پیپلز پارٹی کو کیا ہوا؟

پیپلز پارٹی کو کیا ہوا؟
 پیپلز پارٹی کو کیا ہوا؟

  

عوام نے پیپلز پارٹی کو انتخابات سے پیشتر ہی مسترد کر دیا ہے کیونکہ یہ تو پھر ایک سیاسی جماعت کا معاملہ ہے جس میں بھانت بھانت کی بولی بولنے والے شامل ہیں، یہاں تو اولاد ایسے باپ کو خاطر میں نہیں لاتی جو ضروریات پوری نہیں کرپاتا ، اس لئے جو حلقے سمجھتے ہیں کہ عوام کارکردگی کے بجائے جذبات کے تابع ووٹ دیتے ہیں ان کو اپنی سوچ کا انداز بدلنا چاہئے!

یہ بھی مان لیا جائے کہ جیالوں نے آصف زرداری کو ذوالفقار علی بھٹو یا بےنظیر بھٹو کا متبادل تسلیم نہیں کیا ہے اوریہ بھی کہ بلاول بھٹو کو ابھی وہ اس قابل نہیں سمجھتے کہ اس کی اپیل پر دوبارہ سے آصف علی زرداری کے ہاتھ حکومت کی باگ ڈور تھمادیں، جیالوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ عمران کو ووٹ دینا چاہتے ہیںاور عمران خان پیپلز پارٹی کی واٹ لگارہا ہے، پیپلز پارٹی اب ایک بڑی نہیں بلکہ بوڑھی سیاسی جماعت ہے، مسلم لیگ اس سے زیادہ بوڑھی ہونے کے باوجود اس لئے جوان ہے کہ ہر دور میں اپنا لیڈر بدل لیتی ہے جبکہ پیپلز پارٹی بھٹو خاندان سے باہر نہیں نکل سکی ہے ، دوسری جانب شریف فیملی مسلم لیگ پر قابض تو کہی جا سکتی ہے ، اس کی خالق نہیں مانی جا سکتی !

پیپلز پارٹی کو مالیخولیا ہوگیا ہے، اس نے تکرار کر کر کے لفظ بھٹو کا بھٹہ بٹھادیاہے،لوگوں کو روٹی، کپڑا اور مکان بھول گیا ، بھٹو یاد رہ گیا ، لیکن خالی بھٹو سے کام نہیں چلایا جا سکتا،جئے بھٹوکہنے سے گئی ہوئی بجلی واپس نہیں آتی، یہ ٹھیک ہے کہ کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے لیکن آج کا جیالا زندگی سے اتنا خوش نہیں ہے جتنا مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں تھا، پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ گیا ہے، کرپشن کارکردگی کو کھا گئی ہے، کیا سار ا زرداری قبیلہ اتنا ہی خوش حال ہوگا جتنا صدر آصف زرداری کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے ، شاید!

پیپلز پارٹی کمزور ہو گئی ہے، جیالے تھک گئے ہیں،بھٹو سے پیار اپنی جگہ لیکن اس سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے، بے نظیر بھٹو کی قربانی برحق مگر مر مر کر جینے والے جیالے اب تبدیلی چاہتے ہیں، ووٹ تقسیم پہ مائل ہے، نظریہ نحیف پڑتا جا رہا ہے، الیکٹرانک میڈیا نے جیالوں کو روٹی، کپڑا اور مکان سے آگے کی سوچ دے دی ہے، اب وہ روٹی کے ساتھ بوٹی، کپڑے کے ساتھ کڑا اور مکان کے ساتھ مال بھی مانگتے ہیں !

کرپشن میں خرابی یہ ہوتی ہے کہ اس سے جوبھی یاری لگاتا ہے ، بدنامی اس کا مقدر بن جاتی ہے، پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، لوگوں نے اس کو کرپشن کے ساتھ گھومتے دیکھا اور لگے باتیں بنانے، ممکن تھا کہ جیالے اس دوستی کو بھی برداشت کر لیتے اگر پارٹی قیادت نے ان کے مسائل کی طرف بھی توجہ دی ہوتی، خاص طور پر پنجاب میں جہاں بجلی نہ آنے کے بجائے بجلی کا آنا اب ایک خبر سمجھا جاتاہے، بجلی کی لوڈ شیڈنگ پیپلز پارٹی کو کھا گئی ، پھر پنجاب میں پارٹی کی پاگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دیئے رکھی جو سیاست کی الف ب سے واقف ہوں تو ہوں قیادت کی ابجد بھی نہیں جانتے تھے، زرداری صاحب نے انہیں بی ایم ڈبلیو میں بٹھادیا اور وہ یہ تک نہ جانتے تھے کہ اس میں چابی کہاں لگتی ہے ، چنانچہ خالی منہ سے گھوں گھوں کی آواز نکال کر جھوٹ موٹ کا سٹیرنگ گھما گھما کر اردگرد کھڑے لوگوں کو دکھاتے رہے، لوگوں نے کچھ دیر تو یہ تماشہ دیکھا پھر اکتا کر گھروں کو چلے گئے اور اب انتخاب سر پر آیا ہے تو گھروں سے نکلنے کو تیار نہیں ہیں، اگر تھے تو ان کی شخصیت میں ذرہ برابر جاذبیت اور عوامی پن نہ تھا، بس یوں سمجھئے کہ مسلط تھے اور عوام ان کے تسلط سے خائف، صدر زرداری کئی بار گرجے کہ لاہور کو قلعہ بنائیں گے، یہاں ڈیرے جمائیں گے ، مگر الیکشن کے موقع پر لاہور تو کیا لاڑکانہ میں بھی نظر نہیں آرہے،ایوان صدر میں بیٹھ کر وہ استثنیٰ تو حاصل رہا جس کی عدم موجودگی میں انہیں بہت پہلے قانونی تقاضوں کا سامنا کرنا پڑتا لیکن نقصان یہ ہوا کہ وہ سیاسی سرگرمیوں سے بالکل کٹ کر رہ گئے ، اب صدارت کا عہدہ ان سے اگلا جا رہا ہے نہ نگلا جا رہا ہے ، اور بلاول ہے کہ ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے!

اس میں شک نہیں کہ بلاول بھٹو کی جان کو دہشت گردوں کے ہاتھوں سخت خطرہ ہے ، ایک بلاول ہی کیا ہر بھٹو کو خطرہ ہے اس ملک میں ، اس لئے اب کے پیپلز پارٹی کی الیکشن مہم بہت پھیکی ہے ، زرداری صاحب کی شگفتہ بیانی اور بہت بڑی مسکراہٹ بھی اس میں رنگ بھرنے کے قابل نہیں ہے ، فریال تالپور کو بھی جس کام پر لگایا گیا ہے وہ ان کے بس کا نہیں لگتا!

اندریں حالات پیپلز پارٹی کے ووٹروں سپورٹروں نے ساری توجہ عمران خان پر مرکوز کرلی ہے، ان کا خیال ہے کہ عمران خان کی سپورٹ ہی آصف زرداری کی سپورٹ ہے ، پیپلز پارٹی کی قیادت بھی کہتی نظر آتی ہے کہ مرکزی پنجاب میں عمران خان نواز شریف کے لئے کافی ہوگا، باقی کا ہم سنبھال لیں گے ، لیکن جب یہ بات شہباز شریف کہتے ہیں تو صدر زرداری کو برا لگتا ہے!

میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں !

مزید :

کالم -