لوڈشیڈنگ میں کمی کے لئے اقدامات؟

لوڈشیڈنگ میں کمی کے لئے اقدامات؟

  

پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی کی کوششوں سے وفاق نے پنتالیس ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دی ہے، جس کی وجہ سے آئی پی پیز بجلی کی پیداوار میں اضافہ کریں گے اور نتیجے کے طور پر حاصل شدہ بجلی سے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کرنے میں مدد ملے گی، توقع ظاہر کی گئی ہے کہ اپریل کے اس آخری ہفتے میں لوڈشیڈنگ میں تین گھنٹے کا ریلیف ملے گا جبکہ مئی میں زیادہ ریلیف ملنے کی امید ہے۔ دوسری جانب وزارت پانی وبجلی نے بحران پر قابو پانے کے لئے 150ارب روپے مانگ لئے ہیں۔

اگرچہ ایسے اقدامات سے لوڈشیڈنگ میں وقتی طور پر بہتری آنے کی اُمید ہے لیکن ہمارے ماہرین کو یہ احساس کرنا چاہئے کہ یہ مسئلے کامستقل حل نہیں، محض عبوری انتظام ہے۔ بجلی کے سلسلے میں ہماری بنیادی ضرورتیں دو ہیں ایک تو یہ کہ ہم اپنی ضروریات کے مطابق بجلی پیدا کریں جس میں ہر سال اضافہ ہوتا جارہا ہے، دوسری جانب یہ کہ بجلی کی پیداواری لاگت بھی کم کریں، سستی بجلی صرف پانی سے حاصل ہوسکتی ہے جس سے ہم نے مجرمانہ اغماض برتا ہے۔ اس وقت بجلی کی قیمت عام آدمی کے لئے قطعی ناقابل برداشت ہوچکی ہے اور مہنگے ایندھن کی وجہ سے قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ہورہا ہے، اس لئے ہماری ترجیح پانی سے سستی بجلی بنانا ہونی چاہئے، مہنگے درآمدی ایندھن سے بننے والی بجلی کی قیمت بڑھتے بڑھتے ناقابل برداشت ہوجائیگی گردشی قرضے بھی اسی لئے بڑھ رہے ہیں کہ خود حکومتی وسائل بھی یہ مہنگی بجلی خریدنے کے لئے ناکافی ثابت ہورہے ہیں اس لئے ہر چند ماہ بعد لوڈشیڈنگ کا بحران سنگین ہوجاتا ہے۔ بجلی چوری بھی بڑھ رہی ہے اور گرمیوں کے موسم میں تو کمپنیوں کے عملے کی ملی بھگت سے بجلی چوری میں اضافہ ہوجاتا ہے اور عملے کے یہ لوگ گھر گھر دستک دے کر بجلی چوری کی ترغیب دیتے ہیں ایسے میں لوڈشیڈنگ کا بحران حل نہیں ہوسکتا، بحران کا حل سستی ہائیڈل بجلی کے بغیر ممکن نہیں۔

مزید :

اداریہ -