شدید بارش ہوئی‘ طوفانی جھکڑبھی چلے اور میں اس بادوباراں میں گم ہو گیا 

شدید بارش ہوئی‘ طوفانی جھکڑبھی چلے اور میں اس بادوباراں میں گم ہو گیا 
شدید بارش ہوئی‘ طوفانی جھکڑبھی چلے اور میں اس بادوباراں میں گم ہو گیا 

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:1 

سوانح‘شخصیت

نام:صدیق سالک کا اصل نام محمد صدیق تھا-صدیق سالک کے نام کے پس منظر کے متعلق عرفان صدیقی لکھتے ہیں:

”منگلیہ کے رحمت خان کا بیٹا محمد صدیق ”صدیق سالک“ کیسے بنا یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے- ان دنوں وہ آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا- سالانہ امتحان کےلئے داخلہ فارم پُر کیے جانے لگے تو ماسٹر صاحب کو ایک مشکل پیش آئی جماعت میں آدھ درجن سے زیادہ لڑکے محمد صدیق نام کے تھے انہوں نے اعلان کیا کہ محمد صدیق نام کا ہر لڑکا اپنے نام کے ساتھ کوئی نہ کوئی لاحقہ لگالے محمد صدیق سوچ میں پڑگیا- اسے کچھ نہ سوجھی کسی اخبار یا رسالے میں اس نے عبدالمجید سالک کا نام پڑھ رکھا تھا- یہ نام اس کے تحت الشعور میں موجود تھا‘ اس نے چپکے سے اپنے نام کے ساتھ ”سالک“ کا لاحقہ لگالیا- یوں منگلیہ کا محمد صدیق‘ محمد صدیق سالک اور پھر ”صدیق سالک“ بن گیا-“ 

صدیق سالک کے صاحبزادے ”سرمد سالک“ نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے اس طرح نہ تو یہ ان کا اصل نام ہے اور نہ قلمی ‘ بلکہ ان کا خود ساختہ نام ہے-

خاندانی پس منظر:

صدیق سالک 6 ستمبر 1935ءکو ضلع گجرات کھاریاں کے ایک پسماندہ گاﺅں منگلیہ میں پیدا ہوئے- ان کے والد چودھری رحمت علی کاشت کار تھے ان کی معاشی حالت بہت کمزور تھی صدیق سالک اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں لکھتے ہیں:

”کہنے کو والد صاحب کے پاس تھوڑی سی زمین تھی اور وہ چودھری بھی کہلاتے تھے مگر یہ زمین بارانی تھی اگر بروقت بارش ہو گئی تو سبحان اللہ ورنہ نوبت فاقہ کشی تک بھی پہنچ جاتی تھی- ہمارا گھر انہ متوسط سے بھی کچھ نیچا ہی گھرانہ تھا لہٰذا بچپن ہی سے لاشعور میںاپنے علاقے اور اپنی غربت کے علاوہ تعلیمی پسماندگی کا شدید احساس رہا“ 

1938ءمیں جب صدیق سالک ابھی صرف ڈھائی سال کے تھے تو ان کے والد کا انتقال ہوا- والد کے انتقال کے بعد ان کی تکلیفوں ‘ دکھوںاور غربت میں اضافہ ہوگیا- سالک اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے ان سے بڑی 3 بہنیں تھیں- ان کی والدہ پر4بچوں کی پرورش کی ذمہ داری آن پڑی کاشت کاری پہلے ہی برائے نام تھی- ان کی والدہ نے محنت مزدوری کر کے بچوں کا پیٹ پالا-

ابتدائی تعلیم:

صدیق سالک کے گاﺅں میں تعلیم عام نہیں تھی-قریب ترین پرائمری سکول بھی ڈیڑھ دو میل کی مسافت پر تھا لیکن صدیق سالک کو بہت چھوٹی عمر سے پڑھنے کا شوق تھا۔ تعلیم کے آغاز کے بارے میں ان کا کہنا ہے:

”ایک مرتبہ شدید بارش ہوئی‘ طوفانی جھکڑبھی چلے اور میں اس بادوباراں میں گم ہو گیا ہمارے گھر کے علاوہ پاس پڑوس میں بھی شور مچ گیا کہ بچہ گم ہو گیا۔ خوب ڈھونڈ پڑی بالآخر ہم گاﺅں سے ڈیڑھ دو میل دور ایک پرائمری سکول میں پائے گئے۔ یہ محض اتفاق تھا لیکن بعد میں وتیرہ ہو گیا کہ جب موقع ملتا میں بھاگ کر سکول چلا جاتا مجھے پڑھتے ہوئے بچے اچھے لگتے تھے ۔جی چاہتا تھا کہ میں بھی ان کی طرح پڑھوں میرے شوق اور لگن کو دیکھ کر گھر والوں نے لکڑی کی تختی ‘ سرکنڈے کا قلم اور ایک کتاب دلا کر سکول بھیج دیا۔ بچے تو پڑھائی کے خوف سے سکول سے بھاگتے ہیں- میں پڑھنے کے شوق میں گھر سے بھاگا-“ 

چنانچہ سالک کو اسلامیہ پرائمری سکول ملکہ ضلع گجرات میں داخل کرایا گیا- یہاں سے انہوں نے 4 جماعتیں پاس کیں اور پھر ڈی- بی مڈل سکول ٹھوٹھ رائے بہادر سے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی- اس کے بعد ڈی بی ہائی سکول ککرالی ضلع گجرات(پاکستان) میں نویں جماعت میں داخلہ لیا لیکن مالی مجبوریوں کے باعث میٹرک کا امتحان پرائیویٹ دیا-

اعلیٰ تعلیم:

سالک نے1951ءمیں زمیندار کالج گجرات میںایف۔ اے میں داخلہ لیا اور1953ءمیں ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد 2سال ڈی ۔بی۔ ہائی سکول ککرالی میں بطور استاد عارضی ملازمت کی- 1955ءمیں اسلامیہ کالج لاہور میں بی۔ اے میں داخلہ لیا اور 1957ءمیں بی اے کا امتحان پاس کیا- بعدازاں یہیں سے1959ءمیں ایم۔اے انگریزی کا امتحان پاس کیا-1963ءمیں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے انٹرنیشنل افیرز میں ڈپلومہ حاصل کیا- ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -