سردار شیر سنگھ اٹاری والا کی وجہ سے انگریزوں کو پنجاب کے خلاف اعلان جنگ کرنے کا بہانہ مل گیا

سردار شیر سنگھ اٹاری والا کی وجہ سے انگریزوں کو پنجاب کے خلاف اعلان جنگ کرنے ...
سردار شیر سنگھ اٹاری والا کی وجہ سے انگریزوں کو پنجاب کے خلاف اعلان جنگ کرنے کا بہانہ مل گیا

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:56 

دوسری پنجابی جنگ 1848-49 :

پنجابیوں اور انگریزوں کے درمیان دوسری جنگ جسے دوسری سکھ جنگ بھی کہاجاتا ہے انگریزوں کے اشتعال دلانے پر اس وقت شروع ہوئی جب پنجاب ابھی اس کےلئے تیار نہیں تھا۔ معاہدہ بھیرووال کے مطابق انگریزوں نے پنجاب پر عملی طور پر قابض ہو جانے کے باوجود 1854ءمیں دلیپ سنگھ کو حکومت منتقل کرنا تھی اور انگریز ریذیڈنٹ کا اقتدار ختم ہونا تھا۔ انگریز اس سے قبل ایسے حالات پیدا کرنا چاہتے تھے جنہیں بہانہ بنا کر پنجاب پر مستقل قبضہ کیا جا سکے۔ یہ اس صورت میں ممکن تھا کہ پنجاب میں بدامنی پھیل جائے اور پنجاب دربار اس میں ملوث ہو جائے۔ انگریزوں نے اس مقصد کو حاصل کرنے کےلئے پنجاب کے عوام کے جذبات مجروح کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ رانی جنداں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔ وزیر لال سنگھ کے ساتھ جو بیتی وہ بھی بیان کیا جا چکا ہے۔ آخر میں شیر سنگھ کے ساتھ جو سلوک کیا گیا جو اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا ثابت ہوا اس کا ذکر آگے آئے گا۔ جب سردار شیر سنگھ اٹاری والا جو کونسل کا ممبر تھا انگریزوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا تو انگریزوں کو پنجاب کے خلاف اعلان جنگ کرنے کا بہانہ مل گیا۔ 

پنجاب میں انگریزوں کے خلاف دوسری جنگ 2 محاذوں پر لڑی گئی، مغرب کی طرف ملتان اور اس کے مضافاتی علاقوں میں اور شمال میں ہزارہ سے گجرات تک۔ 

ملتانی عوام کی انگریزوں کے خلاف جنگ 1848-49:

ملتان کے دولت گیٹ کے قریب ”عام خاص باغ“ کے نام کا ایک پرانا اجڑا ہوا باغیچہ آج بھی موجود ہے۔ اس کے اردگرد مارکیٹیں بن گئی ہیں۔ ایک حصے پر واسا والوں نے پانی کی بہت بڑی ٹینکی بنا دی ہے باقی حصے میں برسوں کی عدم توجہ کی بناءپر کوڑا کرکٹ اور گندگی کے ڈھیر نظر آتے ہیں لیکن باغ کے تختے اور ایک کونے میں موجود ٹوٹی پھوٹی بارہ دری سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں ایک خوبصورت باغ ہو گا۔ 

اس ”عام خاص باغ“ کا تعلق ملتان کے مقبول عام ناظم ساون مل کے ساتھ ہے جسے رنجیت سنگھ نے 1821 میں صوبے کا حاکم مقرر کیا تھا۔ بعض مو¿رخوں کا کہنا ہے کہ یہ باغ ساون مل نے بنایا تھا، اور کچھ کا خیال ہے کہ باغ پہلے سے موجود تھا ساون مل نے اس کی مرمت کروا کے اس کے چاروں طرف خوبصورت مکانات تعمیر کروائے تھے۔ حقیقت کچھ بھی ہو دیوان کی لوگوں میں مقبولیت اور عوام سے وابستگی اور لگاﺅ کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ باغ امراءکی بجائے عوام کی تفریح کے لیے بنایا گیا تھا۔ دیوان ساون مل 1844 میں اپنے ایک منظور نظر سپاہی صاحبداد خان کے ہاتھوں بدکلامی کی بنا ءپر مارا گیا۔ وہ دانا اور انصاف پسند حاکم تھا اور ملتان کے عوام اس کے دور حکومت میں امن اور خوشحالی کی زندگی گزار رہے تھے۔ 

ساون مل کے بعد اس کا بیٹا مولراج دیوان مقرر ہوا۔ مولراج نے بھی باپ کی طرح عوام کے ساتھ قریبی تعلقات قائم رکھے۔ 1821 سے 1848 تک 27 برس دونوں باپ بیٹا خوش اسلوبی سے حکومت کرتے رہے۔ اس 27 سالہ دور میں انہیں طویل مدت کے بعد امن و امان میسر ہوا۔ اس پورے عرصے میں ملتان اور اس کے گردونواح کا علاقہ عملاً خود مختار تھا، سوائے خراج ادا کرنے کے ان کا پنجاب حکومت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ باپ کے مرنے کے بعد مولراج کی دیوانی کا پروانا سابقہ شرائط کی بنیاد پر عطا کیا گیا تھا۔ معاہدہ بھیرو وال کے2سال بعد پنجاب دربار نے 30 لاکھ روپے کا نذرانہ طلب کیا تھا۔ دیوان کا مطالبہ تھا کہ خراج کی رقم کم کی جائے اور ریزیڈنٹ ملتان کے داخلی معاملات میں مداخلت بند کرے۔ انگریز ریذیڈنٹ سر ہنری لارنس نے جب یہ ماننے سے انکار کر دیا تو مولراج نے غصے میں دیوانی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -