جنرل قاسم سلیمانی آئندہ سال ہونیوالے انتخابات کے صدارتی امیدوارہونگے

جنرل قاسم سلیمانی آئندہ سال ہونیوالے انتخابات کے صدارتی امیدوارہونگے

دبئی(آن لائن)عرب ٹی وی نے اپنی ایک کی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں آئندہ سال ہونیوالے صدارتی انتخابات کیلئے کئی امیدوار پرتول رہے ہیں ان میں پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم ایلیٹ فورس’’فیلق القدس‘‘ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی بھی شدت پسند حلقوں کی جانب سے صدارتی امیدوار ہوں گے۔عرب ٹی وی کے مطابق ایران میں بنیاد پرست حلقوں کی مقرب خیال کی جانے والی ویب سائیٹ’’دولت بہار‘‘ایران مخالف جنگ کے انسداد کے لیے سرگرم تزویراتی مرکز’’عمار‘‘کے سربراہ اور سخت گیرعالم دین مہدی طائب کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر دباؤ ڈالے گی تاکہ وہ جنرل قاسم سلیمانی کو صدارتی امیدوار نامزد کریں۔ مہدی طائب کا کہنا ہے کہ پیش آئند صدارتی انتخابات کے لیے جنرل سلیمانی سے بہتر اور موزوں امیدوار اور کوئی نہیں ہوسکتا ہے۔یاد رہے کہ جنرل قاسم سلیمانی نے بیرون ملک عسکری کارروائیوں بالخصوص شام اور عراق میں وہاں کی کٹھ پتلی ایرانی حکومتوں کو سپورٹ کرتے ہوئے عالمی شہرت حاصل کی ہے۔ایران کے سرکاری دستور میں کسی بھی فوجی عہدیدار کو اس فوج سے سبکدوشی کی صورت میں کسی بھی قسم کے انتخابات میں حصہ لینے کا مجاز سمجھا جاتا ہے۔ 2009ء میں بھی پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ جنرل محسن رضائی اپنی قسمت آزمائی کرچکے ہیں۔ تاہم 2009ء ں دوسری مرتبہ رہبر اعلیٰ کے مقرب محمود احمدی نڑاد نے کامیابی حاصل کی تھی۔جنرل قاسم سلیمانی کا اپنا ماضی داغ دار ہے۔ 2007ء میں امریکا اور 2011ء میں یورپی یونین نے دہشت گرد قوتوں کی معاونت کے الزام میں جنرل سلیمانی کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔خیال رہے کہ ایران میں جنرل سلیمانی کے آئندہ انتخابات میں صدارتی امیدوار بنائے جانیسے متعلق خبریں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب دوسری جانب ملک کی طاقت ور فوج اور صدر حسن روحانی کے درمیان گہرے اختلافات کی خبریں گردش کررہی ہیں۔ حال ہی میں پاسداران انقلاب کے چیف جنرل محمد علی جعفری نے ایک ٹی وی انٹرویو میں الزام عاید کیا تھا کہ اصلاح پسندوں کے نمائندہ سمجھے جانے والے صدر اور ان کے حامی قومی مفادات پردشمن سے ساز باز کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاسداران انقلاب کا ملک کی سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی پالیسیوں کے حوالے سے نقطہ نظرحکومت سے مختلف ہے۔صدر حسن روحانی اور فوج کے درمیان کشیدگی نئی نہیں۔ رواں سال فروری میں منعقد ہونے والے پارلیمانی اور رہبری کونسل کے انتخابات میں اصلاح پسندوں کی کامیابی کے بعد بھی اصلاح پسند صدر اور قدامت پسندوں کے درمیان محاذ گرم ہوگیا تھا۔

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...