رانی جنداں کیخلاف انگریزوں کی سازش ،معاہدہ بھیرووال پنجاب کی غلامی کا پروانہ بن گیا

 رانی جنداں کیخلاف انگریزوں کی سازش ،معاہدہ بھیرووال پنجاب کی غلامی کا ...
 رانی جنداں کیخلاف انگریزوں کی سازش ،معاہدہ بھیرووال پنجاب کی غلامی کا پروانہ بن گیا

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:55 

آخر انگریزوں نے ایک نئی چال چلی۔ وہ جانتے تھے کہ انگریز افواج کے لاہور سے چلے جانے کے بعد سردار عدم تحفظ کا شکار ہو جائیں گے سو انہوں نے سرداروں کے اس خوف و ہراس کو سیاسی دباﺅ کے طور پر استعمال کیا۔ انگریزی فوج کے چھوٹے چھوٹے یونٹوں کو آہستہ آہستہ فیروز پور اور قصور روانہ کرنا شروع کر دیا۔ یہ حربہ کارگر ثابت ہوا اور دربار اس تشویش میں مبتلا ہو گیا کہ انگریزی افواج کے انخلاءکے بعد وہ غیر محفوظ ہو جائے گا لہٰذا دربار نے انگریز ریذیڈنٹ کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے۔ جنداں کا وجود پھر بھی انگریزوں کی راہ میں روڑا بنا رہا۔ اسے انگریزوں کے اصل عزائم صاف نظر آ رہے تھے اور وہ اس تجویز سے اتفاق نہیں کر رہی تھی۔ 

اس مشکل پر قابو پانے کےلئے انگریز ریذیڈنٹ نے پنجاب دربار کا خصوصی اجلاس طلب کیا تاکہ اپنے حق میں فیصلہ کروا سکے۔ اس اجلاس میں جنداں کو مدعو نہ کیا گیا۔ یہ ایک انوکھی بات تھی کیونکہ جنداں اس کونسل کی سربراہ ہونے کے علاوہ قانونی طور پر دلیپ سنگھ کے سن بلوغت کو پہنچنے تک پنجاب کی سربراہ تھی۔ جنداں کی غیر موجودگی میں دربار کی طرف سے انگریز ریذیڈنٹ کو درخواست پیش کی گئی کہ1 سال کی مدت گزرنے کے بعد بھی انگریز فوج کو لاہور سے کسی دوسری جگہ منتقل نہ کیا جائے۔ اس تجویز پر ریذیڈنٹ نے بظاہر ناپسندیدگی کا مظاہرہ کیا اور یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ انگریز حکومت کےلئے اس تجویز کو قبول کرنا مشکل ہے۔ لیکن بعد میں ازراہ عنایت مندرجہ ذیل شرائط کی صورت میں اسے منظور کرنے پر آمادہ ہوا۔ 

-1  لاہور میں موجود انگریز ریذیڈنٹ تمام سرکاری محکموں اور معاملات میں مداخلت کر سکے گا۔ 

-2  برطانوی فوج کو ہر اس جگہ جانے کا قانونی اختیار ہو گا جہاں فوج کا مفاد اور لوگوں کی بہتری اس کا تقاضا کرے گی۔ 

-3  گورنر جنرل جس بھی فوجی چوکی یا قلعے پر قبضہ کرنا چاہے گا وہ اس کے حوالے کر دیا جائے گا۔ 

-4  رانی جنداں کو کونسل کی سربراہی سے علیٰحدہ کر کے اس کی جگہ انگریز ریذیڈنٹ مقرر کیا جائے گا۔ 

-5  یہ انتظامی معاہدہ 1854 تک کےلئے ہو گا اور جب دلیپ سنگھ 16 برس کا ہو جائے گا تو اسے مہاراجہ بنا کر عنان حکومت سونپ دی جائے گی۔ 

اس معاہدے پر 16 دسمبر 1846 میں 52 سرداروں نے دستخط کر کے پنجاب کی آزادی اور خودمختاری کا سودا کر دیا۔ 10ہزار انگریز فوج پہلے ہی قبضہ کیے بیٹھی تھی۔ اس معاہد ے کی روسے انگریزوں کو پنجاب میں مزید فوج بھیجنے کی اجازت مل گئی۔ 

معاہدہ بھیرووال کے نتیجے میں لاہور دربار کے امرا پر مشتمل ایک انتظامی کونسل بناد ی گئی۔ جس کے ارکان یہ تھے۔ سردار تیج سنگھ، دیوان دینا ناتھ، سردار شیر سنگھ اٹاری والا، فقیر نور الدین، سردار رنجودھ سنگھ، بھائی ندھان سنگھ، سردار عطر سنگھ کلیانوالہ۔ کونسل تو وجود میں آ گئی لیکن اختیارات کے اعتبار سے اس کی حیثیت محض نمائشی تھی۔تمام اختیارات کونسل کے سربراہ یعنی انگریز ریذیڈنٹ کے ہاتھ میں تھے۔ وہ اہم امور نپٹانے میں ارکان کی رائے کا پابند نہیں تھا بلکہ تمام فیصلے گورنر جنرل کے احکامات کی روشنی میں تھا۔ 

باقی رہ گئی رانی جنداں۔ اس کی تذلیل اس حد تک کی گئی کہ پورے پنجاب میں اس کےلئے ہمدردی کے جذبات پیدا ہو گئے۔ پہلے رانی جنداں کو کونسل کے اعلیٰ عہدے سے ہٹایا گیا پھر جھوٹے الزام کی بنیاد پر کہ وہ انگریز حکومت کے خلاف سازش کرتی رہی ہے اسے دلیپ سنگھ سے جدا کر کے قلعہ شیخوپورہ میں نظربند کر دیا گیا۔ اس کا سالانہ وظیفہ جو ڈیڑھ لاکھ روپے طے ہوا تھا کم کر دیا گیا۔ پھر اس الزام کی آڑ میں کہ اس نے انگریز افسروں کو کھانے میں زہر ملا کر ہلاک کرنے کا پروگرام بنایا تھا اسے دیس نکالا دیا گیا اور پنشن کی رقم گھٹا کر 12 ہزار روپے سالانہ کر دی گئی۔رانی جنداں کے وزیر لال سنگھ کو پہلے وزارت سے علیٰحدہ کیا گیا اور پھر دیس نکالا دے کر بنارس بھیج دیا گیا۔ یہ بات بھی لوگوں کوناگوار گزری۔ 

اب صاف نظر آنے لگا کہ انگریز پنجاب میں بتدریج قبضہ کرنا چا ہتے ہیں اور یہ کہ 9برس کے بعد 1854ءمیں دلیپ سنگھ کو حکومت سونپنے کا وعدہ محض و قت گزارنے کا ایک بہانہ ہے۔ دراصل گورنر جنرل لارڈ ہارڈنگ، دلیپ سنگھ کی سرپرستی کے نام پر پنجاب پر اپنی گرفت مضبوط کررہا تھا۔ اس طرح معاہدہ بھیرووال اصل میں پنجاب کی غلامی کا پروانہ بن گیا۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -