ایک طبیب کےلئے ضروری ہے کہ جغرافیائی حوالے سے بھی مکمل معلومات حاصل کرے

ایک طبیب کےلئے ضروری ہے کہ جغرافیائی حوالے سے بھی مکمل معلومات حاصل کرے
ایک طبیب کےلئے ضروری ہے کہ جغرافیائی حوالے سے بھی مکمل معلومات حاصل کرے

  

تحریر: ملک اشفاق

 قسط:26

 4 -برف کے پانی

برف کے پانی صحت کےلئے مضر ہوتے ہیں کیونکہ جب پانی جم کر برف بن جاتا ہے اور دوبارہ پگھل کر پانی بنتا ہے تو پانی اپنی پہلی حالت میں نہیں ہوتا۔ کیونکہ ہلکا صاف اور مادوں سے پاک پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے جبکہ گدلا اور کثیف پانی اپنی حالت میں قائم رہتا ہے۔ یہی کثیف پانی جم کر برف بنتا ہے اور دوبارہ پگھلنے پر پانی بنتا ہے۔(یہ صرف بقراط کا ذاتی خیال ہے)

 بقراط کا کہنا ہے کہ برف کے پانی مہلک ترین پانی ہوتے ہیں(جبکہ ایسا نہیں ہے بلکہ تمام پانیوں کا منبع برف ہی ہے) ڈاکٹر فلپ:New Saeme ۔بقراط کہتا ہے کہ جو لوگ برف کے پانی کو پیتے ہیں تو انہیں پیشاب کی رکاوٹ ہو جاتی ہے اور مثانے میں پتھری بنتی ہے۔ بوڑھوں کو کمر درد اور پنڈلیوں میں درد ہوتا ہے۔

 گرم مقامات پر برف پگھلے پانی کو پینے سے کئی قسم کی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔

 ایسا پانی استعمال کرنے والی عورتوں کے مثانے میں پتھری پیدا ہوتی ہے اور جوڑوں کا درد ہوتا ہے۔

مقامات(Places)

بقراط نے طب کے حوالے سے شاندار کام کیا ہے اور اس کی طبی اصطلاحات آج بھی استعمال ہو رہی ہیں۔ اُس نے ایک طبیب کےلئے ضروری قرار دیا کہ وہ جغرافیائی حوالے سے بھی مکمل معلومات حاصل کرے تاکہ جغرافیائی اثرات کو سمجھ کر بیماریوں کا علاج کیا جائے۔ اس طرح بقراط نے اپنی معلومات یا اس کے دور میں جو معلومات دستیاب تھیں ان سے استفادہ کرتے ہوئے کرہ ارض پر مختلف جغرافیائی خطوں میں ہونے والے غیر معمولی موسمی تغیرات کے بارے میں اپنا ذاتی نقطہ نظر بیان کیا ہے۔ ہم اس کو بقراط کی جغرافیائی جیورس پروڈنس (Geo Jurisprodence) کہہ سکتے ہیں۔ مقامات (Places) کے بارے میں اس نے دنیا کو 4 خطوں میں تقسیم کیا ہے(جوکہ جدید دور میں غلط ثابت ہوا ہے)

-1 شرق اوسط کے شہر

 ہر وہ شہر جو شرق اوسط میں ہے۔ ان شہروں کی ہوا گرم ہے کیونکہ ان پر سورج عین وسط میں چمکتا ہے اس لیے ان شہروں کے پانی بھی بہت گرم ہوتے ہیں۔ لیکن سردیوں کے موسم میں ان شہروں کے پانی ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ ایسے شہروں میں رہنے والوں کے مزاج بلغمی ہوتے ہیں اور پانی کی شدت کی وجہ سے اکثر لوگوں کے پیٹ خراب ہو جاتے ہیں۔ ان شہروں کے لوگوں کی بیویاں اکثر بیمار رہتی ہیں۔ اگر ایسی عورتیں حاملہ ہو جائیں تو اکثر اسقاط کر جاتی ہیں۔ بچوں میں سانس کی بیماریاں عام ہوتی ہیں اس کے علاوہ سردی کا بخار اور رات کا بخار عموماً رہتا ہے۔ اس وجہ سے ان شہروں میں آشوب چشم کی بیماری بھی ہوتی ہے۔ ان شہروں کے ادھیڑ عمر لوگوں کو عموماً دماغ کے نزلہ کی بیماری بھی لاحق ہو جاتی ہے۔

 -2 شمال کی جانب شہر

 وہ تمام شہر جو شمال کی سمت میں ہیں یا ہوں گے، ایسے شہر ہمیشہ سرد ہواﺅں کا سامنا کریں گے اور یہ سرد مرطوب ہوائیں ان شہروں کے باسیوں پر اثر انداز ہوں گی۔ اس سمت کے شہر چونکہ گرم ہواﺅں سے دور ہوتے ہیں اس لیے ان شہروں میں سردی کا موسم طویل ہوتا ہے اور شہر کے نزدیکی تمام پانی خنک، سست اور شیریں ہوتے ہیں۔ ایسے شہروں کے لوگ طاقتور، جفاکش اور محنتی ہوتے ہیں۔ ان کے پیٹ عموماً سخت ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کا کھانا بہت ہی مقوی ہوتا ہے اس لیے کافی سخت جان ہونے کی وجہ سے شدید بیماریوں سے اکثر لوگ محفوظ رہتے ہیں۔ ان لوگوں کو آنکھوں کی بیماریاں بھی بہت کم ہوتی ہیں۔ ان شہروں کے لوگوں کی عمریں لمبی ہوتی ہیں لیکن وبائی بیماریاں ان لوگوں کو بہت جلد لگ جاتی ہیں۔

 ان شہروں کی عورتیں بھی مردوں کی طرح سخت جان ہونے کی وجہ سے اکثر شدید بیماریوں سے محفوظ رہتی ہیں۔ لیکن ان عورتوں میں بانجھ پن زیادہ ہوتا ہے۔ ان عورتوں کو مخصوص ایام میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان عورتوں کے بچوں کی تعداد بہت کم رہتی ہے اورحاملہ عورتوں کو بچہ پیدا کرنے میں بہت مشکل پیش آتی ہے۔ ان شہروں کے لوگوں کے بچوں کو سانس کی بیماریاں اکثر ہوتی رہتی ہیں۔ بالغ ہونے پر ان کو یہ بیماری لاحق نہیں ہوتی۔ ان شہروں کے نوجوان دھیمے مزاج کے ہوتے ہیں۔( جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -