جگہ کو گالیاں دیتے تھے،یہ جگہ نہیں تھی اللہ مارا جہنم تھا

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:27

یورگس کو محسوس ہوتا کہ وہ زندگی میں پہلی بار صحیح معنوں میں کام کر رہا ہے۔ پہلی بار ایسا کام جس میں اس کی ساری جان کھپ رہی تھی۔وہ گیلری میں دوسروں کے ساتھ کھڑا بوچڑ خانے کو دیکھ رہا تھا اور کام کرنے والے مردوں کی رفتار پر حیران ہو رہا تھا جو مشینوں کی طرح مصروف ِ کار تھے۔اسے تب تک ان کے جیتے جاگتے ہونے کا خیال نہیں آیا جب تک وہ خود نیچے اتر کر ان میں شامل نہیں ہو گیا۔پھر اسے چیزیں ذرا مختلف نظر آنے لگیں۔ یہاں کام کی رفتار کا یہ عالم تھا کہ صبح پہلا جانور گرنے سے لے کر دوپہر کی گھنٹی بجنے تک، پھر دوبارہ ساڑھے بارہ بجے سے خدا جانے شام تک یا رات تک، ایک لمحے کےلئے بھی آدمی کے ہاتھوں، آنکھوں اور دماغ کو آرام کی مہلت نہیں ملتی تھی۔ یورگس نے اندازہ لگا لیا کہ یہ رفتار کیسے برقرار رکھی جاتی ہے۔ ہر کام کے حصے تھے جن میں ایسے لوگ رکھے جاتے تھے جو کام کی ایک رفتار قائم کرتے تھے۔ ان کی اجرت دوسروں سے زیادہ ہوتی تھی اور ان پر نظر رکھنے کےلئے باس ہوتے تھے۔ انہیں دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے ان میں جِن آگیا ہو۔ اگر کوئی ان کی رفتار کا ساتھ نہ دے پاتا تو باہر سیکڑوں اور موجود تھے جو ایک موقعہ ملنے کےلئے منتیں کرتے تھے۔

یورگس نہ تو پریشان ہوا نہ گھبرایا بلکہ اسے تو مزہ آیا۔ اس کی وجہ سے اسے فراغت سے نجات مل گئی تھی۔ وہ کام کرتے ہوئے دل ہی دل میں ہنستے ہوئے اپنے سے اگلے آدمی پر نظر ڈال لیتا تھا۔ یہ اگرچہ خوش گوار کام نہیں تھا لیکن یہ ایک ضروری کام تھا۔ ایک آدمی کو مفید کام اور اس کی مناسب اجرت ملنے سے زیادہ کیا چاہیے ؟

یورگس جو سوچتا تھا وہی کَہ دیتا تھا اور یہ عادت اس کےلئے مشکلیں کھڑی کرتی تھی۔ یہاں کام کرنے والے دوسرے آدمیوں کی رائے یورگس سے قطعی مختلف تھی۔ جب اسے پہلی بار علم ہوا کہ یہ لوگ اس کام سے بہت نفرت کرتے ہیں تو یورگس سخت مایوس ہوا۔ اور یہ بات عجیب بلکہ خوفناک تھی کہ سب ہی ایسا سوچتے تھے مگر حقیقت یہی تھی کہ یہاں ہر ایک کو اپنے کام سے نفرت تھی۔ وہ اپنے افسروں سے نفرت کرتے تھے، مالکوں سے نفرت کرتے تھے، انہیں ساری جگہ، سارے علاقے بلکہ سارے شہر سے شدید اور تلخ نفرت تھی۔ عورتیں اوربچے تک اس جگہ کو گالیاں دیتے تھے۔ یہ جگہ نہیں تھی اللہ مارا جہنم تھا۔ جب یورگس ان سے پوچھتا کہ ”اس کا کیا مطلب ہے ؟“ تو وہ اسے شکّی نظروں سے دیکھتے ہوئے بات بدل دیتے اور کہتے ” کوئی مسئلہ نہیں۔ یہاں رہو گے تو خود دیکھ لوگے۔“

 پہلا مسئلہ جس سے یورگس کا واسطہ پڑا وہ یونئین تھیں۔ اسے یونئین کا کوئی تجربہ نہیں تھا اور یہ بات اسے سمجھانا پڑی کہ حقوق کے حصول کے لیے لوگوں نے اپنے گروہ بنا رکھے ہیں۔ یورگس نے ان سے حقوق کا مطلب پوچھا کیوں اسے اپنے کسی حق کا علم نہیں تھا سوائے اس کے کہ نوکری تلاش کی جائے اور نوکری ملنے کے بعد جو کرنے کو کہا جائے، وہ کیا جائے۔ عام طور پر اس سادہ سوال پر اس کے ساتھی مزدور غصے میں آ جاتے اور اسے بے وقوف کہتے۔ اس کے پاس بُچر ہیلپرز یونین (butcher-helpers' union ) کا وفد آیا اور اسے رکنیت لینے کے لیے کہا۔ جب یورگس کو پتا چلا کہ اس کام کےلئے اسے اپنی آمدنی کا کچھ حصہ انہیں دینا پڑے گا تو وہ ہک دک رہ گیا۔آنے والا آئرش مین تھا اور اسے لیتھواینئین زبان کے دو چار لفظ ہی آتے تھے۔ یورگس کے رد ِ عمل پر وہ غصے میں آگیا اور اسے دھمکیاں دینے لگا، جس پر یورگس کا دماغ بھی پھر گیا اور اس نے اسے بتادیا کہ اسے ڈرا کر یونئین میں شامل کرنے کےلئے ایک سے زیادہ آئرش آدمیوں کی ضرورت پڑے گی۔۔ رفتہ رفتہ اسے سمجھ آیا کہ لوگ بنیادی طور پر یہ چاہتے ہیں کہ رفتار کی عادت روکی جائے۔ وہ اپنی سی کوشش کر رہے تھے کہ کام کی رفتار کم کی جائے کیوں کچھ مزدور ایسے بھی تھے جو اس کا ساتھ نہیں دے پارہے تھے اوریہ ان کےلئے مہلک ثابت ہو رہی تھی۔ لیکن یورگس کو ایسے خیالات سے کوئی ہمدردی نہیں تھی۔ وہ خود کام کر سکتا تھا، لہٰذا ہر کسی کو کام کرنا چاہیے۔ اگر ان سے یہ کام نہیں ہوتا تو انہیں کہیں اور چلے جانا چاہیے۔یورگس نے کتابیں تو پڑھی نہیں تھیں اور نہ اسے لیسے فئیر ”Laissez-Faire“ (کاروبار میں سرکاری عدم مداخلت کی پالیسی۔ مترجم) پڑھنی آتی تھی لیکن اس نے دنیا دیکھی تھی اور یہ ضرور جانتا تھا کہ آدمی کو اپنے لیے بہتر جگہ ڈھونڈتے رہنا چاہیے ورنہ دکھ تکلیف میں کوئی اس کی آہ و پکار نہیں سنتا۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -