نجم سیٹھی صاحب، عوام کی امیدوں کو پورا کریں

نجم سیٹھی صاحب، عوام کی امیدوں کو پورا کریں
 نجم سیٹھی صاحب، عوام کی امیدوں کو پورا کریں

  

 آج جس اہم مسئلے کی جانب نگران وزیراعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی صاحب کی توجہ دلانا چاہتا ہوں، وہ پنجاب میں ہو نے والی تباہ کن لوڈشیڈنگ ہے، جس نے ایک عام آدمی، چاہے وہ تاجر ہویا سٹوڈنٹ، مزدور ہو یا کارخانے دار، ہرایک کا جینا حرام کردیا ہے۔ غضب خدا کا ملک کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب بیس بائیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا شکار ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی جو ایک باصلاحیت اور نہایت دانشور صحافی کے طور پر جانے جاتے ہیں اور جن کی صلاحیتوں کا ایک زمانہ معترف ہے ،اس نازک صورت حال پر قابو پانے میں ناکام ہیں اور لوڈشیڈنگ کا دورانیہ نگران حکومت کے آتے ہی کئی گنا بڑھ گیا ہے، جس پر عوام سخت غصے اور مایوسی کا شکارہیں نجم سیٹھی کو اس بارے میں فوراََ سخت ترین اقدامات کرنے چاہئیں اوراس کے لئے ایک بہترین راستہ ان مگرمچھوں سے بجلی کے بقایا جات کی وصولی ہے، جس سے یقیناََ وہ پاورپلانٹ پھر سے چل سکتے ہیں،جو عدم ادائیگیوں کے باعث بند پڑے ہیں۔

 گزشتہ روز چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عمرعطابندیال کے ریمارکس بہت قابل غور ہیں، جنہوں نے کہا کہ سپلائی کمپنیاں خود بجلی چور ہیں، روزانہ 8گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہئے، ورنہ عدالت سخت ایکشن لے گی۔ اس کیس کی سماعت کے دوران واپڈا کے وکیل نے یہ تسلیم کیا کہ لیسکو کی،ڈیمانڈ 2200میگاواٹ ہے، لیکن وفاق اسے 1600میگاواٹ بجلی فراہم کررہا ہے ،اگر اس کو درست تسلیم کرلیا جائے تو لیسکو ایریا میں 4گھنٹے سے زیادہ لوڈ شیڈنگ نہیں ہونی چاہئے یہی وہ نکتہ ہے، جس سے پاور کمپنیوں کے خود بجلی چوری میں ملوث ہونے کے فاضل عدالت کے ریمارکس درست ثابت ہوتے ہیں ۔عدالت نے وفاق کے وکیل خواجہ طارق سے یہ بھی سوال کیا کہ کراچی سپلائی کمپنی کو فراہم کردہ لیسکو کی 350میگاواٹ بجلی واپس کیوں نہیں کی جارہی؟ بہرحال یہ وہ صورت حال اور حقائق ہیں جو نجم سیٹھی کی فوری توجہ چاہتے ہیں اور عوام کویقین ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں سے اس نازک مسئلے کو سلجھانے میں ضرور کامیاب ہوجائیں گے۔

 دوسری جانب خسرے کی وبا نے اب تک 62بچوں کی قیمتی زندگیاں چھین لی ہیں، جس کی بڑی وجہ فارما سیوٹیکل کمپنیوں کی جانب سے میڈیکل سٹورمالکان کو خسرہ سے بچاو¿ کی ویکسین فراہم نہ کرنا ہے ۔ عوام کو صحت کی بہتر سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے نجم سیٹھی کو فوراََ اس جانب توجہ دیتے ہوئے ہنگامی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ مزید بچے اس غفلت کی وجہ سے اپنی زندگیاں نہ گنوائیں ۔آخر میں ایک بار پھر وہی گزارش کہ عوام ووٹ کا ستعمال ضرور کریں اور یہ استعمال خوب سوچ سمجھ کر ایسے امیدواروں کو دیں جو اپنا ہی پیٹ بھرنے کی بجائے عوام کے پیٹ کا بھی خیال کریں، جو صرف اپنا بنک بیلنس بڑھانے کی فکر میں نہ رہیں، بلکہ انہیں قومی خزانے کا بھی کچھ خیال ہو، جو باقاعدگی سے ٹیکس اور دوسرے واجبات اداکرتے ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اس بار عوام ضرور اپنی ذمہ داری پوری کریں گے کیونکہ گزشتہ دنوںجب پاکستان آمد ہوئی تو ہرطرف الیکشن کی گہماگہمی نظرآئی، ہر چہرے پر ایک خاص قسم کا جوش نظرآیا جواس بات کا پتہ دے رہا تھا کہ اس بار عوام بڑے بڑے برجوں کو الٹنے کے لئے بیتاب ہیں اور اس بار الیکشن میں جونتائج سامنے آئیں گے، وہ اُن سیاسی ماہرین کے اندازوں کو غلط ثابت کردیں گے، جو ہرشام کو ٹیلی ویژن پر ڈیرہ لگا کر مختلف پارٹیوں کو مختلف سروے رپورٹوں کے حوالے دے کر سیٹیں بانٹ رہے ہوتے ہیں۔

 مجھے پاکستان آئے ہوئے اگرچہ ایک ہفتہ ہوا ہے، لیکن اس دوران مجھے جن دوستوں سے ملنے اور میٹنگوں میںشرکت کا موقع ملا، اس سے کم از کم میں یہ بآسانی کہہ سکتا ہوں کہ عوام اب جاگ چکے ہےں اور اس بار کوئی سیاسی جماعت تبدیلی لائے ،یا نہ لائے، عوام ضرور پرانے اورآزمائے ہوئے چہروںکو سیاست سے نکال کر نئے چہروں کو سامنے لائیں گے اور یہی بات عوام کے مفاد میں بھی ہوگی کیونکہ ملک کے ساتھ اب تک جو کچھ ہوچکا ہے، اس سے زیادہ کا اب متحمل نہیں ہوسکتا،اسی لئے ہی ان انتخابات کو مَیں ملک کی بہتری کا آخری موقع بھی کہتا رہا ہوںکہ اس باراگرعوام نے مثبت سوچ کا مظاہرہ نہ کیا تو اس کی نسلیں اس کا نتیجہ بھگتیں گی ۔اس کے ساتھ ساتھ نگران حکومتوں اور الیکشن کمیشن کی بھی بھرپور ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابات کو منصفانہ، شفاف اور پُرامن بنانے کے لئے دن رات ایک کردیں اگر تمام صوبائی حکومتیں اور الیکشن کمیشن ان انتخابات کے غیرجانبدارانہ اور پُرامن طورپرانعقاد میں کامیاب ہوگیا تو یہ کارنامہ بلاشبہ ملک کی تقدیربدل سکتا ہے ۔

مزید :

کالم -