کراچی میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے دفاتر پر بم حملے، 10 سالہ بچی سمیت 6 افراد جاں بحق،32 زخمی، ایم کیو ایم کا سندھ بھر میں یوم سوگ منانے کا اعلان

کراچی میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے دفاتر پر بم حملے، 10 سالہ بچی سمیت 6 ...
 کراچی میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے دفاتر پر بم حملے، 10 سالہ بچی سمیت 6 افراد جاں بحق،32 زخمی، ایم کیو ایم کا سندھ بھر میں یوم سوگ منانے کا اعلان

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) شہر قائد میں یکے بعد دیگرے تین بم دھماکوں میں 10 سالہ بچی سمیت 6 افراد جاں بحق اور 32 زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بیان کی جا رہی ہے جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دھماکے کے نتیجے میں قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور قریب کھڑی گاڑیوں کو نقصان پہنچا جبکہ علاقے کی بجلی معطل ہو جانے کے بعد امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا رہا۔ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے قصبہ کالونی میں یونٹ آفس پر دھماکوں کے خلاف کل سندھ بھر میں یوم سوگ منانے اور تاجروں اور ٹرانسپورٹرز سے کاروبار بند رکھنے کی اپیل کی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلا دھماکہ اورنگی ٹاﺅن کے علاقے قصبہ کالونی میں موجود ایم کیو ایم کے یونٹ آفس کے قریب کھڑی پک اپ کے نیچے ہوا جبکہ دوسرا دھماکہ آفس کی پچھلی گلی میں موجود امام بارگاہ ’مسجد علی‘ کے دروازے پر ہوا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکے میں 3 افراد جاں بحق اور 14 افراد زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق دھماکے میں بارودی مواد کے ساتھ چھرے، کیلیں اور بال بیرنگ استعمال کئے گئے۔ تیسرا دھماکہ لیاری کے علاقے کمہارواڑہ میں ہوا جس کے نتیجے میں 10 سالہ بچی سمیت 3 افراد جاں بحق ہو گئے ۔ جیو نیوز نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ دھماکے کے وقت قومی اسمبلی کے حلقہ 249 میں پیپلز پارٹی کی کارنر میٹنگ ہو رہی تھی۔ جیو نیوز کے مطابق پیپلز پارٹی کے مقامی امیدوار عدنان بلوچ کارنر میٹنگ سے خطاب کیلئے وہاں آ رہے تھے کہ گلی نکڑ پر کھڑی موٹر سائیکل میں نصب مواد کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑا دیا گیا جس کے نتیجے میں 10 سالہ بچی سمیت 3 افراد جاں بحق اور پیپلزپارٹی کے امیدوار عدنان بلوچ سمیت 18 افراد زخمی ہو گئے جن میں متعدد خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو لیاری جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ نگران وزیر داخلہ ملک حبیب نے دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے دھماکے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ، پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، تحریک انصاف، ق لیگ، مسلم لیگ ن اورجماعت اسلامی نے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔ مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے باوجود انتخابات میں حصہ لینا حوصلے کی بات ہے، انہیں دہشت گردی کا نشانہ بننے والی سیاسی جماعتوں سے ہمدردی ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسین کا کہنا تھا کہ کراچی اور سبی میں دھماکے انتخابات ملتوی کرانے کی سازش ہے، بعض عناصر عوام کو خوفزدہ کر کے انتخابات ملتوی کرانا چاہتے ہیں۔

مزید :

کراچی -Headlines -