انتخابات میں بے یقینی کیوں ؟

انتخابات میں بے یقینی کیوں ؟

  

چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ انتخابات کے سوا کوئی آپشن نہیں، الیکشن وقت پر ہوں گے ان میں ایک دن کی تاخیر بھی برداشت نہیں کی جائے گی۔ فوج اور رینجرز سے بھی مدد لیں گے۔ہم نے ہر صورت کامیاب ہونا ہے ، ناکامی کا لفظ میری ڈکشنری میں نہیں،صاف شفاف اور پُرامن انتخابات کا انعقاد یقینی بنائیں گے۔ الیکشن کمیشن کے اجلاس میں سیکیورٹی پلان کو حتمی شکل دی گئی۔کراچی ، کوئٹہ اور پشاور میں امن و امان کی صورت حال پر بھی غور کیا گیا۔ صوبائی حکومتوں کے نمائندوں نے الیکشن کمیشن کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ امن و امان کی صورت حال انتخابات میں التوا کا باعث نہیں بن سکتی۔ صوبے انتخابات کے لئے تیار ہیں۔ اجلاس میں سیکرٹری دفاع نے یہ تجویز پیش کی کہ انتخابات کے موقع پر فوج کو طلب کرنے کا معاملہ کو ر کمانڈرز اور مقامی انتظامیہ پر چھوڑ دیا جائے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ فوج ہر طرح سے مکمل مدد کے لئے تیار ہے۔ اجلاس کے بعد سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ فاٹا اور بلوچستان میں انتخابات کے موقع پر فوج اور پیرا ملٹری فورسز سے بھرپور مدد لی جائے گی۔ ہر پولنگ سٹیشن پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں گے۔

چیف الیکشن کمیشن کی طرف سے امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے دوران انتخابات کے ملتوی نہ ہونے کے متعلق دو ٹوک عزم و ارادے کا اظہار بروقت اور مناسب ہے۔ان کا یہ کہنا بھی بجا کہ امن و امان کی صورت حال انتخابات کے التوا کا باعث نہیں ہوسکتی، لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اگر امن و امان کی فضا اسی طرح بگڑتی رہی تو ووٹرگھروں سے نکلنے کا حوصلہ کم کریں گے۔ اگر خوف و ہراس کی فضا میں صرف 10،15 فیصد ووٹر ہی پولنگ سٹیشنوں پر پہنچے تو الیکشن کمیشن کے باقی سارے انتظامات کے باوجود انتخابات کا سارا عمل متاثر ہو جائے گا۔ چیف الیکشن کمیشن کو یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ الیکشن کمیشن کے سسٹم کے اندر ایک مرکزی کنٹرول اور اس کے سارے اجزا میں مو¿ثر روابط اور نظم و نسق ہی ضروری نہیں ،کسی بھی سسٹم کے باہر کا ماحول بھی ہمیشہ اس پر اثر انداز ہوتا ہے، اور سسٹم تھیوری کے مطابق ایک سسٹم کو ماحول کی تبدیلیوں پر نظر رکھنی پڑتی ہے اور اپنی کامیابی کے لئے خود کو ماحول کے مطابق تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ اس وقت انتخابات ہی قوم کا سب سے بڑا ہدف ہیں اور نگران حکومتوں کے قیام کے بعدآزادانہ ماحول میں منصفانہ انتخابات کرانے کے لئے الیکشن کمیشن کو ہر طرح کے اختیارات حاصل ہیں۔وہ کسی بھی ملکی ادارے سے اس سلسلے میں تعاون طلب کرسکتا ہے۔ اس طرح اس کا سسٹم دوسرے ریاستی سسٹمز پر حاوی ہو کر ان سے بھی اپنے مقاصد کے لئے کام لینے کی پوزیشن میں ہے۔ امن و امان قائم رکھنے کے لئے قائم دوسرے تمام سسٹمز اس کی معاونت کے پابند ہیں۔

موجودہ حالات میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں نے قومی استحکام کے لئے انتخابات کو ضروری سمجھنے والی قوم کے اذہان میں وسوسے پیدا کردئیے ہیں۔ گزشتہ ایک عشرے سے قوم دہشت گردی کی کارروائیوں کو حوصلے اور صبر سے برداشت کرتی چلی آئی ہے اور ریاستی اداروں سے توقع کرتی رہی ہے کہ وہ دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے مو¿ثر اور ٹھوس اقدامات کریں گے ۔ دہشت گردوں کے کئی گروہ بتائے جاتے ہیں اور ان کی کارروائیوں کی وجوہ اور مقاصد بھی مختلف بیان کئے جاتے ہیں ، لیکن ایک چیز یقینی ہے کہ ان سب کی کارروائیوں کا مقصد پاکستانی قوم کے حوصلے پست کرنا اور پاکستان کو ہر ممکن نقصان پہنچانا اور کمزور کرنا ہے۔

ناسازگار حالات کے باوجود میڈیا کی طرف سے عوام میں جمہوری نظام حکومت اور انتخابات کی اہمیت واضح کرنے کے لئے مسلسل کام کیا گیا ہے ، جس کے بعد عوام میں جمہوریت اور اپنے ووٹ کی اہمیت واضح ترہوئی ہے۔لوگوں میں جمہوری عمل میں حصہ لینے اور ووٹ کے صحیح استعمال کے ذریعے اپنا قومی فرض پورا کرنے کا احساس مزید توانا ہوا ہے، لیکن اب جبکہ فیصلے کی گھڑی قریب پہنچی ہے تودہشت گردوں نے عوام کو خوفزدہ کرنے کے لئے اپنی کارروائیاں تیز کردی ہیں، جس کے بعد باقی سب کچھ بھول کر اب قوم کے سامنے انتخابات کے عمل سے سرخرو ہو کر نکلنے کا ہدف ہے۔ اسی سے ہمیں ایک اچھی جمہوریت مل سکتی ہے اور قومی زندگی میں استحکام اور خوشحالی آسکتی ہے۔

انتخابات میں سب سے اہم کردار یقینا سیاسی جماعتیں ادا کرتی ہیں ۔ اپنے اپنے امیدواروں کی کامیابی اور حصول اقتدار کی کوشش کے ساتھ سب سے زیادہ متحرک قوت سیاسی جماعتیں ہی ہوتی ہیں، لیکن یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ بعض سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں اور سیاسی جلسوں اور ریلیوں پر حتیٰ کہ اپنے دفاتر اور گھروں پر بھی دہشت گرد حملوں کے بعد اپنی سرگرمیوں کو محدود کرنے پر مجبور ہورہی ہیں ۔ کراچی میں ایم ، کیو ، ایم کے انتخابی دفتر کے باہر دھماکے سے ایک بار پھر چھ افراد جاں بحق اور16 زخمی ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ چھ افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن گئے ہیں۔ حیدرآباد میں بھی رینجرز ہیڈ کوارٹر پر فائرنگ سے ایک اہلکار شہید ہو گیا۔ نوشکی میں پی پی امیدوارکے دفتر پر حملہ سے ایک کارکن جاں بحق ہو گیا ہے۔ اسی طرح مردان میں بھی اے،این ، پی کے جلسہ میں دہشت گردی کی کوشش کی گئی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران پرتشدد واقعات روکے جائیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما رضا ہارون نے الزام عائد کیا ہے کہ متحدہ کو انتخابی عمل سے روکنے کی سازش ہو رہی ہے۔ اس سب کچھ کے درمیان پی پی پی کے صدر امین فہیم کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ ہوسکتا ہے کوئی چاہتا ہو کہ نگران سیٹ اَپ طول پکڑے۔ اب جبکہ انتخابات میں 15دن باقی رہ گئے ہیں ،غیر یقینی اور پریشانی کی باتیں اور خدشات ختم نہیں ہو سکے۔ یہ صورت حال حوصلہ افزا نہیں ہے۔ عوام کی بھاری اکثریت مہنگائی، لوڈشیڈنگ، بیروزگاری ، ناانصافی اور عدم تحفظ کا شکار ہے۔ لوگ یہ بھی خوب سمجھتے ہیں کہ ملکی امور میں نہ تو ان کی مرضی چلتی ہے ، نہ عام آدمی کے مفادات کو پیش نظر رکھا جاتا ہے، نہ کسی کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنے والا کس طرف سے آگیا ہے اور جانے والا کیوں چلا گیا ہے۔ نظام کی کمزوریوں اور طاقتور کی بالادستی اور رسائی اور اس کے سامنے قاعدے قانون کی رسوائی کا ہر کسی کو علم ہے،جس وجہ سے لوگ کسی بھی وقت کچھ بھی ہوجانے کی توقع کرسکتے ہیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ اگر کوئی انتخابات کے عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے یا ان کے ملتوی ہونے میں دلچسپی رکھتا ہے تو وہ کون ہوسکتا ہے ؟ ظاہر ہے ایسا گروہ ہی ہوسکتا ہے جس کا اس میں فائدہ ہو۔ نگران حکمران جو آئے ہی دو ماہ کے لئے ہیں اور ان کی حیثیت ”ڈنگ ٹپاﺅ“ سے زیادہ کی نہیںہے ، جن کی حالت یہ ہے کہ نہ ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں، وہ یقینا اِس سلسلے میں کوئی شعبدہ دکھانے کی پوزیشن میں نہیں۔ البتہ حالات پر گہری نظریں رکھنے والوں کی نگاہیں بار بار ان اتحادی سیاسی جماعتوں کی طرف اٹھ رہی ہیں جنہوں نے اپنے اقتدار کے پانچ سال پورے کرنے کے باوجود عوام کو مصائب کے سوا کچھ نہیں دیا اور جن کے عوامی قبولیت کے گراف ہر طرح کے عوامی سرویز میں نیچے ہی نیچے جاتے دیکھے گئے ہیں،جو بڑی ہوشیاری سے اپنے ہی لوگوں کو نگران حکومتوں میں لانے کے بعدحقیقتاً اب بھی ہر طرح سے مو¿ثر اور مقتدر ہیں۔ بے یقینی کی فضا دور کرنے کے لئے غیر روایتی انداز میں سوچا اور سمجھا جائے گا تو اصل خطرات کی درست نشاندہی ہوسکے گی۔

مزید :

اداریہ -