مہسا امینی کی ہلاکت پر احتجاج، مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 41  ہوگئی

مہسا امینی کی ہلاکت پر احتجاج، مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 41 ...
مہسا امینی کی ہلاکت پر احتجاج، مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 41  ہوگئی

  

تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران میں حجاب کے معاملے پر پولیس کی حراست کے دوران نوجوان لڑکی مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے ملک گیر مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 41 ہو چکی ہے.

عرب نیوز کے مطابق پولیس کے ہاتھوں 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد سے ایران کے تقریباً تمام 31 صوبوں اور مختلف شہروں میں مظاہرے پھیل چکے ہیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق شمالی ایران کے ایک صوبے میں حکام نے 10 دنوں سے زائد احتجاج کے دوران 450 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

13 ستمبر کو، امینی کو تہران کے ایک میٹرو سٹیشن سے اخلاقی پولیس (گشت ارشاد)  نے مبینہ طور پر اسلامی جمہوریہ کے سخت لباس کے کوڈ کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیا تھا۔گرفتاری کے بعد اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا، وہ کوما میں چلی گئیں اور تین دن بعد انتقال کر گئیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔

ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں پہلے سے دل کی کوئی بیماری نہیں تھی۔مہسا کی ہلاکت کے بعد ایران میں غم و غصے کی لہر نے جنم لیا اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا.

مہسا کی ہلاکت کے بعد ایرانی خواتین نے شدید رد عمل دیا. خواتین اپنے حجاب اتار کر جلا رہی ہیں، اپنے بال کاٹ رہی ہیں اور سڑکوں پر رقص کر رہی ہیں. مظاہروں کے دوران پولیس مظاہرین پر آنسو گیس سے حملہ کر کے کریک ڈاؤن کر رہی ہے جب کہ پاسداران انقلاب  کے رضاکار ان کی پٹائی کر رہے ہیں۔مظاہروں کے درمیان  اب تک کم از کم 41 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -