پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگایا گیا، پارٹی نے امیدوار اکیلے چھوڑ دیئے؟

پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگایا گیا، پارٹی نے امیدوار اکیلے چھوڑ دیئے؟
 پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگایا گیا، پارٹی نے امیدوار اکیلے چھوڑ دیئے؟

  

ایک طرف مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی قیادت تسلسل سے انتخابی مہم چلا رہی ہے تو دوسری طرف پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدواروں کو شکایت ہے کہ ان کو بالکل اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے اور مرکزی قیادت میں سے کوئی بھی شخصیت امیدواروں کی انتخابی مہم کے کسی جلسے یا ریلی میں شرکت نہیں کر رہی حتیٰ کہ سنٹرل پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو پارٹی کی مجموعی انتخابی مہم چھوڑ کر اوکاڑہ پر توجہ دے رہے ہیں جہاں سے وہ خود بھی دو قومی اور ایک صوبائی حلقے سے امیدوار ہیں۔ لاہور میں قومی اسمبلی کے تیرہ اور صوبائی اسمبلی کے پچیس حلقوں سے پیپلزپارٹی کے امیدواروں کے ایک اجلاس میں اس پر زبردست احتجاج کیا گیا۔ پارٹی کے نئے سیکرٹری جنرل سردار لطیف کھوسہ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں شکایات کے انبار لگا دیئے گئے اور مطالبہ کیا گیا کہ پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کو کم ازکم ایک جلسے سے ضرور خطاب کرنا چاہئے اور اس کے لئے حفاظتی انتظامات موثر کن کئے جا سکتے ہیں۔

ادھر یہ شکایت اور مطالبہ ہو رہا تھا کہ دوسری طرف بلاول بھٹو زرداری اپنے والد آصف علی زرداری کے ساتھ مذاکرات اور مشاورت کے بعد دبئی روانہ ہو گئے ہیں، وہ اس سے پہلے بلاول ہاﺅس کراچی سے ویڈیو لنک کے ذریعے رابطے میں تھے۔ اگرچہ صدارتی ترجمان فرحت بابر نے یہ کہا کہ بلاول جلد واپس آ جائیں گے تاہم پیپلزپارٹی پارلیمینٹیرین کے صدر مخدوم امین فہیم کہتے ہیں کہ بلاول پارٹی کی انتخابی مہم نہیں چلائیں گے۔ بلکہ سندھ میں وہ (مخدوم) اور پنجاب میں سابق وزیر اعظم مخدوم یوسف رضا گیلانی یہ فرائض انجام دیں گے تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ دونوں رہنماﺅں کب اور کہاں کہاں انتخابی جلسوں یا ریلیاں سے خطاب کریں گے۔ اس سے قبل یہ بتایا گیا تھا کہ انتخابی مہم خود بلاول چلائیں گے جنہوں نے ویڈیو لنک خطاب سے آغاز بھی کیا ہے اور وہ چاروں صوبوں کے ایک ایک بڑے جلسے سے ضرور خطاب کریں گے جو ویڈیو لنک کے ذریعے ہو گا کہ سیکورٹی کا تقاضا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کی دوسری مرتبہ روانگی کو بھی اچانک قرار دیا گیا اور میڈیا والوں نے اسے بھی والد سے ناراضی کا شاخسانہ قرار دیا اگرچہ بعض حلقے جمعرات کو کراچی میں متحدہ کے دفاتر پر بم حملے کو بھی اس کی ایک وجہ قرار دیا گیا ہے۔ بہرحال یہ تو پہلے سے طے تھا کہ پیپلزپارٹی کی انتخابی مہم مخدوم امین فہیم اور مخدوم یوسیف رضا گیلانی کے ساتھ راجہ پرویزاشرف ،قمر زمان کائرہ اور سید خورشید شاہ کے ذمہ ہوگی۔ لیکن ابھی تک ان میں سے کسی صاحب نے کسی بھی صوبے میں کسی ریلی یا جلسے سے خطاب نہیں کیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ حضرات بھی حالات کا شکار ہو کر اپنے اپنے حلقوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں، پارٹی کے امیدوار اب بھی زور دے رہے ہیں کہ خوف سے بالا تر ہو کر انتظامات کئے جائیں اور جلسوں کا اہتمام کیا جائے۔

اس سلسلے میں پیپلزپارٹی لاہور کے بعض سینئر حضرات نے جو پارٹی کے اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز رہے اور صائب الرائے ہیں تشویش کا اظہار کیا ۔ان کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کو بہت ہی ہوشیاری سے پھنسا لیا گیا ہے اور کھلم کھلا پری پول رگنگ ہو رہی ہے طالبان اور انتہا پسند تنظیموں کے ہم خیال یا ان سے کسی نہ کسی حوالے سے تعلقات اور ہمدردانہ رویہ رکھنے والے رہنماﺅں اور پارٹیوں کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ وہ کھلم کھلا آزادی کے ساتھ انتخابی مہم چلا رہے ہیں الیکشن کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ان سے کوئی تعرض نہیں کیا جاتا پیپلزپارٹی کی شکایات کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے ایسے میں ایک ہی بات واضح ہوتی ہے کہ ملک میں اعتدال پسندی اور لبرل جماعتوں کو ختم کرکے مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ایسے طبقات کے لئے کوئی مجبوری اور پابندی نہیں ہے۔اس سے پہلے متحدہ اور اے این پی والے بھی احتجاج کر چکے ہوئے ہیں۔ متحدہ کے دفاتر پر تواتر سے حملے ہوئے ہیں۔

ان حالات میں چیف الیکشن کمشنر کی صدارت میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں یہ دعویٰ کر دیا گیا کہ امن و امان بحال رہے گا اور انتخابات میں ایک روز کی بھی تاخیر نہیں ہو گی۔ الیکشن کمیشن نے فوج اور رینجرز کے تعاون کے لئے صوبوں کو اختیار دیا ہے۔ ان سطور میں پہلے بھی گزارش کی گئی اب پھر کہا جا رہا ہے کہ صرف اجلاس اور بیان سے کچھ نہیں ہو گا الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کو قومی سلامتی کے اداروں کے تعاون سے امن و امان کے حوالے سے ہدف والی تینوں جماعتوں کو جلسے کرنے کے مساوی مواقع ملیں گے دوسری صورت میں الیکشن کے بعد بھی الیکشن کی حیثیت پر سوال اٹھیں گے۔

مزید :

تجزیہ -