غیر ریاستی باشندوں کو کشمیرمیں بسانے کا منصوبہ اور طالب علموں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ ترک نہ کرنے کے سنگین نتائج نکلیں گے، حریت کانفرنس

غیر ریاستی باشندوں کو کشمیرمیں بسانے کا منصوبہ اور طالب علموں کو ہراساں کرنے ...

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارت اور اس کی کٹھ پتلی انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ غیر ریاستی باشندوں کو کشمیرمیں بسانے کا منصوبہ اور طالب علموں کو ہراساں اور گرفتار کرنے کا سلسلہ ترک نہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری ان پر عائد ہوگی۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق حریت کانفرنس کی مجلس شوریٰ کاایک اجلاس سرینگر میں کانفرنس کے معاون جنرل سیکریٹری غلام نبی سمجھی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں واضح کیا گیا کہ جموں وکشمیر میں ہر فرد کے پاس اپنا گھر ہے اور یہاں کا کوئی باشندہ بے گھر نہیں ہے جبکہ بھارتی حکومت بے گھر افراد کی بازآباد کاری کے نام پر یہاں غیر ریاستی باشندوں کو بسانا چاہتی ہے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ بھارتی حکومت جموں و کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کے ایک طویل مدّتی منصوبے پر عمل پیرا ہے اور کبھی غیر ریاستی مہاجرین اور ریٹائرڈ فوجیوں کو مستقل شہریت دینے اور کبھی پنڈتوں کے لیے علیحدہ کالونیاں قائم کرنے کے منصوبے بنا رہی ہے۔ اسی طرح بھارتی حکومت نے اس دفعہ بے گھر افراد کے لیے مفت گھر تعمیر کرنے کے نام پر ایک اور خطرناک منصوبہ تیار کیاہے جس کا واحدمقصدیہاں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔ اجلاس نے بھارتی پولیس کی طرف سے سرینگر کے علاقے ایچ ایم ٹی میں ساتویں اور آٹھویں جماعت کے طلباء سمیت 80 نو عمر طالبعلموں کو سمن بھیجنے کی شدید مذمت کی ۔ اجلاس میں کہا گیا کہ بھارتی پولیس نے سمن کے ذریعے نوعمر طلباء کو پولیس تھانے پر حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔ اجلاس میں ایچ ایم ٹی کے صنعتی علاقے میں قائم بھارتی پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے کیمپ کو فوری طور پر ہٹانے اور گزشتہ سال نومبرمیں کیمپ کے ڈپٹی کمانڈنگ آفیسر کے ہاتھوں شہید ہونے والے نوجوان گوہر احمد ڈار کے قتل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ۔ اجلاس میں کہا گیا کہ یہ کیمپ پورے علاقے کے لیے وبال جان بنا ہوا ہے اور سی آر پی ایف نے اس زمین پر غیرقانونی طور پر جبری قبضہ کیا ہوا ہے جبکہ کیمپ کے اہلکار علاقے کے بچوں کو ہراساں کررہے ہیں۔ اجلاس میں کانفرنس میں شامل تمام تنظیموں کے سربراہوں یا ان کے نمائندوں نے شرکت کی۔

مزید : عالمی منظر