حادثاتی موت کے علاوہ قسمت نے ہمیشہ یاوری کی

حادثاتی موت کے علاوہ قسمت نے ہمیشہ یاوری کی
حادثاتی موت کے علاوہ قسمت نے ہمیشہ یاوری کی

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:2 

عملی زندگی کا آغاز:

ایم اے کرنے کے بعد نتیجہ بھی نہیں نکلا تھا کہ اسلامیہ کالج لائل پور(موجودہ فیصل آباد) سے انھیں ملازمت کی پیش کش ہوئی جو انہوں نے قبول کر لی۔ یہاں ملازمت کے ساتھ انہوں نے پبلک سروس کمیشن میں درخواست بھی دی جس کے نتیجے میں 1961ءمیں لیکچرار گورنمنٹ کالج مانسہرہ تعینات ہوئے۔2سال بعد فیڈرل پبلک سروس کمیشن میں ایک ہفت روزہ ”پاک جمہوریت“ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے لیے درخواست دی جس میں کامیابی کے بعد اس پرچے کے انگریزی حصے کے نائب مدیر مقرر ہوئے، ملازمت کا یہ حصہ بہت مختصر تھا۔ ایک سال بعد یہ پرچہ بند ہو گیا اور بے روز گار عملے کو مختلف محکموں میں تعینات کیا گیا۔ صدیق سالک وزارتِ اطلاعات و نشریات میں پی آراو مقرر ہوئے اسی ملازمت کے دوران فوج کی مشتہر اسامی کے لیے انٹرویو دیا اور کامیاب ہوئے یوں 6 ستمبر1964ءکو بطور کپتان مسلح افواج کے ادارے انٹر سروسز پبلک ریلشنز سے فوجی ملازمت کا آغاز کیا اور فرنٹیرفورس رجمنٹ سے منسلک ہوئے پھر فوجی تربیت کے لیے ایف ایف رجمنیٹل سینٹر ایبٹ آباد گئے تربیت کے بعد باقاعدہ تعیناتی آئی ایس پی آر کے دفتر واقع راولپنڈی میں بطور پبلک ریلشنز آفیسر ہوئی- جنوری1970ءمیں میجر کے عہدے پر ترقی ملی اور ڈھاکہ میں تعینات ہوئے16 ستمبر1971ءکو سقوطِ ڈھاکہ کے بعد جنگی قیدی بنے 2 سالہ قید کے بعد رہائی پا کر30ستمبر1973ءکو وطن واپس آئے۔

جنوری 1977ءکو لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی ملی1977ءمیں ہی فل کرنل کے عہدے پر فائز ہوئے، 30جون 1985ءتک سی ایم ایل اے سیکرٹریٹ (چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر) میں صدرپاکستان جنرل محمد ضیاءالحق کے پریس سیکریٹری اور تقریر نویس کی حیثیت سے متعین رہے۔یکم جولائی 1985ءکو بطور بریگیڈئیر آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر کی ذمہ داری سنبھالی اور وفات تک اسی عہدے پر فائز رہے17اگست 1988ءکو سانحہ بہاولپورکے فضائی حادثے میں وفات پائی ۔ انااللہ وانّا اللہ راجعون

خانگی زندگی:

صدیق سالک کی شادی ماموں زادزرینہ سے 16اکتوبر1963ءکو ہوئی صدیق سالک کو خدانے3 بیٹیاں اور1 بیٹا عطا کیا- ان کے سب بچے شادی شدہ ہیں۔سب سے بڑی بیٹی صحیفہ سالک نے ایم اے انگریزی کیا ہے اور وہ سکول میں پڑھاتی ہیں صدیق سالک کے اکلوتے بیٹے سرمد سالک نے ایم اے پولٹیکل سائنس کیا ہے اپنے والد کی طرح وہ بھی صحافت سے وابستہ ہیں- انہوں نے مختلف اخبارات میں کام کیا۔ان سے چھوٹی صائمہ سالک نے بھی ایم اے انگریزی کیا ہے۔ صدیق سالک کی سب سے چھوٹی صاحبزادی آئینہ سالک نے نفسیات میں ایم فل کیاہے۔

غربت سے امارت کا سفر

صدیق سالک کی زندگی کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ عمر کے ابتدائی حصے میں انھیں مشکلات اور محرومیاں ملیں وہ صرف اڑھائی برس کی عمر میںیتیم ہو گئے- باپ کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے علاوہ بھی ان کی زندگی میں کئی مسائل تھے جن میں غربت سب سے اہم تھی۔ ان کی والدہ پر صدیق سالک اور ان سے بڑی3 بہنوں کی ذمے داری تھی‘ لیکن نامساعد حالات کے باوجود سالک نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور ایم اے تک تعلیم حاصل کی اس کے بعد انھیں بتدریج مالی آسودگی نصیب ہوئی۔ ایک نوکری چھوڑنے کے بعد انھیں دوسری نوکری تلاش کرنے میں مشکل پیش نہیں آئی فوج کی نوکری کے لیے ساڑھے تین سو امیدواروں میں پہلے نمبر پر کامیابی حاصل کی۔

فوج میں ابتداءہی سے اہم شخصیات سے تعلق رہا حتیٰ کہ5جولائی 1977ءکو چیف آف آرمی سٹاف نے اپنی مرضی سے انھیں اپنا پریس سیکرٹری اور تقریر نویس مقرر کیا۔ خدا نے عزت ‘ دولت‘ شہرت ‘ اختیار کیا کچھ عطا نہیں کیا، ملک کے سربراہ مملکت ان کی قدر کرتے تھے اور انھیں اپنے ساتھ رکھنا چاہتے تھے یہ اور با ت کہ بڑے لوگوں کا یہ قرب ہی ان کی موت کا سبب بنا۔ ان کی حادثاتی موت کے علاوہ ان کی قسمت نے ہمیشہ یاوری کی۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -