اگر آپ کو بھی ہوٹل کے کمرے میں نیند نہیں ا ٓتی تو یہ خبر ضرور پڑھ لیجئے، سائنسدانوں نے ’راز‘ بے نقاب کردیا

اگر آپ کو بھی ہوٹل کے کمرے میں نیند نہیں ا ٓتی تو یہ خبر ضرور پڑھ لیجئے، ...
اگر آپ کو بھی ہوٹل کے کمرے میں نیند نہیں ا ٓتی تو یہ خبر ضرور پڑھ لیجئے، سائنسدانوں نے ’راز‘ بے نقاب کردیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن(نیوزڈیسک) اگر آپ کو اپنے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ جیسے ہوٹل میں سونے کا اتفاق ہوا ہو تو آپ نے یہ چیز دیکھی ہوگی کہ انتہائی پرآسائش اور آرام دہ بسترہونے کے باوجود نیند ہی کے آنے کا نام ہی نہیں لیتی۔اب سائنسدانوں نے اس راز سے پردہ اٹھا کر اس کی وجہ بتادی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ہم کسی اجنبی جگہ پر پہلی رات کو سوتے ہیں تو ہمارا بائیں دماغ جاگتا رہتا ہے اور نامانوس جگہ ہونے کی وجہ سے ہم نیم خوابیدہ حالت میں ہوتے ہیں۔براؤن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے 35صحت مند مرد وخواتین کے دماغ کا اس وقت سکین کیا جب وہ سورہے تھے۔یہ سکین دو بار کئے گئے،پہلی بار یہ سکین تب ہوا جب یہ لوگ اجنبی جگہ پر پہلی رات گزار رہے تھے اور دوسرا سکین ایک ہفتے بعد کیا گیا۔یہ بات دیکھنے میں آئی کہ پہلی رات دماغ کا بائیاں حصہ اس وقت بھی جاگ رہا تھا جب انسان گہری نیند میں تھا۔ہمارا بائیاں دماغ جسم کے دائیں حصے کو کنٹرول کرتا ہے اور یہ لوگ تھوڑی تھکان کا شکار رہے لیکن ایک ہفتے بعد جب دوبارہ سکین ہوا تو تمام دماغ سوتے ہوئے پایا گیا۔’کرنٹ بائیولوجی جرنل‘میں لکھتے ہوئے ریسرچرز کا کہنا ہے کہ غیرمانوس جگہ پر سوتے ہوئے ہمار دماغ حفظے ماتقدم کے طور پر جاگ رہاہوتا ہے اور کسی بھی ناگہانی صورتحال پر قابو پانے کے لئے جسم کو تیار رکھتا ہے تاہم یہ بات واضح نہیں ہوسکی کہ صرف بائیں دماغ کو ہی یہ ڈیوٹی کیوں دینی ہوتی ہے۔ایک جاپانی تحقیق کار یوکاساساکی کا کہنا ہے کہ جاپان میں ایک کہاوت ہے کہ اگر آپ اپنا تکیہ تبدیل کریں گے تو نیند نہیں آسکے گی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس