ہر آدمی نوکری کھونے کے خوف سے سہما رہتا ، شائستگی یا ایمانداری کی رمق بھی  نہیں تھی

 ہر آدمی نوکری کھونے کے خوف سے سہما رہتا ، شائستگی یا ایمانداری کی رمق بھی ...
 ہر آدمی نوکری کھونے کے خوف سے سہما رہتا ، شائستگی یا ایمانداری کی رمق بھی  نہیں تھی

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:28

ایسے کئی لوگ تھے جو مالتھئیس کی کتاب کے حوالے دے کر کہتے تھے کہ ایسا کوئی فنڈ ضرور ہونا چاہیے جو قحط وغیرہ میں لوگوں کی مدد کر سکے۔ یورگس بھی سارا دن کام کرتے ہوئے اپنے بوڑھے باپ کے متعلق سوچ سوچ کر ہلکان ہوتا رہتا جو جگہ جگہ کام کی بھیک مانگتا پھرتا تھا تا کہ اپنی روٹی کما سکے۔ آنٹا ناس بچپن ہی سے کام کا عادی تھا۔ 12 سال کی عمر میں وہ گھر سے بھاگ گیا تھا کیوں کہ اس کے باپ نے اسے اس بات پر بہت ماراتھا کہ اس نے لکھنا پڑھنا سیکھنے کی کوشش کی تھی۔ وہ قابل ِ بھروسہ آدمی تھا۔ آپ اسے مہینے بھر کے لیے اکیلا چھوڑ دیں، وہ اکیلا رہ لے گا لیکن صرف اسے یہ سمجھا دیں کہ آپ اسے اکیلا رکھنا کیوں چاہتے ہیں۔ اور اب وہ ضعیف اور بوڑھا ہو چکا تھا اور دنیا میں ایک بیمار کتے سے زیادہ اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ فی الحال تو اسے نوکری نہ بھی ملتی تب بھی اس کا گھر تھا جہاں اس کی دیکھ بھال ہو سکتی تھی لیکن اگر ایسا نہ ہوتا تو ! آنٹا ناس اب تک پیکنگ ٹاؤن کی ہر عمارت اور ہر دفتر میں جا چکا تھا۔ وہ کتنی ہی صبحیں ملازمت کے خواہش مندوں کی بھیڑ میں کھڑا رہا تھا، حتیٰ کہ پولیس والے کو اس کی شکل یاد ہو گئی تھی اور اس نے اسے کوشش ترک کرنے اورگھر جانے کا مشورہ دیا تھا۔ وہ سارے علاقے میں ایک ایک دکان اور سیلون پر معمولی سے معمولی کام کی بھیک مانگتا پھرا تھا لیکن ہر جگہ اسے انکار ہی ملا تھا، کسی نے اس کی بات نہیں پوچھی بلکہ بعض جگہ تو اسے گالیاں بھی سنناپڑیں۔

یورگس کے یقین میں دراڑ آ چکی تھی، یہ دراڑ اس دوران زیادہ بڑی ہوگئی جب دادا آنٹاناس نوکری کی تلاش میں بھٹک رہاتھا اورجب اسے نوکری ملی تو یہ دراڑ اور بڑی ہو گئی۔ ایک شام دادا آنٹاناس جوش میں بھرا گھر آیا اور بتایا کہ ڈرہم کے پِکل رومز (pickle-rooms ) کا ایک آدمی اس کے پاس آیا تھا اور اس سے پوچھا تھا کہ وہ نوکری دلوانے کا اسے کیا دے گا ؟ پہلے تو اسے اس بات کی سمجھ ہی نہیں آئی لیکن اس آدمی نے بغیر جھجکے بتایا کہ وہ اسے نوکری دلوا سکتا ہے بشرطےکہ وہ اپنی اجرت کا ایک تہائی اسے دینے پر تیار ہو۔ آنٹاناس نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ کوئی باس ہے ؟ جس پر اس نے جواب دیا کہ یہ دادا آنٹاناس کا مسئلہ نہیں ہے، لیکن جو اس نے کہا ہے وہ کام وہ کر سکتا ہے۔

اب تک یورگس کے چند دوست بن چکے تھے۔ وہ ان کے پاس گیا اور اس بات کا مطلب پوچھا۔اس کا دوست ٹمو زئیس چھوٹے قد کا بڑا تیز آدمی تھا اور بوچڑ خانے میں کھالیں تہہ کرتا تھا۔ اس نے یورگس کی ساری بات بغیر کسی حیرانی کے سنی۔ ”ایسی استادیاں یہاں عام ہیں۔“ اس نے جواب دیا۔ یہ کسی باس کا خیال ہوگا جو اپنی آمدنی میں تھوڑا اضافہ کرنا چاہتا ہوگا۔ یورگس کو کچھ عرصے بعد خود بھی پتا چل جانا تھا کہ ایسے پھندے یہاں چلتے رہتے ہیں۔ باس دوسروں کو چالاکی دکھاتا، دوسرے ضرورت مندوں کو ہاتھ دکھاتے۔ کسی دن سپرنٹنڈنٹ کو اس کام کا پتا چل جاتا تو پھر وہ باس سے پیسے جھاڑ لیتا۔ٹموزئیس نے اسے تنبیہ کرتے ہوئے سمجھایا کہ مثال کے طور پر یہ ڈرہم ایک آدمی کی ملکیت ہے جو اس سے زیادہ سے زیادہ دولت کمانا چاہتا ہے۔ اسے اس بات کی ذرا بھر پروا نہیں کہ پیسے کس رستے سے آ رہے ہیں۔ اس کے ماتحت درجہ بدرجہ مینجروں، سپرنٹنڈنٹوں اور فورمینوں کی پوری فوج کام کرتی ہے۔ ہر شخص اپنے سے نیچے والے سے زیادہ سے زیادہ کام نچوڑنا چاہتا ہے۔ برابر کے ملازم ایک دوسرے پر نظر رکھتے ہیں اور ہر آدمی نوکری کھونے کے خوف سے سہما رہتا ہے۔ اوپر سے نیچے تک ہر آدمی حسد اور جلن سے سلگتا رہتا تھا۔ کوئی کسی کا دوست تھا نہ کسی سے کوئی مخلص تھا۔ ڈالر کے مقابلے میں کسی کی کوئی اوقات نہیں تھی۔ کہیں شائستگی یا ایمان داری کی رمق بھی موجود نہیں تھی۔ کو ئی اس کی وجہ بھی نہیں بتا سکتا تھا۔ ہو سکتا ہے اس کا سلسلہ بوڑھے ڈرہم سے شروع ہوا ہو اور وہ اسے لاکھوں ڈالر کے ورثے کے ساتھ اپنے بیٹے کے لیے چھوڑ گیا ہو۔

امکان تھا کہ اگر یورگس زیادہ عرصہ یہاں رہا تو یہ ساری باتیں خود سیکھ لے گا۔ یہاں سب ہی ایک سے بن جاتے تھے۔ یورگس کا خیال تھا کہ وہ یہاں اپنی محنت سے اپنا مقام بنا لے گا لیکن جلد ہی اسے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔ پیکنگ ٹاؤن میں کسی کو محنت سے مقام حا صل نہیں ہوتا تھا۔ یہ تو ایک لکھی پڑھی بات تھی کہ اگر آپ کو کو ئی آدمی پیکنگ ٹاؤن میں ترقی کرتا نظر آئے تو سمجھ لیں کہ وہ بہت مکّار ہے۔ جس آدمی نے یورگس کے باپ کو پھانسنے کی کوشش کی تھی، وہ ترقی کر سکتا تھا۔ جو ساتھی ملازموں کی مخبری کرتا تھا وہ ترقی کر سکتا تھا، لیکن جو آدمی اپنے کام سے کام رکھتا تھا اور محنت کرتا تھا۔۔۔ اس سے اور محنت لی جاتی تھی حتیٰ کہ اس کی ہمت اور طاقت جواب دے جاتی، پھر وہ اسے اٹھا کر باہر نالی میں پھینک دیتے۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -