ہیر وارث شاہ کا ایک نیا اُردو روپ

ہیر وارث شاہ کا ایک نیا اُردو روپ
ہیر وارث شاہ کا ایک نیا اُردو روپ

  

پنجاب کے پرانے جاگیرداری نظام میں عوام کا مقتدر طبقات کے مقابلے میں اپنا ایک تہذیبی رکھ رکھاﺅ تھا۔ لوگ چھوٹے چھوٹے پیشوں سے وابستہ تھے۔ تقریباً سبھی پیشے زمین کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ معاشی گزران کا ایک بڑا ذریعہ کھیتی باڑی تھا۔ کھیت کی پیداوار سے مزارع، موچی، حجام، بڑھئی، مولوی وغیرہ اپنی اپنی خدمات کے صلے میں اپنا حصہ وصول کر لیتے تھے۔ ان سب کو ”کمی“ کہا جاتا تھا، یعنی ہاتھوں سے کام (مینوال ورک) کرنے والے۔ یہ طبقات جدید فلسفے کی زبان میں مغائرت یا غیریت (Allienation) کی زندگی بسر کرتے تھے۔ جاگیردار، قاضی اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ افسران بادشاہ کے نمائندے سمجھے جاتے تھے۔ وہ قانون لاگو کرنے والے اور بادشاہت کا دبدبہ اور جلال قائم رکھنے والے ہوتے تھے، چنانچہ وہ عوام سے ذرا فاصلہ رکھتے تھے، جہاں تہاں کوئی شخص مروجہ رسوم و رواجات سے بغاوت کرنے کی کوشش کرتا، وہ اسے راہ راست پر لانے کے لئے ہر حربہ استعمال کرتے تھے۔

محنت کش عوام اپنے دُکھ، سکھ باہم شیئر کرتے تھے۔ ایک دوسرے کی خوشیوں، غموں میں شریک ہوتے تھے۔ ان کی تفریح کا ایک بڑا ذریعہ صوفیاءاور سادھو سنتوں کا کلام تھا، جسے خوش آواز لوگ سناتے تو سننے والوں پر رقت طاری ہو جاتی۔ دُکھی دلوں کو دُ نیا کی بے ثباتی کا مضمون بہت دل لگتا یا پھر ہیر رانجھا، سسی پنوں، مرزا صاحباں اور سوہنی مہینوال کی داستانیں سامعین کے دلوں میں ولولوں کی ایک نئی دنیا بیدار کرتیں۔ بقول شریف کنجاہی، ہر کسی کو یوں لگتا جیسے وہ خود رانجھا ہے، جس کی ہیر چھن گئی ہے۔ دولت، جائیداد والے جیت گئے اور ہاتھوں پر ہاتھ مار کر ہیر کو لے گئے۔ رانجھے غریب کی کوئی پیش نہ گئی۔ وہ زخمی سانپ کی طرح وِس گھولتا رہ گیا۔ ہیر کا قصہ پہلی بار اکبری عہد کے دمودر داس دمودر نے لکھا، پھر عہد عالمگیری میں احمد گجر نے اس میں مزید دلچسپی پیدا کی، اس کے بعد شاہ جہان مقبل نے اس قصے کو زبان و بیان کا نیا انداز دے کر دلوں میں اتار دیا۔ وارث شاہ چوتھا بڑا شاعر ہے جس نے ہیر کے قصے کو بیان کی ایسی رنگینی عطا کی کہ وہ مجلسوں اور چوپالوں کی رونق بن گیا۔ قصے میں مجازی عشق کی مختلف منازل بیان ہوئی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ انسان اور کائنات کے اسرار بھی منکشف ہوتے چلے گئے ہیں۔

 عہد حاضر میں جبکہ مادہ پرستی اپنی انتہاﺅں کو چھو رہی ہے۔ کوٹھیاں، کاریں اور سٹیٹس ہی زندگی کی ساری بھاگ دوڑ کا مقصود بن کر رہ گئے ہیں۔ پرانے کمیوں کی طرح آج کا محنت کش بھی مغائرت کے احساس تلے پس رہا ہے۔ ریاستی ادارے زندگی کو بے وسیلہ اور کمزور لوگوں کے لئے آسان بنانے کی بجائے عذاب بنا رہے ہیں۔ ان حالات میں ان کا داخلیت پسند ہو جانا بعید نہیں۔ وہ صوفیوں کی درگاہوں پر حاضر ہوتے اور وہاں زندگی کے سارے آزار بیان کر کے دل ہلکا کر لیتے ہیں۔ بڑھتے ہوئے صوفیانہ رجحانات کے پیش نظر کچھ اہل علم پنجابی داستانوں کو اُردو کا لباس پہنا رہے ہیں۔ دراصل ہیر وارث شاہ کی زبان آج کے پنجابیوں کے لئے بڑی حد تک نامانوس ہو چکی ہے۔ گویا پنجابی اپنے ہی گھر میں پچھڑ کر رہ گئی ہے۔ ریاستی مفادات کا محافظ دانشور طبقہ اسے محض بول چال کی زبان قرار دیتا ہے اور یہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں کہ اس زبان میں بھی حیات و کائنات کے مسائل سموئے جا سکتے ہیں۔ اس کی رائے کے پیچھے یہ بات نہیں کہ اس طبقے نے ہیر وارث شاہ یا حافظ برخوردار کا قصہ مرزا صاحباں پڑھ کر یہ نتیجہ اُخذ کیا ہے، بلکہ پنجابی کے بارے میںبالائی طبقات کے پروپیگنڈے نے اسے بھی ایسی رائے اختیار کرنے کی راہ دکھائی ہے۔

پنجابی کلاسیکی فن پاروں سے بڑھتی ہوئی عوام کی دلچسپی نے ترجمے کی روایت کو مستحکم کیا ہے۔ ہیر وارث شاہ کو اب تک شریف کنجاہی، حمید اللہ ہاشمی، شاہد حسین زیدی اور ایم اسلم مرحوم نے اُردو نثر کی صورت دی ہے۔ حال ہی میں ایسی ہی ایک اچھی کوشش تنویر بخاری کی سامنے آئی ہے، جسے نیشنل بُک کونسل آف پاکستان نے زیور طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ پیشکش بلاشبہ بڑی دلکش ہے۔ لگ بھگ سات سو صفحات ہیں اور آرٹ پیپر پر طباعت کا عمل مکمل ہوا ہے۔ ہر صفحے کی تزئین و آرائش بے اختیار قاری سے داد وصول کرتی ہے۔ خوشی تو ہوتی ہے کہ پنجابی کے عظیم شاہکار کو اتنی خوبصورتی کے ساتھ چھاپا گیا ہے، لیکن افسوس اس پہلو سے ہوتا ہے کہ 1800روپے قیمت ہونے کی وجہ سے یہ فن پارہ عوام کی دسترس سے دُور ہو جائے گا، یہ صرف اس طبقے کے ڈرائنگ روموں کی زینت بنے گا جو غریب کو غریب تر کرتا چلا جا رہا ہے اور جسے ” ہیر“ کی آہوں اور کراہوں سے کوئی غرض نہیں۔ اس کے نزدیک رانجھے کو اسی انجام کو پہنچنا چاہئے تھا، کیونکہ اس نے کلاس تبدیل کرنے کی جرا¿ت دکھائی تھی۔ خاندانی بندے کو تو کمیوں سے دُور ہی رہنا چاہئے۔

پنجابی قصہ ادب سے دلچسپی رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ ہیر وارث شاہ میں وقت کے ساتھ ساتھ بے شمار الحاقی اشعار شامل ہو گئے ہیں۔ سو فیصد اصل ہیر وارث شاہ کا وجود اب کہیں نہیں ملتا۔ شیخ عبدالعزیز اور شریف صابر، دو ایسے اصحاب ہیں، جنہوں نے ہیر وارث شاہ کو الحاقی شعروں سے پاک کرنے کے لئے غیر معمولی محنت کی۔ تنویر بخاری نے ترجمہ کے لئے پہلے سے مرتب قصے پر انحصار کرنے کی بجائے خود ہیر وارث شاہ کا متن ترتیب دیا ہے۔ ساتھ مشکل الفاظ کے معنی بھی دیئے ہیں۔ اس طرح سے ہیر وارث شاہ کی تفہیم آسان کرنے کی کوشش کی ہے۔

جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے کہ اب تک ہیر وارث کے کئی ترجمے ہوئے ہیں، لیکن سچی بات ہے تنویر بخاری کا ترجمہ نسبتاً بہتر ہے اور کئی جگہ تو بہترین ہے۔ انہوں نے پنجابی متن کے قریب رہنے کی کوشش کی ہے، اس طرح سے ہم پنجابی الفاظ، محاوروں اور اکھانوں کا لطف اُٹھا سکتے ہیں۔ تنویر بخاری سے ہماری غائبانہ نیاز مندی مدت سے ہے، البتہ کبھی ملاقات کی صورت نہیں بنی۔ وہ پنجابی کے بہت اچھے شاعر ہیں۔ انہوں نے اب تک ر یسرچ ورک بھی بہت کیا ہے۔ وہ ابھی تک شیخوپورہ کے گاﺅں کڑیال کلاں میں مقیم ہیں۔ ان کی کہولت اب بڑھاپے میں بدل رہی ہے، لیکن ذوق شعرگوئی آج بھی شباب پر ہے۔ ان کی تیار کی ہوئی ہیر کی فرہنگ اس لئے بھی بہتر قرار دی جا سکتی ہے، کیونکہ وہ ابھی تک دیہاتی ماحول کی رونقوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ہم انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے ہیر وارث شاہ کو ترجمہ کر کے پنجابیوں کے ذوق کی سیرابی کی ہے اور خوب کی ہے۔

اب آپ ہیر وارث شاہ کا وہ بند بخاری صاحب کے ترجمے کے ساتھ پڑھیے جس میں رانجھے کے جذبات کی مرقع نگاری کی گئی ہے۔ کھیڑے ہیر کو ڈولی میں بٹھا کر رنگپور کا رُخ کر رہے ہیں اور رانجھا سماج کی بے انصافیوں پر ماتم کناں ہے:

ساک ماڑیاں دے کھوہ لین ڈاہڈے ان پجدے اوہ نہ بولدے نیں....چلدا وس لا چار ہو کے موئے سپ وانگوں وِس گھو لدے نیں.... کدی آکھدے ماریے آپ مریے پئے اندروں باہروں ڈولدے نیں .... گُن ماڑیاں دے سبھے رہن وچے ماڑے ماڑیاں تے دُکھ پھولدے نیں.... شاندار نوں کرے نہ کوئی جُھوٹھا کنگال جھوٹھا کر ٹور دے نیں.... وارث شاہ لٹائندے کھلے ماڑے مارے خوف دے مونہوں نہ بولدے نیں۔

ترجمہ: طاقتور لوگ کمزوروں کے ناطے چھین لیتے ہیں۔ عدم استطاعت کے باعث وہ بے چارے خاموش رہتے ہیں۔ ان کا کوئی بس نہیں چلتا، لاچار ہو کر مرے ہوئے سانپ کی طرح بِس گھولتے رہتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ ظلم کرنے والوں کو مار ڈالیں یا خود مر جائیں۔ وہ ظاہراً و باطناً خوفزدہ رہتے ہیں۔ کمزوروں کی خوبیاں دبی کی دبی رہ جاتی ہیں۔ کمزور کمزوروں ہی کے سامنے اپنے دُکھ کا اظہار کرتے ہیں۔ شان و شوکت والوں کو کوئی جھوٹا نہیں کہتا، جبکہ غریب کو سب جھوٹا قرار دیتے ہیں۔ وارث شاہ! کمزور لوٹ لئے جاتے ہیں، تب بھی وہ خوف کے مارے کوئی حرف زبان پر نہیں لاتے.... (ص209:)

ایک اطلاع کے مطابق امسال شعبہ پنجابی، پنجاب یونیورسٹی نے ہیر وارث شاہ کی لغت ترتیب دینے کا کام ایم اے کے طالب علموں میں بانٹ دیا ہے۔ معلوم نہیں اس کام کا کیا معیار ہو گا، کیونکہ اب تک کئی اصحاب ہیر وارث شاہ کی فرہنگیں تیار کر چکے ہیں۔ طلبہ تو سوائے ان فرہنگوں کو نقل کر دینے کے اور کچھ نہیں کریں گے۔ فرہنگ نویسی سے زیادہ وارث شاہ کے فن اور فکر پر کام کرنے کی ضرورت ہے، جس کے لئے مذکورہ شعبے میں نہ کسی کے پاس اہلیت ہے نہ ذوق!

مزید :

کالم -